آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ11؍ شوال المکرم 1440 ھ 15؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سینیٹر میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ بعض قوتیں جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا چاہتی ہیں ۔ان قوتوں کی یہ کوشش ہے کہ عام انتخابات نہ ہونے دیئے جائیں اور ملک میں ایک غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت قائم کردی جائے۔ میاں رضا ربانی کے بقول اگر یہ قوتیں انتخابات کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئیں تو ان کی یہ کوشش ہوگی کہ انتخابات کو متنازع بنادیا جائے اور 1977ء والی صورتحال پیدا کردی جائے۔ ان کے خیال میں غیر جمہوری قوتوں کی یہ سازشیں آئندہ وزیراعظم کے انتخاب تک جاری رہ سکتی ہیں۔
میاں رضا ربانی پیپلزپارٹی کے ایک سینئر اور تجربہ کار سیاستدان ہیں، انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں بڑے سیاسی اتارچڑھاوٴ دیکھے ہیں اور ان کا پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاست اور تاریخ کا گہرا مطالعہ ہے وہ اگر ایسا کہہ رہے ہیں تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کی سیاسی قوتیں نہ صرف غیر جمہوری قوتوں کے کھیل کا حصہ نہیں ہیں بلکہ وہ ان سازشوں سے خبردار بھی ہیں لیکن جن قوتوں کے مفادات ہمیشہ آمرانہ حکومتوں سے وابستہ رہے ہیں، انہیں کمزور بھی تصور نہ کیا جائے ۔ان کا پاکستان کے اندر بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور ان کے ڈانڈے

بیرونی طاقتوں سے بھی ملتے ہیں ۔ان قوتوں کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ وہ پاکستان میں عام انتخابات نہ ہونے دیں ۔اگر اس کوشش میں وہ کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو پھر ان کے پاس نئی جمہوری حکومت کے خلاف کام کرنے کے لئے بہت وقت ہوگا ۔ میں میاں رضاربانی کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد یہ قوتیں خاموش ہوجائیں گی ۔انہیں خاموش کرانے کے لئے پاکستانی قوم کو ابھی طویل جدوجہد کرنا ہوگی ۔سیاسی قوتوں کو اسی تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو اس وقت کررہی ہیں اور فوج اور عدلیہ سمیت ریاست کے تمام اداروں کو جمہوریت کے تحفظ کے لئے اسی طرح فرنٹ لائن پر رہنا ہوگا، جس طرح وہ اس وقت تک رہے ہیں۔
انتخابات کیسے ملتوی کرائے جاسکتے ہیں اور ایک غیر جمہوری حکومت کیسے قائم کی جاسکتی ہے؟ اگرچہ آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو اس کے لئے کوئی آئینی راستہ نظر نہیں آتا ہے لیکن غیر جمہوری قوتوں نے ایسی منصوبہ بندی کررکھی ہوگی جس کا لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔کراچی میں بڑھتی ہوئی خونریزی کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ ویسے تو پچھلے پورے پانچ سال کے دوران کراچی میں دہشت گردوں نے جب اور جس کو چاہا قتل کردیا اور یہاں ٹارگٹ کلنگ کو نہیں روکا جا سکا لیکن عام انتخابات سے پہلے دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی انتہائی تشویشناک ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ تین عشروں سے زیادہ عرصے سے کراچی میں دہشت گردی ہورہی ہے لیکن کسی حکومت نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر کبھی کوئی کوشش ہوئی بھی ہے تو وہ ریاستی اداروں کے اندرونی اختلافات کے باعث ناکام رہی ہے۔ پاکستانی ریاست کی عملداری اس شہر میں ختم ہوچکی ہے۔ اب کراچی نہ صرف جمہوریت کے لئے ایک مستقل خطرہ بن گیا ہے بلکہ یہ شہر ملک کی سلامتی اور داخلی استحکام کے لئے بھی مسلسل خطرہ ہے۔ ملک کے تمام ریاستی اداروں کو اب اس شہر پر توجہ دینا ہوگی اور سیاسی قوتوں کو قومی اتفاق رائے سے ایک ایسی حکمت عملی طے کرنا ہوگی جو ریاستی اداروں کے لئے گائیڈ لائن بن سکے۔ اس وقت جو کچھ کراچی میں ہورہا ہے اس سے تو لگ رہا ہے کہ غیر جمہوری اور پاکستان دشمن قوتیں اپنے مقاصد کے لئے راہ ہموار کررہی ہیں۔ نگراں حکومت کے قیام سے قبل آئندہ چند دنوں میں ایسے حالات پیدا ہونے کے بھی خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں، جن کی وجہ سے بعض حلقوں کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا ہے کہ پاکستان میں آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔چیئرمین نیب فصیح بخاری کا استعفیٰ اس بحران کی ابتدا ہوسکتا ہے۔ بعض دیگر اور اہم آئینی اداروں کے سربراہوں کے بھی استعفے اگر آگئے تو پھر کیا ہوگا ؟ یہ ایک سوال ہے ،حقیقی آئینی بحران پیدا کرنے کیلئے کچھ قوتیں اپنا پورا زور لگارہی ہیں ۔یہ وہی قوتیں ہیں جن کی نشاندہی میاں رضا ربانی نے کی ہے۔ آئینی بحران کی صورت میں (خدا کرے ایسا نہ ہو) بعض حلقوں کی سوچ اور ترجیحات میں تبدیلی آسکتی ہے ۔
مزید ایک اور تلوار بھی سر پر لٹک رہی ہے وہ یہ ہے کہ نگراں حکومت کے قیام کے بعد حالات خراب کردیئے جائیں اور نگراں حکومت کی مدت میں توسیع کا جواز پیدا ہوجائے ۔نگراں حکومت کے قیام کے بعد سیاسی جماعتوں کا آئینی کردار ختم ہوجائے گا اور فوج اور عدلیہ کا کردار فیصلہ کن ہوگا ۔ یہ بھی پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کی فوج اور عدلیہ پہلی بار آئین اور جمہوریت کے محافظ کا کردار ادا کررہی ہیں ۔وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اگلے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم موجودہ عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جس نے جمہوریت کو سنبھالا“ چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر جج صاحبان نے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں بار بار اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اب تک یہی توقع کی جارہی ہے کہ فوج اور عدلیہ نگراں حکومت کو مقررہ وقت کے اندر انتخابات کرانے اور انتقال اقتدار میں مکمل معاونت کریں گی لیکن اگر حالات بہت زیادہ خراب ہوئے تو پھر فوج اور عدلیہ کے لئے بھی مسائل پیدا ہوجائیں گے ۔اگر نگراں حکمران بدنیت ہوگئے یا کسی ملکی یا غیر ملکی حلقے کے دباوٴ میں آگئے تو اور بھی زیادہ مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ نگراں حکمران اس دباوٴ کا مقابلہ کر بھی لیں اور انتخابات کے نتیجے میں نئی اسمبلی وجود میں آبھی جائے،تب بھی غیر جمہوری قوتوں کی سازشیں جاری رہیں گی۔
عام انتخابات کو متنازع بناکر 1977ء والی صورتحال پیدا کرنا بھی غیر جمہوری قوتوں کا ایک آپشن ہے۔ آئندہ حکومت مسلسل مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ اگرچہ 1977ء والی فوج اور عدلیہ نہیں ہے اورسیاسی جماعتوں کا کردار بھی1977ء والا نہیں رہا لیکن انتخابات کو متنازع بنادیا گیا تو پھر پاکستان پر اثر انداز ہونے والی عالمی قوتیں بھی کود پڑیں گی۔ اگر ان ممکنہ خطرات اور خدشات سے بچنا ہے تو نگراں حکومت کے قیام سے لے کر اگلی جمہوری حکومت کے استحکام تک پاکستان کی سیاسی قوتوں کا کردار بہت اہم ہوگا۔اگر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے تو پھر غیر جمہوری قوتوں کے لئے کھیل کھیلنا آسان ہوجائے گا لہٰذا سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ
1۔ وہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتوں کے قیام پر اتفاق کرلیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے عندیہ دیا ہے کہ اتفاق رائے ہونا مشکل ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ نگران حکومتوں کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا ۔خدارا ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دی جائے کیونکہ نگران حکمرانوں کا کردار بہت اہم ہوگا ۔اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو نگران حکومتیں بھی متنازع ہوجائیں گی اور انتخابات بھی متنازع بن جائیں گے۔غیر جمہوری قوتیں یہی چاہتی ہیں۔
2۔ وہ الیکشن کمیشن ،نیب اور دیگر آئینی اداروں کو متنازع نہ بنائیں ۔
3۔ وہ آئندہ منتخب حکومت کو متنازع بنانے کی بجائے پہلے سے کچھ معاملات طے کرلیں اور یہ معاملات ملک کی سیاسی صورتحال اور آئندہ ملنے والے مینڈیٹ کو دیکھ کر طے کئے جاسکتے ہیں۔
اگر سیاسی قوتوں نے اس مرحلے پر اپنے سیاسی تدبر کو برقرار نہ رکھا تو پہلے والی ساری کوششیں رائیگاں جاسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں