آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مویشی منڈی سجنا شروع، پانی بجلی پارکنگ اور دیگر انتظامات کے ٹھیکے جاری

کراچی (رفیق بشیر) سپر ہائی وے پر ایک دہائی سے لگنے والی مویشی منڈی کا عارضی میلہ سجنا شروع ہوگیا ہے اور نجی بلڈرز کی کوپرآیٹیو سوسائٹی پر لگنے والی منڈی میں صفائی ستھرائی کے کام کا آغاز ہوگیا جبکہ مویشیوں کی آمد بھی جاری ہے۔ منڈی کے انتظامات کا جائز لینے کیلئے کمشنر کراچی نے جمعرات کو اجلاس طلب کرلیا ہے۔ مویشی منڈی کا ٹھیکہ ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کو دیا ہے جبکہ پانی، بجلی، پارکنگ، شامیانے سمیت دیگر انتظامات کے ٹھیکے جاری کردیئے گئے ہیں، ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی کے قیام کیلئے 900؍ ایکڑ سے زائد کا رقبہ مختص کیا گیا ہے جس میں وی آئی پی سمیت 25؍ سے زائد بلاک قائم کئے جائیں گے۔ مویشی منڈی کا ٹھیکہ پہلی مرتبہ کسی ایڈ ورٹائزنگ کمپنی کو دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل مویشی پالنے، سنبھالنے اور فروخت کرنے کا تجربہ رکھنے والوں کو ٹھیکہ دیا جاتا تھا۔ مویشی منڈی میں جانوروں کو رکھنے کیلئے بلاکس کو ہموار کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ منڈی میں عوام کی سہولت کیلئے روشنی کے انتظامات کئے جارہے ہیں، بیوپاری اور عوام کی سہولت کے لئے کھانے پینے کے اسٹالز، پارکنگ اور اے ٹی ایم لگانے کا کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں مویشی منڈی لگنے سے قبل ٹھیکیدار کی جانب سے شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے وعدے کئے جاتے ہیں، بیوپاری سے مویشی

کھڑے کرنے اور خریداروں سے پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے لیکن پارکنگ ایریا پھر بھی محفوظ نہیں ہوتا ،چور گاڑیوں کے سائیڈ گلاس توڑ کر لے جاتے ہیں ، جبکہ گزشتہ سال نقلی دانت کے مویشی بھی فروخت کیلئے لائے گئے تھے۔ محکمہ ویٹرنری کی جانب سے مویشی کی صحت کا کوئی معقول نظام نہیں ہوتا ، ٹھیکیدار ضرورت کے مطابق بیوپاریوں کو پانی کی سپلائی نہیں کرتے جس کے باعث بیوپاری پانی خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گرمی بہت زیادہ ہے اگر پانی ضرورت کے مطابق نہیں دیا گیا تو مویشی مرنا شروع ہوجائیں گے۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ ہم 10؍ سال سے منڈی میں مویشی فروخت کیلئے لا رہے ہیں لیکن ٹھیکیدار اور پانی کے سپلائر ہمارے ساتھ ایسا رویہ رکھتے ہیں کہ جیسے ہم چوری کرنے آئے ہیں ، کوئی ذمہ دار شخص بات سنتا نہیں اور ٹھیکیدار کے بدمعاش نما گارڈ گندے رویئے سے پیش آتے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ شکایت کس سے کریں ، کسی سرکاری محکمے کا منڈی میں شکایت سننے کیلئے دفتر ہی موجود نہیں ہوتا۔

اہم خبریں سے مزید