آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

براعظم یورپ کے ملک اسپین (جسے ہسپانیہ بھی کہتے ہیں) کے دارالحکومت میڈرڈ کے بعد بارسلونا اس کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا کا دارالحکومت اور اسپین کے شمال مشرق میں بحیرہ روم کے کنارے آباد ہے۔ 2016ءکی مردم شماری کے مطابق بارسلونا کی آبادی17لاکھ تھی، جہاں ہسپانوی باشندوں کے بعد سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں۔

فرانس کی سرحد سے125کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارسلونا، سیاحوں میں مقبولیت کے لحاظ سے یورپ کا چوتھا اور دنیا کا 14واں شہرہے۔ اسے City of Beaches بھی کہا جاتاہے ۔ بارسلونا85سال تک مسلمانوں کے زیرِ انتظام رہا ہے۔ اس کی مشہور عمارات کا تذکرہ کرتے چلیں۔

کاتالونیا اسکوائر

یہ بارسلونا کے وسط میں ایک وسیع اسکوائر ہے، جہاں آپ کو انیسویں صدی کی تعمیرات نظر آئیں گی۔یہاں بارسلونا کی بہت سی اہم سڑکیں اور ایونیوز آکر ملتے ہیں۔50ہزار مربع گزسے زائد علاقے پر مشتمل کاتا لونیا اسکوائر (Plaça de Catalunya) خاص طور پر فواروں اور مجسموں کی وجہ سے مشہور ہے۔ 

یہاں آپ مرکز میں ہزاروں کی تعداد میں دانہ چگتے کبوتر بھی پائیں گے۔ اگر آپ کو فنون لطیفہ سے دلچسپی ہے تو یہاں بہترین قسم کے تھیٹر ز بھی موجود ہیں۔ کیفے اور ریستوران یہاں برسوں سے اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے آرہے ہیں۔ عارضی رہائش کیلئے شاندار ہوٹلز بھی آپ کو مایوس نہیں کریںگے۔

پیڈرالبز مونیسٹری

قابل دید ہسپانوی شاہکارپیڈرالبز مونیسٹری (Pedralbes Monastery) یورپ میں گوتھک فنِ تعمیر کو سامنے لاتاہے۔ 14ویں صدی کا یہ شاہکار مسلم ہسپانیہ کے بعد پروان چڑھنے والے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے، جو تاریخ و تہذیب میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچتاہے۔ اسے جیمز دوئم آرگون اور اس کی ملکہ ایلنڈا ڈی مونٹکاڈا نے 1326ء میں تعمیر کروایا تھا۔ 

اس کے ایک حصے میں سینٹ میخائل چرچ بھی موجود ہے، جہاں ملکہ نے راہبائوں اور دیگر اشرافیہ کی رہائش کیلئے کمرے بھی بنوائے۔ اس کے بعد شاہ محل کا ایک حصہ بھی اسی خانقاہ میں بنا دیا گیا تھا۔ 1640ء میں کاتالونیہ میں انقلاب کے بعد یہاں سے راہبائوں کو بے دخل کردیا گیا تھا۔ 1991ء میں اس گوتھک مونیسٹری کو قدیم عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے دروازوں میں آپ کو آرچ یعنی اسلامی محرابیں اور مختلف تہذیبوں کا ملاپ نظر آئے گا۔

کاسہ باتیو

بارسلونا کے مرکز میں واقع اس عمارت کو امریکی سالار سانچیز کے حکم پر 1877ء میں تعمیرکیا گیا، جسے بعد میں انتونی گوڈی نے1904ء میں دوبارہ ڈیزائن کیا۔ اس عمارت کو عام لوگ ہڈیوں کا گھر بھی کہتے ہیں۔ اس عمارت کے آگے والے حصے کو مختلف رنگوں کی ٹائلوں سے سجایا گیا ہے۔ اس عمارت میں ایک بیسمنٹ اور نچلی منزل سمیت دیگر چار منزلیں بھی ہیں جبکہ عقبی حصے میں ایک باغ بنا ہوا ہے۔

گاڈی ہاؤس میوزیم

بارسلونا کے پارک گوئل میں واقع گاڈی ہاؤس میوزیم(Gaudí House Museum) 1906ءسے 1925ءتک تقریباً20سال انتونی گوڈی کی رہائش گاہ کے طور پر اس کے زیر استعمال رہا۔ 1963ء میں اسے اوپن ہائوس میوزیم کا درجہ دے دیا گیا، جہاںگوڈی کے فرنیچر اور دیگر اشیا کا کلیکشن موجود ہے۔ ان اشیا میں مجسمے، پینٹنگز، ڈرائنگز وغیرہ بھی ہیں، جنھیں گوڈی نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ اس میوزیم کی چارمنزلیں ہیں، نچلی اور پہلی منزل کو عام لوگوںکیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔ اس کے بیسمنٹ میں جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے ۔ دوسری منزل پر اینرک کیسانیلس لائبریری بنائی گئی ہے، جس میں جانے کے لیے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔

بارسلونا کیتھڈرل

یہ چرچ ہسپانوی زبان میں  Catedral de la Santa Cruzy Santa Eulalia کہلاتاہے ۔ گوتھک طرز کےبنے اس کیتھڈرل میں آرک بشپ براجمان ہوتے ہیں۔ اسے 13ویں صدی سے لے کر 15ویں صدی کے دوران بنایا گیا تھا، لیکن اس کی تعمیر کا اہم ترین کام 14ویں صدی میں مکمل ہوا۔ اس کے سامنے کا حصہ 19ویں صدی میں بنایا گیا۔ یہ چرچ بارسلونا کے یولالیا (Eulalia of Barcelona) کے نام سے منسوب ہے، جس نے رومن بادشاہت کے دور میں اپنی جان قربان کردی تھی۔

تعمیرات سے مزید