آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’ربر کا درخت‘‘ چالیس فٹ اونچا ہوتا ہے

حبا خان

آئیے بچو! آج ہم آپ کو بتاتے ہے ’’ربر‘‘ ہے کیا چیز۔ یہ ایک خاص درخت سےحاصل کیا جاتا ہے، جس کا نام ہی ربرکا درخت ہے۔

آج سے کافی عرصے پہلے یہ درخت جنوبی امریکہ میں ’’دریائے ایمیزن‘‘ کے کنارے اور برازیل کے جنگلوں میں ملتا تھا، پھر اس کار آمد پودےکو انگلستان لایاگیا پھر کافی عرصے بعد انگلستان سے بہت سے پودے ’’لنکا‘‘ میں لائے گئے۔ لنکا کی آب و ہوا برازیل کی آب و ہوا سے ملتی جلتی ہے، اس لئے یہاں رببرکے پودے بہت جلد پھلےپھولے اور تھوڑے ہی عرصے میں درخت بن گئے۔ پھر رفتہ رفتہ ربڑ کے درختوں کی کاشت ملایا، برما ، بورینو ، ہندوستان اور چین وغیرہ میں بھی شروع کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ ربر کا استعمال بھی بڑھتا گیا۔ دھیرے دھیرے بائیسکلوں اور موٹرکاروں کے ٹائروں کی تیاری میں ربڑ کی بہت زیادہ کھپت ہونے لگی۔

ربرکا درخت عموماً چالیس فٹ اونچا ہوتا ہے۔ اس کے تنے کا گھیر اچار یا پانچ فٹ ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں، جہاںپانی کی افراط ہوتی ہے یہ درخت بہت زیادہ پھلتا پھولتا ہے۔ اس کے لئے گرم مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہے۔ میدانی علاقوں میں یہ درخت نہیں اگایا جاسکتا ۔

یہ درخت پانچ چھ سال کا ہوتا ہے تو اس کے تنے کا محیط ڈھائی فٹ کے قریب ہوتا ہے اس وقت اس کا دودھ نکالنا شروع کردیتے ہیں، دودھ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ تنے کے گرد چھال کو کسی تیز چاقو سے چھیل دیا جاتا ہے۔ اس شگاف کو زیادہ گہرا تو نہیں کیا جاتا ،مگر ایک طرف سے ذرا اونچا رکھا جاتا ہے۔ جس میں درخت سے دودھ جیسا رس گرتا رہتا ہے۔ جب بہت سارا رس اکٹھا ہوجاتا ہے تو اس میں مسالے ملا کر ملائی جیسا مواد بنالیا جاتا ہے، پھر اسے رولروں میں گھمایا جاتا ہے، جس سے اس ملائی کے تختے بن جاتے ہیں۔ ان تختوں کا نام کریپ ہے۔ یہ ربر عام طور پرجوتوں کے تلے بنانے کے کام آتا ہے۔

ان تلوں کا نام بھی اسی وجہ سے کریپ سول یعنی کریپ کے تلےہے۔ بعض تختوں کو زیادہ پھیلا کر چادریں بنائی جاتی ہیں۔ یہ ربر زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے۔ ان چادروں کے گٹھے کارخانوں میں بھیج دیئے جاتے ہیں، جہاں ان سے مختلف قسم کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔

امریکہ میں ربر بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لنکا اور برما کا درجہ آتا ہے، جہاں ہزاروں مزدور ربر کے جنگلوں میں کام کرتے ہیں۔

ربر اس وقت دنیا کی بڑی ضرورتوں میں سے ہے اور دنیا کی موجودہ ترقی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس سے ٹائروں اور ٹیوبوں کے علاوہ دوسری بے شمار چیزیں مثلاً کپڑے، جوتے ،کھلونے، بوتلیں، دستانے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ بعض ملکوں کے سائنسدانوں نے مصنوعی ربر بھی بنالیا ہے۔