آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ترکی میں 1960ء میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جمال گرسل کے مارشل لا لگانے کے بعد فوج نے1961ء میں ملک کو نیا آئین دیا اور اس نئے آئین کی رو سے ملک میں پہلے ہی سے فوج کو حاصل اختیارات کو قانونی حیثیت دیتے ہوئے اعلیٰ ملی دفاعی کونسل (جسے بعد میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا نام دے دیا گیا)کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دے دیا گیا۔ اسی دوران 22 فروری 1962ء کو ترکی کی وار اکیڈمی کے کمانڈر کرنل طلعت آئیدیمر نے اس فوجی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور ان کو طویل مذاکرات کے بعد فوج سے ریٹائر کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ باز نہ آئے اور انہوں نے ایک بار پھر21 مئی1963ء کو جنرل گرسل حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور اس بار بھی ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور اس جرم کی پاداش میں ان کو جولائی1964ء میں پھانسی کی سزا دے دی گئی۔
جنرل جمال گرسل کے صدر کے فرائض ادا کرنے کے دوران جنرل جودت ثنائی چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے۔ جنرل جودت ثنائی نے جنرل جمال گرسل کی جانب سے ملک میں مارشل لا لگائے جانے کے دوران کوئی اہم کردار ادا نہ کیا تھا تاہم وہ ملک میں توازن قائم رکھنے کی وجہ سے شہرت حاصل کرچکے تھے اور اب اپنے آپ کو نئے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران فوجی حکومت کی نگرانی میں 1965ء میں عام

انتخابات کرائے گئے جس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے تسلسل کی حیثیت رکھنے والی جسٹس پارٹی نے سلیمان دیمرل کی قیادت میں52.6 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمینٹ کی 450 نشستوں میں سے 240نشستیں حاصل کر لیں۔
فوجی ٹولے کی جانب سے 1961ء میں بنائے جانے والے نئے آئین میں صدر کو پارلیمینٹ کے اندر ہی سے منتخب کرنے کی شرط عائد کردی گئی تھی لیکن جنرل جمال گرسل کی وفات کے بعد فوج نے اس شرط سے بچنے کے لئے ایک بار پھر ریشہ دوانیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقات کرتے ہوئے فوجی صدر کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور سیاسی رہنماؤں پر اپنا دباؤ ڈالنے سے بھی گریز نہ کیا تھا۔ فوج چیف آف جنرل اسٹاف جنرل جودت ثنائی کو ملک کا نیا صدر بنانے کا فیصلہ کرچکی تھی لیکن اس کے لئے چیف آف جنرل اسٹاف کو اپنے عہدے سے الگ ہونے کی ضرورت تھی لیکن جنرل جودت ثنائی نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں انہوں نے اس وقت کے بری فوج کے سربراہ جنرل جمال طورال کو چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر ترقی دینے کے بدلے ان سے پہلے سینیٹر بننے اور اس کے بعد صدر بننے تک کے عمل میں مکمل حمایت کی یقین دہانی حاصل کی تھی جس سے جنرل جودت ثنائی کی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔
اس طریقہ کار کے استعمال پر سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہارکرنے اور اسے جمہورت پر کاری ضرب بھی قرار دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے صدور کے بھی اسی طریقہ کار کے استعمال کئے جانے سے منتخب کئے جانے پر خدشات کا اظہار کیا گیا لیکن جودت ثنائی کے لئے صدارتی دروازے کھل چکے تھے۔
28 مارچ1966ء کو فوج کے زیر محاصرہ پارلیمینٹ میں صدارتی انتخابات ہوئے اور حسبِ توقع جنرل جودت ثنائی کو ملک کا نیا صدر منتخب کرلیا گیا۔پارلیمینٹ میں ہونے والی رائے شماری کے فیصلے کے اعلان تک مسلح افواج کے سربراہان سمیت 30 جنرل پارلیمینٹ ہی میں موجود رہے جبکہ تمام اراکین پارلیمینٹ کو ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے کل637/اراکین میں سے532/اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس رائے شماری میں461 ووٹ جودت ثنائی کے حق میں پڑے اور وہ ملک کے پانچویں صدر منتخب کر لئے گئے۔ انہوں نے 28 مارچ 1966ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور 28 مارچ 1973ء تک اپنے عہدے کی میعاد پوری ہونے تک وہ یہ فرائض ادا کرتے رہے۔ انہوں نے 22 مئی1982ء کو وفات پائی۔
اس دوران وزیراعظم سلیمان دیمرل کی جسٹس پارٹی نے1969ء میں ہونیوالے عام انتخابات میں46.55 فیصد ووٹ حاصل کئے اور پارلیمینٹ کی 450 نشستوں میں سے 256 نشستیں حاصل کرتے ہوئے دوسرے دور کے لئے بھی اپنی حکومت کو جاری رکھا تھا لیکن اس موقع پر ملک شدید خلفشار کا شکار ہو چکا تھا اور ملک میں جگہ جگہ شیعہ سنی فسادات برپا ہو رہے تھے۔ ملک اقتصادی لحاظ سے بھی پسماندگی کا شکار تھا اور طلبہ کے مظاہروں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس دوران فوج کے نوجوان آفیسرز نے فوج کے سینئر آفیسرز اور جنرلوں کے خلاف ملکی حالات پر خاموشی اختیار کئے جانے پر اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا اور کسی بھی وقت نوجوان آفیسرزکی طرف سے اقتدار پر قبضہ کئے جانے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے معاملے کی نزاکت بھانپ لی تھی اور بغاوت کو برپا ہونے سے پہلے ہی کچل دیا تھا۔ اعلیٰ فوجی حکام نے اس وقت کے صدر کو وارننگ پر مشتمل میمورنڈم بھیجتے ہوئے دیمرل حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا جس پر صدر نے فوری عمل کیا اور دیمرل حکومت کو ختم کرتے ہوئے پارلیمینٹ کے اندر ہی سے ایک غیر جانبدار رکن پارلیمینٹ نہات ایریم کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت قائم کر دی جو اکتوبر 1972ء تک جاری رہی۔
چودہ اکتوبر1973ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بلنت ایجوت کی قیادت میں بائیں بازو کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی33.29 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمینٹ کی149نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ بلنت ایجوت نے اس وقت ترکی کی سیاست پر نمودار ہونے والے نجم الدین ایربکان کی ملی سلامت پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی ۔نجم الدین ایربکان کی ملی سلامت پارٹی نے 11.80فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمینٹ کی 48نشستیں حاصل کی تھیں۔اس دوران قبرص میں یونانی فوجی ٹولے نے میکاریوس حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے قبرصی ترکوں کا جینا دوبھر کردیا تھا جس پر بلنت ایجوت حکومت نے ستمبر 1974ء میں قبرص میں اپنے فوجی اتار دیئے اور قبرص کے ایک حصے کو یونانی قبرصیوں سے آزاد کروا لیا۔ اس فتح کی بدولت وزیراعظم بلنت ایجوت کو فاتحِ قبرص کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ ترکی کی تاریخ میں بلنت ایجوت کو سیاسی رہنماؤں میں جو برتری اور بلند مقام حاصل ہے وہ شاید ہی کسی دیگررہنما کو حاصل ہو۔ وہ بلاشبہ عوام دوست، دیانتدار، سچے ، صادق اور امین تھے۔
بارہ مارچ1971ء میں صدر جودت ثنائی کے عہدے کی میعاد پوری ہونے پر صدر کو حکومت کے خاتمے کے لئے وارننگ دینے والے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ممدوح تاماچ کو ملک کا نیا صدر بنانے کیلئے فوج نے ایک بار پھر پارلیمینٹ میں ڈھیرے ڈال لئے لیکن اس بار بلنت ایجوت اور سلیمان دیمرل نے پارلیمینٹ سے فوج کو دور رکھنے کیلئے آپس میں مفاہمت کرتے ہوئے چیف آف جنرل اسٹاف کی جگہ فوج ہی سے ریٹائر شدہ ایک دیگر امیدوار فَحری کورو ترک کو صدر منتخب کرنے کا راستہ اختیار کیا تاکہ فوج سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 12 مارچ1971ء کے فوجی وارننگ یا میمورنڈم سے لے کر1980ء تک کے حالات ترکی کی سیاسی تاریخ میں سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ملک اس دور میں افراتفری کا شکار تھا۔ ہر روز کراچی کی طرح بیسیوں افراد ہلاک ہو رہے تھے۔ یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں تعلیم دینے کی بجائے روزانہ ہی مظاہرے ہو رہے تھے اور ملک دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کا میدانِ کارزار بنا ہوا تھا اور ہر طرف مفلسی کا دور دورہ تھا۔
1980ء میں صدر فَحری کورو ترک کی میعاد پوری ہونے پر نئے صدر کے انتخاب کے موقع پر فوج نے ایک بار پھر سیاسی رہنماؤں کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ اس سے قبل حکومت کو وارننگ دینے والوں میں شامل فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل محسن باتور کا نام صدارتی امیدوار کے طور پر فوج ہی نے پیش کیا جس کی ری پبلیکن پیپلزپارٹی نے حمایت کی لیکن سلیمان دیمرل نے ری پبلیکن پیپلزپارٹی کے چند ایک اراکین کے ساتھ خفیہ اتحاد کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ کے صدر منتخب ہونے کی راہ کو مسدود کر دیا لیکن اس سے ملک میں ایک بار پھر مارشل لا کے دروازے پوری طرح کھل گئے۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں