آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

24ستمبر 2019ء کی سہ پہر میرپور آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا۔ زلزلے کی شدت 5.6تھی۔ زلزلے کا مرکز ’جاتلاں‘‘ تھا، چنانچہ جاتلاں ٹائون، پلمانداں، افضل پور اور دیگر علاقوں میں شدید نقصان ہوا۔ اس زلزلے میں 39افراد شہید، 579افراد زخمی اور 160افراد معذور ہوئے۔ جانی نقصان کے علاوہ مالی نقصان بھی بہت ہوا۔ سیکڑوں گھروں کو جزوری نقصان پہنچا، جبکہ 8000مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ مجموعی طور پر میرپور کا پورا علاقہ متاثر ہوا اور علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ 26ستمبر 2019ء کی صبح اسلام آباد سے 3رکنی پروفیشنل ٹیم نے میرپور کے شدید متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد علاقے میں ہونیوالی تباہی و بربادی کا صحیح صحیح اندازہ لگانا تھا۔ ماہرین پر مشتمل پروفیشنل ٹیم نے مقامی افراد سے مل کر زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ ایک سروے رپورٹ تیار کرکے اس کی سمری چند مخیر حضرات کو بھجوا دی۔ 27ستمبر کو پاکستان کے 6مخیر اور فلاحی اداروں نے میرپور آزاد کشمیر کے ’’جاتلاں‘‘ میں ایک ہنگامی سیٹ اپ تشکیل دیا۔ ان رفاہی اداروں نے تقسیم کے لئے مرکز کے قیام کے بعد 5مرحلوں پر مشتمل ایک ڈھانچہ تشکیل دیا جس میں 9سروے ٹیمیں، 11ڈسٹری بیوشن ٹیمیں اور 17رضاکار شامل تھے۔ 5مختلف مراحل پر مشتمل تقسیم امداد کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا گیا۔ مستحقین کی درست نشاندہی کرنا، تحقیق و نامزدگی کرنا، حتمی منظوری دینا، کارڈ جاری کرنا، کارڈ کے ذریعے امداد فراہم کرنا۔ 600خاندانوں کے سروے میں کارڈ کے اجراء کے بعد اگلے ہی دن یعنی 28ستمبر کو صاف پانی، دودھ، آٹا، آئل، چاول، پتی، دالیں، چینی وغیرہ پر مشتمل پیکیج کی تقسیم کا عمل شروع ہوگیا۔ تفصیلی سروے، جائزے اور مشاہدے کے بعد یہ بھی اندازہ ہوا کہ بستروں، گرم لباس اور خیموں کی فوری ضرورت ہے۔ ایک عدد بستر 17سو کا تھا۔ ایک خیمے کی قیمت 2500تھی۔ ایک جوڑا لباس 1500کا تھا۔ ان کا فوری آرڈر بھی دے دیا گیا۔ دو دن بعد لاہور سے 12ٹرکوں میں امدادی سامان جاتلاں مرکز پہنچ گیا۔ 24ٹن چاول، 150خیمے، پانچ کلو پر مشتمل 100پیکٹ چینی، 2500گرم بستر، 700راشن کے پیکٹ، 10کلو والے 1500آٹے کے پیکٹ، 20کلو والے 200آٹے کے پیکٹ، 500بچوں کے کپڑے، خواتین کے لئے 500جوڑے کپڑے، پانی صاف کرنے والی میڈیسن کی 1000بوتلیں، پینے کیلئے صاف پانی 12سو کارٹن، ایک کارٹن میں 6بوتلیں تھیں۔ 300بچوں کیلئے بسکٹ، ٹافیاں اور دیگر ریفریشمنٹ کا سامان شامل تھا۔ امدادی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکز ’’جاتلاں‘‘ میں ایک ’’کنٹرول روم‘‘ بنا دیا گیا تھا۔ کنٹرول روم بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی اہم شخص متاثرین کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے یا یہ دیکھنا چاہے کہ متاثرین زلزلہ کو کون کون سی اشیاء پہنچائی گئی ہیں اور مزید کن کن اشیاء کی ضرورت ہے تو اسے یہ ساری معلومات اور تفصیلات اسی کنٹرول روم سے مل جائیں۔

ملٹی میڈیا پروڈکشن کے ماہرین نے تمام امدادی سرگرمیوں کو نقشوں، گرافوں اور تصویروں میں اتار دیا۔ اعداد و شمار پر مشتمل چارٹ بنوائے۔ پینافلیکس کو کنٹرول روم کی چاروں دیواروں پر آویزاں کر دیا۔ ایک مکمل پریزنٹیشن بھی تیار کی گئی تاکہ مصروف لوگوں کو مختصر وقت میں تمام امدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ ادھر گورنر پنجاب جناب چوہدری محمد سرور صاحب کے ساتھ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی گئی۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ترین میٹنگ کے نتیجے میں یکم اکتوبر 2019ء پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے اپنے دوستوں کے ساتھ جاتلاں میں واقع اس امدادی مرکز کا دورہ کیا۔ انہیں مکمل بریفنگ دی گئی۔ گورنر صاحب نے زلزلے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین میں نقد رقوم تقسیم کیں۔ زلزلہ متاثرین میں مختلف اشیا پر مشتمل پیکیج تقسیم کئے۔ گورنر پنجاب کے ساتھ فلاحی اداروں کے سربراہ اور دیگر افراد بھی تھے۔ ان سب کو کنٹرول روم میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی اور زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں کا وزٹ بھی کرایا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں جو دامے درمے، قدمے، سخنے، کسی بھی طرح متاثرین کی مدد کر رہے ہیں، ان کے آنسو پونچھ رہے ہیں، ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پر خوشی لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ آمین!