آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سوسی‘‘ سوت اور ریشم سے تیار کیا ہوا کپڑا، سندھی ثقافت کی پہچان ہے

حرا ارسلان

وادیٔ سندھ میں زمانۂ قدیم سے آج تک ایسی کارآمد اشیاء تیار ہوتی رہی ہیں، جو نہ صرف قدیم قبائلی اور زرعی دور میں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں بلکہ آج کے جدید اور صنعتی دور میں بھی ان کی اہمیت و افادیت، خوب صورتی اور دِل کشی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ سندھ کے باسی انتہائی ہنرمند ہیں، ان کے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزیں نہ صرف اقوام عالم میں مشہور ہیں بلکہ ان کی مانگ میں بھی دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کپڑا بُننا ہو یا کڑھائی، سندھی خواتین اس مہارت سے کام کرتی ہیں کہ دیکھنے والے ششدر رہ جاتے ہیں۔ کڑھائی میں ’’سندھی ٹانکا‘‘ انتہائی مشہور و معروف ہے، جو ہر قسم کے کپڑوں پر کڑھائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سندھ کی ثقافت کی ایک قدیم دست کاری سوسی کا کپڑا بھی ہے، جو سوت اور ریشم کے دھاگے کی ملاوٹ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی تیاری میں ’’چرخے‘‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ چرخے پر تیارکی جانے والی سوسی انتہائی آرام دہ، سادہ اور خوب صورت ہوتی ہے۔ سوسی بالخصوص سندھ کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا پسندیدہ لباس رہا ہے۔ شہر کی خوش حال طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی فیشن یا اپنی دل کشی کی علامت کے طور پر سوسی پہنتی تھیں لیکن آج یہ خوب صورت اور تاریخی کپڑا نہ صرف دیہی سندھ بلکہ شہر کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی بڑے شوق سے پہنتی ہیں۔ پہلے خواتین صرف سوسی کی شلوار پہنتی تھیں لیکن اب پورا سُوٹ ہی سوسی کا بنایا جاتا ہے۔ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے سندھ میں کپڑا تیار ہوا اور اس کی تیاری میں یہاں کے دست کاروں کا اہم کردار ہے۔ وادیٔ سندھ میں تقریباً پانچ ہزار سال قبل موہن جو دڑو کی تہذیب نے کپاس کی کاشت اور اس کے ریشے سے دھاگے بنانے کے فن کا آغاز کیا۔ جس وقت دُوسری اقوام کھال، درختوں کی چھال اور پتے پرو کر کمر سے باندھ کر سترپوشی کرتی تھیں، اس وقت وادیٔ سندھ کے زرخیز کھیتوں میں کپاس کے اُجلے اُجلے سفید پُھول ستاروں کی طرح جگمگایا کرتے تھے۔ اس وقت موہن جودڑو کے ہر آنگن سے چرخوں اور تکلوں کے پہیے گھومنے کی آوازیں آتی تھیں۔ ماہر آثار قدیمہ پروفیسر ایچ جی رابنسن اپنی ایک کتاب میں لکھتےہیں کہ ’’شام کے حکم راں، اَسد بنی پال کے زمانے کے نوشتوں میں سندھ کا نام اس خطے سے آنے والی کپاس کی وجہ سے معروف تھا۔‘‘ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب مصر میں کوئی فرعون مرتا تھا تو اس کو کفن بھی سندھ کی بنی ہوئی ململ کے کپڑے کا دیا جاتا تھا۔

بعض تاریخی روایات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قدیم بولونیا (بابل) کے باسی کپاس کو سندھو کے نام سے پہچانتے تھے، کیوں کہ وہ سندھ ہی سے آتی تھی۔ زمانۂ قدیم میں لاڑ کے علاقے میں پاتال یا پاتل نامی ایک مشہور بندرگاہ واقع تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بندرگاہ اس جگہ واقع تھی جہاں دریائے سندھ دو حصوں میں منقسم ہو کر سمندر میں جا گرتا تھا۔ یوں دُنیا کی یہ قدیم تہذیبیں اور قومیں مثلاً میسوپوٹیمیا، مصر اور شام وغیرہ تو صدیوں سے سندھ کی سوتی مصنوعات سے استفادہ کرتی چلی آ رہی تھیں لیکن مغرب اور یونانیوں کو کپاس، سوتی دھاگے، سوتی کپڑے وغیرہ کا پتا اس وقت چلا جب سکندر اعظم کی فوج کے سپاہی سندھ سے واپسی پر سندھ کی سوتی مصنوعات اپنے ساتھ بطور سوغات لے گئے۔ یہ کپڑے اس قدر باریک، نرم و ملائم تھے کہ ایک مغربی محقق ڈاکٹر جیمس اے بی شیر نے اپنی کتاب ’’کاٹن ایز ورلڈ پاور‘‘ میں ان کو صبا سے بُنے گئے جالوں سے تعبیر کیا ہے۔ یونان اور مغربی دُنیا میں اس کپڑے کو ’’سنڈن‘‘ کہا جاتا تھا۔ سندھ کے اس کپڑے نے اپنی نرمی اور لطافت کی وجہ سے مغربی شعر و اَدب میں بھی اپنی جگہ بنائی اور عظیم انگریز مصنفوں نے اس کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا ہے۔

انگریزی زبان کے ایک شاعر ملٹن نے بھی اس کا ذکر اپنے کلام میں ’’سنڈن‘‘ کا ذکر جالی کے طور پر کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کپڑے کے باریک ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جالی کے طور پر کیا جاتا ہو۔ سندھ کی بنی ہوئی سوتی مصنوعات میں سے دُوسری چیز جس نے مغربی شعر و اَدب میں جگہ بنائی اس کا نام ’’سنڈل‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’بٹا ہوا دھاگہ‘‘ اس زمانے میں سنڈل سے رَسّے بنائے جاتے ہوں گے، جن سے بڑے بڑے جہازوں اور بجروں کو باندھا جاتا ہوگا، جن کے بادبان ریشم کے بنے ہوتے تھے۔ یہ ہے سندھ میں تیار ہونے والے کپڑے کا پس منظر اور تاریخ، ململ کے باریک اور نرم کپڑے سے لے کر سوسی کا شمار سندھ کی قدیم دست کاریوں میں ہوتا ہے، ململ بھی چرخوں اور تکلوں سے بنائی جاتی تھی اور سوسی بھی چرخوں اور دور حاضر میں کھڈّی پر بنائی جاتی ہے۔ ململ کا کپڑا گرمیوں کے دنوں میں بہترین تصور کیا جاتا ہے، لیکن سوسی کے کپڑے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ کپڑا ملائم اور ہر موسم میں پہنا جا سکتا ہے ۔یہ سردیوں میں حرارت اور گرمیوں میں خنکی کا احساس دیتا ہے۔ پھر اس پر ہر طرح کی ڈیزائننگ بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ سوسی کی پسندیدگی اور خوب صورتی کا راز اس کے رنگوں کے امتزاج میں پنہاں ہے۔ سوسی خاص طور پر نصرپور، ہالا اور تھرپارکر میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی مانگ پورے ملک میں ہے، بلکہ بیرون ملک بھی ہے۔ سندھ ہنرمندوں کی سرزمین ہے، جن کا ہنر بولتا ہے۔ چرخوں اور کھڈّیوں میں تیار کردہ ململ اور سوسی سندھ کی ایک ایسی دست کاری ہےجس سے سندھ کی قدیم ثقافت پہچانی جاتی ہے اور جو وادی مہران کے باسیوں کے لیے باعث فخر ہے۔

وادی مہران سے مزید