• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند روز میں بڑے فیصلے کریں گے، تجارتی اور جاری اخراجات کا خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، ڈیفالٹ کا خطرہ، مشیرخزانہ

اسلام آباد (تنویر ہاشمی ) وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور عبدالحفیظ شیخ نے مالی سال 2018-19ء کا اقتصادی سروے جاری کردیا ہے جس کے مطابق زراعت ، صنعت ، خدمات کے شعبے سمیت کوئی اہم ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا ، حکومت سرمایہ کاری اور بچتوں کا ہدف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ، اقتصادی شرح نمو ہدف 6.2؍ کے مقابلےمیں 3.29؍ فیصد رہی۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی سروے پیش کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قرضے میں اضافےکے اعتراف کے ساتھ جڑواں خساروں کرنٹ اکائونٹ اور بجٹ خسارے کو ملکی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان دونوں خساروں سے نہ نمٹا گیا تو ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے ، کرنٹ اکائونٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 20؍ ارب ڈالر پر پہنچ گیا ، تجارتی خسارہ 32؍ ارب ڈالر ہوگیا ، آئندہ چند روز میں بڑے فیصلے کریں گے جبکہ ایک دو سال بھی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، گزشتہ دس برسوں میں ڈالر کمانے کی استطاعت صفر رہی، سابقہ حکومت نے آمدنی سے 2300؍ ارب زیادہ اخراجات کئے، قرضوں پر 3ہزار ارب کا سود دینا پڑ رہا ہے ، ڈالر لیکر خوشحالی نہیں لاسکتے ، ادارے اندر سے کھوکھلے ہوچکے ، غریبوں کو صحت و تعلیم کی سہولتیں نہیں دی گئیں ،امیر ٹیکس نہیں دینا چاہتے، لگژریز پر ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے ، فی کس آمدن کم ہو گئی اور گزشتہ برس کے 1641ڈالر سالانہ کے مقابلے میں رواں برس فی کس آمدن 1497ڈالر رہی۔ اس موقع پر مشیر امور تجارت عبدالرزاق دائود ، وزیر بجلی عمر ایوب، وزیر مملکت ریونیو حماداظہر ، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ ، چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی بھی موجود تھے۔ تفصیلات کےمطابق مالی سال 2018-19ء کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا ، وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی سروے کا اجراء کیا۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق زراعت ، صنعت ، خدمات کے شعبے سمیت کوئی اہم ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا ، اقتصادی شرح نمو ہدف 6.2؍ کے مقابلےمیں 3.29؍ فیصد رہی، زراعت کی شرح نمو ہدف 3.8؍ فیصد کے مقابلے میں 0.85؍ فیصد، صنعت کی شرح نمو ہدف 7.6؍کے مقابلے میں 1.40؍ فیصد ، خدمات کے شعبے میں ہدف 6.5کے مقابلے میں 4.71فیصد شرح نمو رہی ، جولائی سے اپریل کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح7فیصد رہی جبکہ گزشتہ برس مہنگائی کی اوسط شرح 3.77؍ فیصد تھی، برآمدات میں 1.9؍ فیصد اور درآمدات میں 4.9؍ فیصد کمی ہوئی اس طرح تجارتی خسارہ میں 7.3؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ، بیرونی سرمایہ کاری جولائی تا اپریل کے دوران 5.17؍ فیصد کمی ہوئی ، ترسیلات زر میں 8.45؍ فیصد اضافہ ہوا، کرنٹ اکائونٹ خسارے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 26.9؍ فیصدکمی ہوئی اور جولائی تا اپریل کے دوران یہ 11؍ ارب 58؍ کروڑ ڈالر پر آگیا جو کہ گزشتہ برس اس عرصے کے دوران 15؍ ارب 86؍ کروڑ ڈالر تھا، مارچ 2019ء میں پاکستان کا مجموعی قرضہ 28607؍ ارب روپے تھااور گزشتہ نوماہ کے دوران قرضے میں 3655؍ ارب روپے اضافہ ہوا، پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.4؍ فیصد رہی ، بیروزگاری کی شرح 5.79؍ فیصد رہی ،جی ڈی پی کے لحاظ سے ریونیو 15.1؍ فیصد رہا تاہم رواں مالی سال کےپہلے نو ماہ میں ریونیو میں صفر گروتھ رہی۔ مشیر امور خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں اور کئی کمزوریاں بھی ہیں ، اقتصادی سروے کو غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے اور عوام کے سامنے درست پوزیشن رکھی گئی ہے، حکومت معیشت کو استحکام دینے کے لیے اقدامات کررہی ہے انہوں نے گزشتہ برس کی معاشی صورتحال کے بارے میں بتایاکہ معیشت کی جو کمزوریاں ابھر کر سامنے آئی ہیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اس جگہ کیوں کھڑے ہیں ، پاکستان کے پاس بے پنا ہ وسائل ہیں اور زبردست لوگ ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہر چند سال بعد ہمیں آئی ایم ایف کےپاس جانا پڑتا ہے اور عوام کی امیدوں پر بھی پورا نہیں اُتر سکتے، انہوں نے کہا کہ حکومت بھی ایمانداری سے بتانا ہوگا کہ آخر کیاوجہ ہے کہ ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے ، انہوں نے کہا کہ جب 2018ء میں موجودہ حکومت آئی اس وقت پاکستان کے مجموعی قرضے 31000؍ ارب روپے تھے جو مسلسل کئی برسوں میں یہ قرضےلیے گئے ان پر 3000؍ ارب روپے سود دینا ہوگا، بیرونی قرضہ 97؍ ارب ڈالر تھا اور گزشتہ دس برسوں میں ہماری ڈالر کمانے کی استعداد صفر رہی ، برآمدات میں گزشتہ 10؍ برسوں میں صفر اضافہ ہوا، پاکستان کی معیشت کو خطرہ ہے اس سے روپیہ پر دبائو ہے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائرقرضہ واپس کرنے کی گنجائش کے مطابق نہیں اور اس کو بڑھانے پر کسی نے دھیان نہیں دیا ، گزشتہ دوبرسوںمیں زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر سے کم ہو کر 9ارب ڈالر ہو گئے ، کرنٹ اکائونٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 20؍ ارب ڈالر پر پہنچ گیا ، تجارتی خسارہ 32؍ ارب ڈالر ہوگیا۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ ملک کے بنیادی مسائل پر کافی عرصے سے توجہ نہیں دی گئی اور جو اصلاحات کرنا تھی وہ نہیں کی گئیں ، برآمدات میں اضافے کی استعداد بڑھائی نہیں گئی ، حکومتی اخراجات روکنے کی کوشش نہیں کی گئی آمدن اور اخراجات میں فرق بڑھ گیا اور مالیاتی خسارہ 2300؍ ارب روپے ہو گیا ، جب اخراجات 2300؍ ارب روپے آمدنی سے زیادہ ہوں تو پھر قرضہ لینا پڑتا ہے، نوٹ چھپانے پڑتے ہیں اور مہنگائی بڑھتی ہے ، ملک کو بیرونی اور بجٹ خسارہ دونوں جانب سے مشکلات ہوئیں یہ جڑواں خسارہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، اگر ہم اس سے نہیں نمٹیں گئے تو ملک ڈیفالٹ ہو جائے گا، اس سے نمٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہےکہ ایک دو سال دقت اٹھانی ہوگی اور مشکل فیصلے کرنا ہوںگے ، ایک جانب جڑواں خسارہ ہے اور دوسری جانب عوام کو ریلیف دینا ہے عوام ریلیف کے انتظار میں کھڑے ہیں ، حکومت کو اس ساری صورتحال سے نمٹنا ہوگا، فوری خطرات سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور درآمدات کو قابو کرنے کیلئے لگژری اشیاء پر ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے، برآمدات میں اضافے کیلئے مراعات دی گئیں ہیں، گیس اور بجلی پر سبسڈی دی گئی ہے ، برآمدکنندگان کی مدد کی جائیگی تاکہ برآمدات نہ بڑھنے کا کوئی بہانہ نہ رہے غریب ملک ہونے کے باوجود ان کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی اکائونٹ سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی کاوش سے دوست ممالک سے ڈالر لائے گئے اور تین ممالک سے 9؍ ارب 20؍ کروڑ ڈالر لائے گئے ، سعودی تین ارب 20؍ کروڑ ڈالر کا سالانہ تیل ادھار فراہم کرے گا اور اسلامی ترقیاتی بینک ایک ارب 10؍ کروڑ ڈالر کا سالانہ ادھار تیل کی سہولت دے گا، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری کا بھی فیصلہ کیا اور 6؍ ارب ڈالر کا معاہد ہ کیا ، انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں بڑھے فیصلے کریں گے جس سے کفایت شعاری سامنے آئے گی، صرف ادھر ادھر سے ڈالر لا کر ملک کو خوشحال نہیں بنا سکتے ، اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، باہر کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہوگا۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ ملک کے بجلی ، گیس ، ائر لائنز ، انشورنس ، ریلوے کے ادارے اندر سےکھوکھلے ہو چکے ہیں ، ان اداروں کو ایک عرصے تک لوٹا گیا ۔

اہم خبریں سے مزید