آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت یوشع علیہ السّلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل توحید کی تعلیم فراموش کر بیٹھے۔ اُنھوں نے دین سے انحراف کر کے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کر لیں۔ بُتوں کی پوجا دوبارہ شروع کر دی گئی، حالاں کہ اس دَوران انبیائے کرامؑ اُنہیں روکتے اور تنبیہہ کرتے رہے، لیکن وہ شرک سے باز نہ آئے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اُن میں نبوّت کا سلسلہ منقطع کر کے دشمنوں کو اُن پر مسلّط کر دیا۔ کبھی اُن پر قومِ عمالقہ قابض ہو جاتی، تو کبھی فلسطینی حملہ آور ہوتے، تو کبھی آرامی۔ یہ بنی اسرائیل کے لیے بڑا آزمائش کا دَور تھا۔ اُن میں کوئی نبی تھا اور نہ سردار، ایسے میں مِصر اور فلسطین کے درمیان بحرِ روم میں آباد، قومِ عمالقہ کے ایک ظالم و جابر اور سفّاک بادشاہ، ’’جالوت‘‘ نے حملہ کر کے اُن کی آبادیوں پر قبضہ کر لیا۔ بہت سے سرکردہ افراد قتل کر ڈالے اور بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد کو غلام بنا کر قید کر لیا۔

’’تابوتِ سکینہ‘‘ مشرکین کے قبضے میں

بنی اسرائیل جب حضرت یوشع ؑکے ساتھ وادیٔ تیہ سے نکلے تھے، تو اُن کے ساتھ ’’تابوتِ سکینہ‘‘ بھی تھا۔ یہ وہ صندوق تھا، جس میں عصائے موسیٰ ؑ، حضرت موسیٰ ؑ اور ہارونؑ کے پیرہن، پگڑی، پوشاک، تورات کا اصل نسخہ، مَن کا مرتبان اور انبیائے کرامؑ کے دیگر متبرکات موجود تھے۔ بنی اسرائیل کا عقیدہ تھا کہ جب تک یہ مقدّس صندوق اُن کے پاس موجود ہے، وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے، لیکن فلسطینی مشرکین نے ایک خوں ریز جنگ کے دَوران بنی اسرائیل سے یہ صندوق چھین کر اپنے’’بیتِ دجون‘‘ نامی مندر میں رکھ دیا۔ یہ مندر، اُن کے سب سے بڑے دیوتا ’’دجون‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ پتھر کے اس دیوتا کا سَر انسانی شکل اور دھڑ مچھلی سے مشابہ تھا۔ نجار مِصریؒ کے مطابق، فلسطین کے مشہور شہر’’ رملہ‘‘ کے قریب آج بھی ایک بستی دجون کے نام سے موجود ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ تورات میں دجون کے جس مندر کا ذکر ہے، وہ اسی جگہ پر واقع تھا۔ ابنِ جریرؒ فرماتے ہیں کہ’’ اہلِ غزہ اور اہلِ عسقلان نے اُن سے تابوتِ سکینہ چھین کر ایسا کر دیا تھا، جیسے چرواہے کے بغیر بکریاں۔‘‘

حضرت شمویلؑ کی پیدائش، نسب اور بعثت

بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی میں ذلّت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ خاندانِ نبوّت کا کوئی بھی فرد زندہ نہ بچا تھا، سوائے ایک غریب عورت کے، جو حاملہ تھی۔ اللہ نے اُس عورت کو ایک خُوب صُورت بیٹا عطا فرمایا، جس کا نام’’ شَمویل‘‘ رکھا گیا۔ شمویل، عبرانی زبان کا لفظ ہے، جس کے عربی میں معنی ہیں ’’اسماعیل‘‘۔ والدہ کی خواہش تھی کہ شمویل توریت کے عالم بن کر بنی اسرائیل کو دینِ حق کی تعلیم دیں۔ چناں چہ آپؑ ذرا بڑے ہوئے، تو والدہ نے بنی اسرائیل کے ایک بزرگ اور صالح شخص کے پاس تعلیم و تربیت کے لیے بھیج دیا۔ آپؑ جلد ہی تورات کے ایک بڑے عالم و فاضل کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ بنی اسرائیل کے لیے ایک طویل عرصے بعد حضرت شمویلؑ کی شکل میں ایک دینی و مذہبی شخصیت کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں منصبِ نبوّت سے سرفراز فرما کر بنی اسرائیل کی ہدایت پر مامور فرما دیا۔ حضرت شمویلؑ نے جب بنی اسرائیل کے سامنے درس و تبلیغ اور وعظ و نصیحت شروع کی، تو جالوت اور دیگر اقوام کے ظلم و ستم نے اُنہیں حضرت شمویلؑ کی بات سُننے پر مجبور کر دیا۔ اب یہ لوگ حضرت شمویلؑ کو اپنا ہم درد، خیرخواہ اور نجات دہندہ سمجھنے لگے تھے۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے یہ دستور تھا کہ سردار اور بادشاہ تو حکومت اور انتظامی معاملات چلاتے، جب کہ قاضی اور منصف کی حیثیت سے تمام عدالتی فیصلے نبی اور اُن کے مقرّر کردہ قاضی سرانجام دیتے۔ اس طرح گویا تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت اور دینی و عدالتی تمام امور کی نگرانی کا فریضہ نبی کے ذمّے تھا۔ حضرت شمویلؑ، حضرت ہارونؑ کی نسل سے تھے۔ تاریخ ابنِ کثیرؒ میں آپ کا نسب یوں تحریر ہے۔ شمویل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہو بن تہو بن صوف بن علقمہ بن مباحث بن عموصا بن عزایا۔ علّامہ ابنِ جریرؒ کے مطابق، حضرت یوشع علیہ السّلام کی وفات اور حضرت شمویلؑ کی بعثت کے درمیان چار سو، ساٹھ سال کا فاصلہ تھا۔(واللہ اعلم)

بادشاہ مقرّر کرنے کی درخواست

بنی اسرائیل، جالوت کی سختیوں، دیگر اقوام کی لُوٹ مار اور قیدیوں جیسی زندگی سے تنگ آ چُکے تھے۔ جس کا جب دل چاہتا، اُن پر چڑھائی کر دیتا۔ خواتین کو تنگ کرنا اور نوجوانوں کو غلام بنا لینا عام بات تھی۔ حضرت شمویلؑ کے درس و تبلیغ اور وعظ و نصیحت سے اُن کے اندر کچھ غیرتِ ایمانی جاگی، تو ایک دن بنی اسرائیل کے بزرگ حضرت شمویلؑ کے پاس آئے اور اُن سے درخواست کی کہ ہم پر ایک بادشاہ مقرّر کر دیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’جب اُنہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ پیغمبر نے کہا کہ’’ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے، تو عجب نہیں کہ تم لڑنے سے پہلو تہی کرو۔‘‘ اُنہوں نے کہا ’’بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچّوں سے دُور کر دیئے گئے ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔246)۔دراصل، حضرت شمویلؑ بنی اسرائیل کی نافرمانی اور وعدہ خلافی سے بہ خُوبی واقف تھے، اس لیے اُنہوں نے کہا کہ’’ اگر مَیں نے کسی کو بادشاہ مقرّر کر دیا اور اُس نے جہاد کا حکم دیا، تو تم اپنی عادت کے مطابق اُس کا حکم ماننے سے انکار کر دوگے، اُسی طرح جیسے تمہارے بزرگوں نے حضرت موسیٰؑ سے کہہ دیا تھا کہ’’تم اور تمہارا ربّ لڑیں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘ اور جب حضرت حزقیلؑ نے تمہارے بڑوں سے جہاد کے لیے کہا، تو وہ موت کے ڈر سے شہر سے باہر وادی میں جا کر چُھپ گئے تھے۔‘‘ حضرت شمویلؑ کی بات سُن کر بنی اسرائیل کے بزرگوں نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا’’اے اللہ کے نبیؑ! اب ایسا نہیں ہو گا۔ ہم بہت زیادہ ذلیل و رسوا اور تباہ و برباد ہو چُکے ہیں۔ اگر بادشاہ نے جہاد کا حکم دیا، تو ہم اللہ کی راہ میں دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘‘

حضرت طالوت بادشاہ مقرّر

بنی اسرائیل نے حضرت شمویلؑ کو ہر طرح سے اطمینان دلا دیا، تو اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا فرمائی۔ اللہ نے دُعا قبول فرمائی اور اُنہیں وحی کے ذریعے مطلع فرمایا کہ’’ ہم نے بنی اسرائیل ہی میں سے ایک علمی اور جسمانی لحاظ سے موزوں اور طاقت وَر شخص ’’طالوت‘‘ کو اُن کا بادشاہ مقرّر کر دیا ہے۔‘‘ طالوت کا نام سُنتے ہی سب کے رنگ فق ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اُن میں سے کسی امیر کو بادشاہ بنایا جائے گا۔ اُنہوں نے حیرت اور تعجّب سے کہا’’ طالوت ہمارا بادشاہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ تو نہایت غریب شخص ہے۔‘‘ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے،’’اور پیغمبر نے اُن سے کہا’’ اللہ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرّر فرمایا ہے۔‘‘ وہ بولے’’ اُسے ہم پر بادشاہی کا حق کیوں کر ہو سکتا ہے؟ بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں ہے۔‘‘ پیغمبر نے کہا’’ اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دی ہے اور بادشاہی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اس نے اُسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی بڑا عطا کیا ہے اور اللہ(کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے، وہ بڑا ہی کشادگی والا اور علم والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔ 247)حضرت شمویلؑ کو بنی اسرائیل کی بات سُن کر بہت غصّہ آیا۔ آپؑ نے فرمایا ’’تم لوگوں نے وہی کیا، جس کا مجھے ڈر تھا، لیکن یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ نے تمہارے لیے طالوت ہی کو چُنا ہے، جو علم میں اور طاقت و قوّت میں تم سب سے بہتر ہے۔‘‘

حضرت طالوت کا حسب، نسب

حضرت عکرمہؒ ؒ اور حضرت سدیؒ فرماتے ہیں کہ طالوت سقہ تھے یعنی پانی پلانے والے۔ حضرت وہب بن منبہؒ فرماتے ہیں کہ وہ کھالوں کو خشک کر کے چمڑا بنانے کا کام کرتے تھے، اسی وجہ سے بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ’’ وہ تو نہایت غریب ہیں۔ گھٹیا اور نیچ کام کرتے ہیں۔‘‘بنی اسرائیل کے اعتراض کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ابھی تک جتنے بھی نبی آئے، وہ آلِ لاوی سے تھے، جب کہ بادشاہ آلِ یہودا سے تھے اور طالوت کا تعلق آلِ بنیامین سے تھا۔ علّامہ ثعلبیؒ نے حضرت طالوت کا نسب یوں بیان فرمایا ہے۔ طالوت بن قیش بن افیل بن صارو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامین بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ (ابنِ کثیرؒ)

مقدّس صندوق کی واپسی

بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہت تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔ آخرکار اُنہوں نے ایک شرط لگائی اور حضرت شمویلؑ سے کہا’’ اگر تم یہ کہتے ہو کہ طالوت کو اللہ نے ہم پر حاکم مقرّر کیا ہے، تو اس بات کی صداقت کے لیے ہمیں کوئی نشانی دِکھائو۔‘‘ قرآنِ کریم میں ارشاد باری ہے’’اور پیغمبر نے اُن سے کہا’’ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا، جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلّی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی، جو موسیٰؑ اور ہارونؑ چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو، تو یہ تمہارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔ 248)یہ صندوق، ’’تابوتِ سکینہ‘‘ تھا، جس کی واپسی کے بارے میں تورات میں تحریر ہے کہ’’فلسطینیوں نے تابوتِ سکینہ کو اپنے دیوتا’’ دجون‘‘ کے پہلو میں رکھ دیا تھا۔ جب وہ صبح اپنے معبود کے پاس آتے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ دیوتا اوندھا پڑا ہے۔ وہ ہر صبح عبادت سے پہلے اُسے سیدھا کرتے، لیکن دوسرے دن پھر اُسے اوندھا گرا پاتے۔ اسی اثنا میں ایک اور نئی بات یہ ہوئی کہ اُن کے شہر میں لاتعداد چوہے پیدا ہو گئے، جنہوں نے اُن کے مال و اسباب اور غلّے کو تباہ کر دیا۔ پھر اُن میں ایسی وبا پھیل گئی، جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔ اس صُورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کاہنوں اور نجومیوں کو جمع کیا گیا، جنہوں نے بتایا کہ’’ قوم پر نحوست اس صندوق کی وجہ سے ہے، لہٰذا اس سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سونے کے سات چوہے بنائے جائیں، جنھیں ایک گاڑی میں تابوت کے ساتھ رکھ دیا جائے۔ پھر گاڑی میں دو گائیں جوتی جائیں اور ان کو بستی کے باہر چھوڑ دیا جائے۔‘‘ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ کی قدرت کہ گائیں صندوق والی گاڑی لے کر خود بہ خود بنی اسرائیل کی بستی کی جانب چل دیں، جہاں سے یہودی صندوق کو بڑی عزّت و احترام سے لے گئے۔‘‘ (سمویل۔ باب 7۔ 6) تاہم، قرآنِ کریم کے مطابق، فرشتوں نے اس صندوق کو بنی اسرائیل تک پہنچایا۔ بنی اسرائیل نے جب تابوتِ سکینہ دیکھا، تو انکار کی کوئی گنجائش نہ رہی، چناں چہ اُنہوں نے طالوت کی بادشاہت قبول کر لی۔

ایک اور امتحان

حضرت طالوت نے بادشاہ بننے کے بعد قومِ عمالقہ کے ظالم و جابر بادشاہ، جالوت سے جنگ کا اعلان کر دیا۔ حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کے قول و فعل کے تضاد کا علم تھا۔ جب وہ اُنھیں لے کر نہرِ اردن کے کنارے پہنچے، تو قوم سے فرمایا’’ اللہ ایک نہر کے پانی سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ پس جو شخص اس سے سیراب ہو کر پانی پیے گا، وہ میری جماعت میں نہیں رہے گا اور جو کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی پی لے، تو کوئی بات نہیں۔‘‘ تو جب یہ لوگ نہر پر پہنچے، تو چند افراد کے علاوہ سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب یہ نہر کے پار پہنچے، تو کہنے لگے کہ’’ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔‘‘ اس طرح بنی اسرائیل کی غالب اکثریت حضرت جالوت سے الگ ہو گئی۔ جن لوگوں نے صبر و تحمّل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے حکم کے مطابق امیر کی اطاعت کی تھی اور پانی نہیں پیا تھا، اُن کی تعداد مفسرّین نے تین سو تیرہ تحریر کی ہے۔ امام بخاریؒ نے ابو اسحاقؒ سے روایت کی ہے کہ حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور گفتگو کر رہے تھے کہ بدری صحابہؓ کی تعداد صرف اصحابِ طالوت کے برابر ہے، جنہوں نے نہر پار کی تھی۔ (صحیح بخاری)

جالوت کا قتل اور حضرت دائودؑ کی شجاعت

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’اور جب وہ لوگ جالوت اور اُس کے لشکر کے مقابل آئے، تو اللہ سے دُعا کی’’ اے پروردگار! ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور کفّار پر فتح یاب کر۔‘‘ تو طالوت کی فوج نے اللہ کے حکم سے اُن کو ہزیمت دی اور دائود نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور اللہ نے اُن کو بادشاہت دی اور دانائی بخشی۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔ 251)مفسرّین فرماتے ہیں کہ حضرت دائودؑ، بنی اسرائیل کے لشکر میں شامل ایک نوجوان تھے، جو اپنے تیرہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ایک دن طالوت نے بنی اسرائیل کو جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا’’جو شخص جالوت کو قتل کرے گا، مَیں اُس سے اپنی بیٹی کی شادی کر دوں گا اور اُسے اپنی سلطنت میں بھی شامل کر لوں گا۔‘‘ حضرت دائودؑ نے جب یہ سُنا، تو جالوت کو قتل کرنے کا عزم کر لیا۔ آپؑ غلیل سے پتھر پھینکنے کے ماہر تھے، چناں چہ جالوت سے لڑائی کی اجازت چاہی۔ طالوت نے شروع میں تو ناتجربہ کار سمجھ کر منع کر دیا، لیکن پھر اُن کے زیادہ اصرار پر اجازت دے دی۔ دونوں جانب کی فوجیں صف آرا ہوئیں۔ ایک طرف کفّار کی فوج تھی، تو دوسری طرف صرف تین سو تیرہ اہلِ ایمان۔ حضرت دائودؑ نے میدانِ جنگ میں آگے بڑھ کر جالوت بادشاہ کو للکارا۔ جالوت ایک بھاری بھرکم ڈیل ڈول کا مالک، نہایت مضبوط، طویل القامت اور لحیم شحیم شخص تھا۔ اس نے حضرت دائودؑ کو حقیر سا نوجوان سمجھ کر نظرانداز کر دیا اور بولا’’ جا واپس چلا جا۔ مَیں تیرا قتل پسند نہیں کرتا۔‘‘ حضرت دائودؑ نے جواب دیا’’ مگر مَیں تیرا قتل پسند کرتا ہوں۔‘‘ پھر اُنہوں نے اپنی غلیل میں تین پتھر رکھ کر پوری قوّت سے جالوت کی جانب پھینکے، جو جالوت کے سَر پر گولیوں کی طرح لگے اور اس کا سَر پاش پاش ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر جالوت کی فوج بدحواس ہو کر بھاگ نکلی اور حضرت دائودؑ نے جالوت کا سر قلم کر دیا۔ یوں حضرت شمویلؑ کی محنت اور کوششیں رنگ لائیں اور بنی اسرائیل کو طویل مدّت بعد دوبارہ فتح نصیب ہوئی۔ اس کام یابی کے کچھ عرصے بعد حضرت شمویلؑ وفات پا گئے۔