آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

رنگ لائے گی ہماری یک زبانی ایک دن

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے،کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو دنیا ساتھ ہوتی، بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ، مودی آخری پتہ کھیل گیا، کشمیر آزاد ہوگا۔ اب یہ تو ثابت ہوچکا کہ پاکستان کشمیریوں کے لئے یک زبان ہے، حتمی کام اگرچہ یک عمل ہونے ہی سے ہوگا، تاہم قوم آزادی کشمیر پر ضرور متحد و متفق ہے۔ دنیا تک ہماری آواز پہنچ رہی ہے اور بہ انداز دگر پہنچ رہی ہے، اگر آج نہ روگا گیا تو ہندوتوا کی سرخ منہ زور آندھی نہیں رکے گی، کیونکہ جو تاریخ سے باخبر ہیں وہ جانتے ہیں کہ آر ایس ایس کا یہ پوشیدہ فکر ہے کہ پورا برصغیر ان کا ہے اور یہ صرف ہندو کے رہنے کی جگہ ہے باقی سب تیسرے درجے کے باسی ہیں جن کی نسل کشی اس کا بنیادی حق ہے۔ کشمیر کے تنازعے پر کبھی لوہا اتنا گرم نہیں ہوا جتنا آج خود مودی نے کردیا ہے، پاکستان کے مثبت اقدامات نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ وہ جنگ نہیں امن چاہتا ہے لیکن حالات کے سنگین تناظر میں ظالم مودی اور اس کے اندر بولتی آر ایس ایس سے بعید نہیں کہ وہ ایک غلطی اور کرے اور دو ایٹمی قوتوں کا ٹکرائو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ وزیر اعظم کی یہ بات قرین قیاس ہے کہ اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو دنیا ساتھ ہوتی، ٹیلیفون اور ٹویٹس کے ذریعے اب کام نہیں چلے گا، وزیر اعظم، وزیر خارجہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر بہ نفس نفیس مسلم ممالک میں جائیں، مسلم حکمرانوں اور مسلم عوام سے براہ راست مخاطب ہوں، ہندو نیتا منتظر ہیں کہ مسلم امہ ہمارا ساتھ دیتی ہے یا بدستور خاموش رہتی ہے تاکہ وہ پاکستان کو عملاً خاموش کرنے کے لئے انتہائی قدم اٹھائے، اب نرا جوش نہیں ہوش درکار ہے۔

٭٭٭

دو زبانی زبان نہ ہوجائے

فردوس عاشق اعوان: پٹرول 4.59، ڈیزل 7.67 ، مٹی کا تیل 4.27 روپے سستا، وزارت خزانہ ، خبریں درست نہیں، پریس ریلیز آج جاری ہوگی، جیسے ٹرینیں اب پٹڑی سے اتر کر زمین پر چل رہی ہیں، لگتا ہے کہ حکومتی ادارے، وزارتیں بھی پیدل ہیں، عجب غضب کی حکومت ٹرین ہےکہ اوپر والا حصہ کراچی نیچے والا پشاور جارہا ہے، ہماری مراد حکومتی گائیکی ہے جس میں کوئی تال میل نہیں ’’حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان‘‘تو وزن میں ہے اور مرصع مصرع مگر وہ جو سنتی ہیں وہ ان کے کہنے کے مطابق نہیں ہوتا، شاید حکومت کی طوطی شکر مقال نے پریس ریلیز سے پہلے’’میاں مٹھو اب چوری کھائے گا‘‘ ریلیز کردیا اور یوں پوری قوم کو ’’سیاپے‘‘ میں ڈال دیا، دو ز بانی سے تو بے زبانی بھلی جیسا کہ کسی شاعر نے کہا؎

بے زبانی، زباں نہ ہو جائے

راز الفت ،عیاں نہ ہو جائے

خطرات کے دن ہیں اور اندیشوں کی راتیں اس لئے ارباب حکومت پہلے اچھی مراقبہ کرکے اقدام کیا کریں، ورنہ ہمیں یہ شعر بھی سنانا ہوگا؎

دل بھی تیرے ہی ڈھب سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے

اور ہم نے تو میڈیا پر یہ بھی سنا کہ ایل پی جی میں 22روپے فی کلو گرام کمی کردی گئی ہے، اخبارات دیکھے کہ 2روپے کمی کی گئی؎

ہندسے بڑھائے جانے سے ہو گا نہ کوئی کام

اٹھیئے کسی غریب کی قسمت سنوارئیے

٭٭٭

خچرا کچرا

عروس البلاد کراچی کبھی واقعی سجیلی دلہن ہوا کرتی تھی، پھر یہ دلہن ایسے ایسے بیوٹی پارلروں میں لے جائی گئی کہ اس کا ہر دولہا گھونگٹ اٹھاتے ہی کسی ابلتے گٹر یا جوہڑ میں پہنچ جاتا ہے، آج کراچی وہ سہانا خواب ہے جس کے بارےکہا جاسکتا ہے؎

شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا

(میرا خواب، کثرت تعبیر کے باعث بکھر کر رہ گیا)

یہ کیسا خچرا کچرا ہے کہ اسے لاکھ ٹھکانے لگائو پھر بھی لب سڑک ڈھیر رہتا ہے، وہ کراچی جو صفائی ستھرائی کے معاملے سے ہمارا بین الاقوامی درجے کا شہر تھا آج غلاظتوں کی آماجگاہ بن گیا اور دنیا بھر کی مکھیوں، مچھروں، وائرسوں نے یہاں گرمی روزگار دیکھ کر یہاں کا ویزہ لیا ٹکٹ کٹایا اور خوب کمائی کرنے لگے، جہاں انسانوں کو بیماریاں اور مکھیوں، مچھروں کو روزگار ملے یہ ہے وہ فخر روزگار شہر کراچی، سچ پوچھیں تو یہ شہرحکومت سندھ کی ذمہ داری ہے کہ یہ سندھ کا کیپٹل ہے، کوئی کشمیر تو نہیں کہ مدد کے لئے ساری دنیا کو بلایا جائے۔

ہماری و زیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے گزارش کہ وہ نان کراچی ایکٹرز کو باہر کریں، خود ہمت کریں اور اپنا کریڈٹ خود ہی سمیٹیں، وہ کراچی کو پھر سے دلہن بنا کر ایسی تاریخ رقم کریں کہ مکھیاں مچھر انہیں تاریخ میں کبھی معاف نہ کریں اور کراچی والے تاریخ میں انہیں یاد رکھیں؎

سڑکوں پہ دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل

مراد جس سے ہماری نہ پوری ہو وہ مراد علی کیا ہے

٭٭٭

شمشیر و سناں اول، طائوس و رباب آخر

٭....صدر آزاد کشمیر، مودی کی ایٹمی پالیسی بدلنے کی بات کو سنجیدہ لینا چاہئے۔

درست فرمایا انسانیت اپنی زندگی ہی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر ہی دے۔

٭....’’کشمیر آور‘‘ بھارت سمیت دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

اب یہ کشمیر گھنٹہ بجتا ہی رہنا چاہئے، یہ شور بپا ہوگا تو بہری دنیا کچھ سن پائے گی۔

٭....کشمیر میں مظالم،بھارتی اداکارہ ارمیلا کی مودی حکومت پر سخت تنقید۔

ولن کو ہیروئن ہی مارے گی،

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

٭....شہباز شریف، مودی جتنا ظلم کرلے کشمیریوں کی آزادی نوشتہ دیوار ہے۔

پہلے ایک دیوار بنالے ساری ساری سیاسی قوت پھر اس پر اپنے قلم سے کشمیریوں کی آزادی جلی حروف میں لکھ دے۔

اور آخر میں حتمی بات کہ

شمشیر و سناں اول، طائوس و رباب آخر