آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویڈیو کیس عدلیہ کی عزت کا معاملہ، ازخود نوٹس نہیں لینا چاہئے، تجزیہ کار

کراچی(جنگ نیوز) سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ جج ویڈیو کیس عدلیہ کی عزت اور احتساب کی ساکھ کا معاملہ ہے، مگر ازخود نوٹس نہیں لینا چاہئے، پی ٹی آئی حکومت سنگین غذائی قلت کے شکار لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں کرے گی، زرداری ہو، نواز شریف یا عمران خان غریبوں سے ان کی ہمدردی صرف تقریروں تک ہے،کپاس اور چینی نہیں گندم اور سبزیوں پر سبسڈی دی جائے۔ان خیالات کا اظہار بابر ستار، سلیم صافی، ارشاد بھٹی، محمل سرفراز اور حسن نثار نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاء کومل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال جج ویڈیو کیس، کوئی شک نہیں اس معاملہ میں غیرمعمولی باتیں بھی ہیں، چیف جسٹس، کیا ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر عدالت کو ازخود نوٹس لینا چاہئے؟بابر ستار نے کہا کہ عدالت کو ازخود نوٹس نہیں لینا چاہئے، پارلیمنٹ کو اب آرٹیکل 184/3پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ جج ویڈیو کیس عدلیہ کی عزت اور احتساب کی ساکھ کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کو جج ویڈیو کیس میں فوری طور

پر ازخود نوٹس لینا چاہئے، جج ارشد ملک کا کردار شرمناک ہے اسے صرف ہٹانا نہیں چاہئے بلکہ سخت سزا دینی چاہئے، عدالت اس معاملہ میں اصلی کہانی سامنے لائے، حسین نواز کو داد دینی چاہئے کہ والد کی بے گناہی کی گواہی دینے ، والدہ کی وفات اور والد و بہن جیل گئی تو نہیں آئے لیکن ستائیس رمضان المبارک کی رات کو ڈیل کرنے مدینہ آگئے۔ سلیم صافی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ثاقب نثار نے بیدردی سے ازخود نوٹس کے اختیار کا استعمال کیا جس سے عدلیہ بدنام ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا جج ویڈیو کیس سمیت کسی کیس میں بھی اب تک ازخود نوٹس نہ لینا خوش آئند ہے، عدلیہ جج ارشد ملک کے کیس کو اس طرح ایڈریس کرے کہ مزید شکوک یا تنازعات جنم نہ لیں بلکہ حقیقی معنوں میں عدلیہ کی غیرجانبداری اور ساکھ بحال ہوجائے۔محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدلیہ میں ازخود نوٹس کا اس بری طرح استعمال ہوا کہ کئی جگہوں پر ملک کو نقصان پہنچا، مریم نواز کو خود اس معاملہ پر درخواست لے کر عدالت میں جانا چاہئے۔ دوسرے سوال پاکستان میں 18.3 فیصد خاندان سنگین غذائی قلت کا شکار ہیں، اسٹیٹ بینک، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے بعد حکومت کو کیا ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں؟ارشاد بھٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سنگین غذائی قلت کے شکار لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں کرے گی، قائد انقلاب اپوزیشن میں جن معاملا ت پر سیرحاصل گفتگو کرتے تھے حکومت میں آنے کے بعد انہیں بھول چکے ہیں،زرداری ہو، نواز شریف ہو یا عمران خان ان کی غریبوں سے ہمدردی صرف تقریروں کی حد تک ہے، پاکستان وہ ملک ہے جس کی صنعت اور زراعت دونوں ہی منفی ہے۔

ملک بھر سے سے مزید