آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے پرانے کرکٹ اسٹرکچر کو ختم کرکے نیا سسٹم بنانے کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹرز کے لیے مواقع محدود ہونے کے نتائج سامنے آنے لگے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹر فضل سبحان اپنا گزر بسر کرنے کے لیے کراچی میں پک اپ چلانے پر مجبور ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی سی بی نے پاکستان میں جاری ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا انفرا اسٹرکچر ختم کرکے ملک میں آسٹریلین کرکٹ کی طرز کا ڈومیسٹک نظام رائج کردیا ہے، جس میں صرف 6 ٹیمیں ایک دوسرے کے مدِمقابل ہوں گی۔

اس فیصلے کو سابق کرکٹز اور ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے ختم ہونے سے ملک میں موجود متعدد فرسٹ کلاس کرکٹرز بیروز گار ہوجائیں گے۔

ان سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کے خدشات اس وقت درست ثابت ہونے لگے جب ایک صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک فرسٹ کلاس کرکٹر فضل سبحان کو کراچی میں پک اپ گاڑی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس ویڈیو کے دوران عکس بندی کرنے والے سے گفتگو کرتے ہوئے 31 سالہ فضل سبحان نے کہا کہ وہ یہ گاڑی کرائے پر چلاتے ہیں۔

اپنے کام کی وضاحت دیتے ہوئے فضل سبحان نے بتایا کہ جب ان کا کام چلتا ہے تو پیسے آجاتے ہیں لیکن کبھی وہ 10، 10 دن تک بے روزگار بیٹھے رہتے ہیں۔

پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم میں منتخب ہونے اور اپنی کوششوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ میں نے پاکستان ٹیم میں کھیلنے کے لیے بہت محنت کی، ایک مرتبہ پی سی بی سے ایک کال بھی موصول ہوئی کہ میں دبئی میں پاکستان ٹیم کے ساتھ سفر کرنے کی تیاری کروں لیکن بعد میں کسی اور کھلاڑی کو اسکواڈ میں منتخب کرلیا گیا۔

فضل سبحان نے بتایا کہ جب وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کرکٹ کھیلتے تھے تو انہیں ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ ملتی تھی تاہم ڈپارٹمنٹ بند ہونے کے بعد اب وہ اپنے دیگر ذرائع آمدن سے 30 سے 35 ہزار روپے کمارہے ہیں جو ان کے گزر بسر کے لیے کافی نہیں ہیں۔

انہوں نے پک اپ چلانے کو بھی اپنے لیے قیمتی ملازمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ ہم یہ چلا رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ کل یہ بھی نہ ہو، کیونکہ بچوں کے لیے تو کچھ کرنا پڑے گا۔

جب ان سے فرسٹ کلاس کیریئر سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ پاکستان ٹٰیم کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں، جبکہ 42 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیل چکے ہیں۔

دیگر فرسٹ کلاس کرکٹر سے متعلق فضل سبحان نے بتایا کہ سیکڑوں فرسٹ کلاس کرکٹر بے روزگار ہوگئے ہیں کچھ کرکٹرز بطور رائیڈر اپنا گزر بسر کر رہے ہیں، کچھ گاڑیاں چلا رہے ہیں، کچھ گیمز کی دکان پر بیٹھے ہیں جبکہ کچھ مختلف کمپنیوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں نے فضل سبحان کی کہانی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے کہا کہ یہ کہانی ان کے لیے بہت دردناک اور دل دہلادینے والی ہے۔

اسی طرح پاکستان کرکٹ کے ایک اور سابق بیٹسمین یاسر حمید نے فضل سبحان کے کھیل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔


کھیلوں کی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید