آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عید کی چھٹیوں میں دو اہم خبریں ملیں، ایک یہ کہ فوجی افسران نے رضاکارانہ طور پر تنخواہوں میں اضافہ لینے سے انکار کر دیا ہے، فوج نے دفاعی بجٹ میں اضافے سے بھی گریز کیا ہے۔ دوسری اہم خبر یہ تھی کہ شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا ایک دھماکہ ہوا، اس دھماکے میں فوجی افسران نے دھرتی پر لہو قربان کر کے خود کو سرخرو کر لیا ہے۔

میں ان دو خبروں میں گم ہوں اور حضرت علیؓ کے اس فرمان پر غور کر رہا ہوں کہ ’’وطن سے محبت ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے‘‘۔ چودہ سو برس پہلے باب العلم کی نگاہ وطن کے غداروں کو دیکھ رہی تھی، آج مسلمان ملکوں کی حالت دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تقریباً ہر مسلمان ملک میں غدار موجود ہیں، اتفاق سے پاکستان بھی ایسے ملکوں میں شامل ہے، جہاں کئی قسم کے غدار پائے جاتے ہیں۔ یہاں ایک موم بتی مافیا ہے جو ہماری روایات سے غداری کرتا ہے، جو غیر ملکی ایجنڈے کو پورے ملک میں پھیلانا چاہتا ہے، یہ طبقہ ہم سے قومی تشخص چھیننا چاہتا ہے۔ چند بڑے شہروں میں چار چار عورتوں پر مشتمل یہ ٹولہ آئے دن پلے کارڈز کا کھیل کھیلتا ہے۔ ہمارے ملک میں کچھ دیسی لبرلز بھی ہیں، یہ طبقہ بھی نام نہاد سول سوسائٹی سے ملتا جلتا ہے اس کا کام بھی ہماری اعلیٰ اخلاقی روایات سے غداری ہے۔ کچھ ہمارے جمہوریت سے ’’خیرات‘‘ حاصل کرنے والے صحافی اور دانشور ہیں، یہ ہمیں جمہوریت کے نام پر دفاع پاکستان کے خلاف ورغلاتے ہیں، ان میں سے کئی ایک تو مذہب اور فوج کے خلاف ہر وقت زہر اگلتے رہتے ہیں دولت کی محبت میں یہ لوگ وطن سے محبت بھول جاتے ہیں، ہمارے گلستان میں پیدا ہونے والے ان پودوں کو ڈالروں کی کھاد ملتی ہے۔ ہماری بیورو کریسی میں بھی ایسے افراد ہیں جنہیں اس ملک سے کوئی غرض نہیں کیونکہ بیوی بچے دوسری شہریت حاصل کر چکے ہوتے ہیں، کچھ کی تو بیویاں ہی غیر ملکی ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے بچے بیرونی دنیا میں رہتے ہیں، وہیں پڑھتے ہیں اور وہیں منی لانڈرنگ کا پیسہ سنبھالتے ہیں۔ سول سروس کے کئی لوگ فوج اور سیاستدانوں کو خراب کہنے میں لگے رہتے ہیں۔ پاکستان میں نوکر شاہی سچے اور کھرے پاکستانیوں پر حکمرانی کرتی ہے، ان کا شاہانہ ٹھاٹھ ملکی دولت ہڑپ کرنے کے باوجود سلامت رہتا ہے۔

غداروں کی پانچویں قسم تعلیم سے جڑی ہوئی ہے۔ کچھ لوگ تعلیم کے نام پر تجارت کر رہے ہیں، یہ لوگ ہمارے لوگوں سے پیسے بٹورنے کے علاوہ روایات چھین رہے ہیں، یہ غدار ہماری اگلی نسل کو وطن اور مذہب سے دور کر رہے ہیں، ان کے نصاب میں وہ سب کچھ شامل ہے جو دھرتی سے دور کرتا ہے۔ ہاں مجھے یاد آیا کہ غداروں کی اس فہرست میں ان لوگوں کے نام بھی شامل کر لیں جنہوں نے بھارت کو ڈیم بنانے دیئے اور خود چپ رہے، ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے ہاں ڈیم نہ بنائے۔ اگر لسٹ لمبی ہونے کا ڈر نہیں تو اس میں وہ تمام سفارت کار بھی ڈال لیں جنہوں نے بیرونی دنیا میں شادیاں کر رکھی ہیں، بیرونی دنیا میں کاروبار سیٹ کر رکھے ہیں، جو پاکستان کے لئے سفارت کاری کرنے گئے اور وہاں جا کر بھول گئے مگر اپنے مفادات کا خیال کرتے رہے۔

ہمارے ہاں مذہبی منافرت پھیلانے والے غدار بھی ہیں جو ملک میں بدامنی پیدا کرنے کیلئے حد سے گزر جاتے ہیں۔کچھ غدار لسانیت کا سہارا لیتے ہیں، یہ لسانی بنیادوں پر زہر گھولتے ہیں اور کچھ غدار قومیت کے نام پر فسادات برپا کرتے ہیں، کچھ نے یہ فراڈ جمہوریت کے نام پر جاری کر رکھا ہے، یہ لوگ اپنے ملک کا پیسہ لوٹ کر بیرونی دنیا کو آباد کرتے ہیں، ان کے بچے باہر پڑھتے ہیں، جائیدادیں باہر ہیں، علاج باہر ہوتا ہے اور ’’درد‘‘ عوام کا ہے۔یہ اپنی ہی فوج کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

خواتین و حضرات! فوج نے اپنے غداروں اور کرپٹ افراد کو سزائیں دی ہیں، کسی اور ادارے نے ایسا کیوں نہیں کیا، سب فوج پر تنقید کرتے تھے، فوج نے تو کسی غدار یا کرپٹ کو برداشت نہیں کیا، تم کیوں برداشت کر رہے ہو؟ ہم سب وطن پرست تو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں، تم کسی دوسرے کا نعرہ کیوں لگاتے ہو؟ پروفیسر امین جاوید کے داماد جنید سلیم کا ایک ٹویٹ رہ رہ کر یاد آتا ہے ’’میرے ٹیکس پر پلنے والی فوج میرے لئے جانیں دے رہی ہے اور میرے ٹیکس کا پیسہ لوٹنے والے سیاستدان میرے ملک کو توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں‘‘۔

پاکستانیو! ہوش کے ناخن لو، اپنا ملک بچائو، تمہارے چھ سات دشمن نوچنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، تم اپنی صفوں میں سے غداروں کا صفایا کر دو، کسی کا تعلق فوج سے ہو یا بیورو کریسی سے، کوئی دانشور ہو یا سول سوسائٹی کی ’’مجاہدہ‘‘ مولوی ہوں یا عدالت میں براجمان ہستیاں، کوئی صنعت کار ہو یا تعلیم کا تاجر، کوئی بینکر ہو یا بدمعاش، جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہے، اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے، اس کا صفایا کر دو، پانچ ہزار افراد کی قربانی سے بائیس کروڑ عوام کا ملک بچ جائے گا، تگڑے ہو جائو، مصلحتیں چھوڑ دو، یہ مذاکرات کے دھندے چھوڑ دو، غداروں اور منافقوں سے مذاکرات نہیں ہوتے، غدار اور منافق سزا کے مستحق ہوتے ہیں، بس انہیں سزا دو، جیسے جنرل باجوہ نے فوجی افسران کو لٹکایا ہے۔ بقول شاعر:

تسکین نہ ہو جس سے، وہ راز بدل ڈالو

جو راز نہ رکھ پائے، ہم راز بدل ڈالو

دشمن کے ارادوں کو ہے زیر اگر کرنا

تم کھیل وہی کھیلو، انداز بدل ڈالو