آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پر قبضے کی باتیں وفاق کمزور کرنے کی سازش ہے، بنگلہ دیش کے بعد سندھو، سرائیکی اور پختون دیش بھی بن سکتے ہیں، بلاول بھٹو

وفاق کی جانب سے کراچی پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے


حیدرآباد (بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جس وقت مودی نے کشمیر میں غیرآئینی اقدام اٹھایا اسی وقت وفاق کی جانب سے کراچی پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ماضی میں بنگلادیش بنا، اب اگرعوام کے معاشی اور انسانی حقوق چھیننے اور ظلم کا سلسلہ بند نہ ہوا تو کل سندھو دیش، سرائیگی دیش اور پختون دیش بھی بن سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی سندھ کے خلاف سازش برداشت نہیں کرے گی، کٹھ پتلی حکومت اور غیرجمہوری قوتیں ہوش کے ناخن لیں، مولانا فضل الرحمن کے اسمبلیاں توڑ نے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتے، نااہل اور سلیکٹیڈ حکومت کی وجہ سے صوبے دیوالیہ ہورہے ہیں، کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہم کشمیر اور کشمیریوں کے لیے آخری حد تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، نااہل سلیکٹیڈ حکومت اور غیر جمہوری قوتو ں نے انسانی حقوق سلب کیے ہوئے ہیں اور اظہار رائے کی آزاد ی پر حملے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت 1973ءکے دستور پر حملے کرتی چلی آرہی ہے، صوبوں کو وسائل نہیں دیے جارہے اور ان سے ادارے چھینے جارہے ہیں، یہ کیا مذاق ہے، ہر طرف سے آئینی حقوق پر حملے ہورہے ہیں، صوبوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے اوپر سے کراچی پر قبضے کی کوشش اور اسلام آباد سے چلانے کی سازش کی جارہی ہے، عمران خان نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا اوراس نے کشمیر کاز کو بھی صحیح طرح پیش نہیں کیا۔

بلاول نے کہا کہ ملک کو چلانا کوئی کرکٹ کھیلنا نہیں، صوبوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے، مگر آپ عوام کا معاشی قتل کررہے ہو، ہم وفاق کو بچانے کے لیے خون بھی دے سکتے ہیں، مگر وفاقی حکومت کے مظالم پر مظالم کررہی ہے، غیرجمہوری قوتیں اور کٹھ پتلی حکومت ہوش کےناخن لیں، جمہوریت پسندوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اگر ایسی کسی سازش کی حمایت کرے گی تو اپنا سیاسی نقصان کرے گی، وہ بھی استعفیٰ دیکر سندھ کے مفادات کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ سے گیس نکلتا ہے اس پر پہلا حق اسکا ہے ،کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت اور 18ویں ترمیم، انسانی حقوق، سندھ کے مفادات کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہ کر آئینی طور پر کام کرنا چاہیے، ہم میثاقِ جمہوریت کو مضبوط بنائیں گے اور مل کر آئینی و جمہوری حقوق کی حفاظت کریں گے۔

  چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں سندھ حکومت کو حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام پر مبارک باد یتاہوں، گورنمنٹ کالج حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام میں جو بھی روکاوٹیں ہیں میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ انہیں دور کریں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کے عزائم کو سمجھنا چاہیے وہ واجپائی اور من موہن سنگھ نہیں کہ اسے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی جاتی یا اسکی تقریب حلف برداری میں جایا جاتا۔

انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کے اس مطالبہ کی ہم حمایت نہیں کرتے کہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں، ملک فوری طور پر نئے انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور یہ الیکشن ہوگا یا سلکشن اسکا بھی کچھ معلوم نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر آئینی طریقہ سے ایوان کے اندر سے تبدیلی آتی ہے تو اس کی حمایت کریں گے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے قیام کا ان کی حکومت نے چارٹر منظور کیا اور اسے اسمبلی سے منظور کرایا ہے یہ جلد فنکشنل ہو گی۔

اہم خبریں سے مزید