آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملک کے طول و عرض میں پچھلے سال سوا سال سے مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے، معاشی بہتری کے تمام حکومتی دعوئوں کے باوجود اس کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق 51بنیادی اشیاء میں سے 43کی قیمت میں 289فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ گندم کا آٹا جو ہر گھر میں روز کی لازمی ضرورت ہے، دس سے پندرہ روپے فی کلو تک مہنگا ہو چکا ہے، چینی کے نرخ ملک کے مختلف حصوں میں پچاس باون سے بڑھ کر اَسّی نوّے روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔ دودھ، دہی، انڈے، گھی، تیل، دالیں، چاول ہی نہیں آلو، پیاز، ٹماٹر، گوبھی، بینگن، لوکی، گاجر، ادرک، لہسن اور تمام سبزیاں کم آمدنی والے طبقات تو درکنار متوسط گھرانوں کی پہنچ سے بھی دور ہو گئی ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کی اب تک کی جانے والی تمام حکومتی کوششیں بظاہر قطعی غیر مؤثر ہیں جبکہ مہنگائی کے معاملے میں ملک کے معاشی حکمت کاروں کی ٹیم کے سربراہ کی ’’باخبری‘‘ کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ روز قومی معیشت کے حوالے سے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد اقتصادی صورتحال پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ میں خوردہ بازاروں میں تین سو روپے فی کلو تک پہنچ جانے والے ٹماٹر کے بارے میں انہوں نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ کراچی کی سبزی منڈی میں

ٹماٹر 17روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے اور جب اس دعوے کو خلافِ حقیقت قرار دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ اس کا ذریعہ کیا ہے تو مبینہ طور پر انہوں نے فرمایا کہ کسی ٹی وی چینل پر یہ بات سنی تھی۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی اس مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ حکومت کی توجہ قیمتوں کی صورتحال پر مرتکز ہے، وزیراعظم کو قیمتوں میں اضافے پر سب سے زیادہ دکھ ہوتا ہے اور حکومت مہنگائی میں کمی کے مختلف طریقوں پر عمل کررہی ہے۔ مہنگائی میں کمی کے لیے حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ مڈل مین کا کردار ختم کرکے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار براہ راست منڈی میں فروخت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے نیز آن لائن خریداری کو فروغ دیا جائے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ملک کی کتنے فیصد آبادی کو آن لائن رابطوں کی سہولت حاصل ہے اور کتنے لوگ اس سے استفادے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ مڈل مین کا کردار ختم کردینے سے جو لاکھوں افراد بےروزگار ہوں گے، ان کی دال روٹی کا بندوبست کیسے ہوگا اور کون کرے گا۔ کیا انہیں متبادل روزگار فراہم کرنے کی بھی کوئی تدبیر سوچی گئی ہے۔ اقتصادی ٹیم کی پریس بریفنگ میں بڑے معاشی اِشاریوں کے حوالے سے فراہم کی گئی یہ معلومات یقیناً خوش کن ہیں کہ تجارتی خسارے میں کمی ہورہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، برآمدات میں چار جبکہ ٹیکس وصولیوں میں سولہ فیصد اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے بقدر سابقہ ادوار حکومت کے غیرملکی قرضے واپس کیے گئے ہیں، اس مدت میں حکومت نے اسٹیٹ بینک سے ایک روپیہ بھی ادھار نہیں لیا اور نہ ہی نئے نوٹ چھاپے جارہے ہیں، برآمدات بڑھانے کے لیے دو سو ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو سستے قرضے اور سبسڈی فراہم کی جا سکے اور یہ کہ برآمد کنندگان کو ریفنڈ کی مد میں تیس ارب روپے نقد ادا کیے جائیں گے۔ یہ کامیابیاں یقیناً امید افزاء ہیں لیکن کسی بھی قوم کی خوشحالی کا اصل پیمانہ عام آدمی کی حالت میں بہتری اور مشکلات میں کمی ہوتا ہے۔ لہٰذا معاشی اِشاریوں میں اس بہتری کے اثرات کو کم سے کم وقت میں عام آدمی تک منتقل کرنے خصوصاً مہنگائی کے عذاب پر قابو پانے کی ہر ممکن تدبیر کسی لیت و لعل کے بغیر اختیار کی جانی چاہئے۔