آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میڈیا سیفٹی نیشنل پروٹوکول اور گائیڈ لائنز بنانے پر اتفاق

پاکستان کی اہم صحافتی تنظیموں نے میڈیا سیفٹی کے حوالے سے نیشنل پروٹوکول اور گائیڈلائنز وضع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک رضاکارانہ سیلف ریگولیشن چارٹر تیار کیا جائے گا، جس میں بچاؤ، تحفظ اور سزا پر مشتمل تین عالمی معیار کے سیفٹی میکنزم کے ذریعے میڈیا سیفٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ مجوزہ چارٹر میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ اتفاق رائے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے سی پی این ای سیکریٹریٹ میں منعقدہ ملٹی اسٹیک ہولڈرز اجلاس کے دوران ہوا۔

اس اجلاس میں جنرل سیکریٹری سی پی این ای ڈاکٹر جبار خٹک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریڈم نیٹ ورک اقبال خٹک، انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ اسلام آباد کے عدنان رحمت، نو تشکیل شدہ ایسوسی ایشن آف ڈیجیٹل نیوز ایڈیٹرز و ڈائریکٹرز کی جانب سے اظہر عباس (جیو نیوز)، صدر کراچی پریس کلب امتیاز خان فاران، سربراہ سی پی این ای میڈیا سیفٹی کمیٹی عامر محمود، سینئر ایڈیٹر مقصود یوسفی اور سینئر صحافی شہربانو نے شرکت کی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اقبال خٹک نے کہا کہ میڈیا سیفٹی کا ادراک کر کے صحافیوں کی زندگیوں کو آسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔ ممکنہ خطرات کا ادراک نہ رکھنے یا نظرانداز کرنے والے صحافیوں کی زندگیوں کو زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پی این ای اور فریڈم نیٹ ورک کے گزشتہ روز منعقدہ ایونٹ میں وزیراطلاعات سندھ سعید غنی کی جانب سے میڈیا سیفٹی کے سلسلے میں کرائی گئی یقین دہانیاں خوش آئند ہیں۔

اقبال خٹک نے امید ظاہر کی کہ سندھ میڈیا سیفٹی کے حوالے سے جلد قانون سازی کرنے والا پہلا صوبہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی میڈیا کو درپیش خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، البتہ فوری اقدامات کر کے ایسے خطرات بہت حد تک کم کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا سیفٹی کے لیے سیلف ریگولیشن کی شدید ضرورت ہے جس کے لیے فریڈم نیٹ ورک اور سی پی این ای کوشاں ہیں۔ عدنان رحمت نے بتایا کہ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو مختلف خطرات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے، جس میں کم ازکم سالانہ بنیادوں پر اس کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔

پاکستان میں گزشتہ 19 سالوں کے دوران 133 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ تاہم مشترکہ اور بروقت کوششوں سے 92 صحافیوں کی زندگیاں بچائی بھی گئی ہیں۔ صرف اس سال دنیا بھر میں اب تک 83 صحافی قتل ہو چکے ہیں۔

مجوزہ چارٹر کے خد و خال واضح کرتے ہوئے عدنان رحمت نے بتایا کہ سیلف ریگولیشن چارٹر کا مقصد معیاری پالیسیوں کے ذریعے میڈیا ہاؤسز، ایڈیٹرز اور صحافیوں سمیت تمام میڈیا پریکٹشنرز کا تحفظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میڈیا سیفٹی میکنزم بنانے میں بھرپور معاونت فراہم کریں گے۔

اظہر عباس نے کہا کہ میڈیا سیفٹی اور آزادیٔ اظہار رائے پر کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا، میڈیا کمیونٹی کے تحفظ کے لیے ہر اقدام کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس مجوزہ چارٹر میں تمام اقسام کے میڈیا ہاؤسز کے فیلڈ اور عملی مسائل کو بھی شامل کیا جائے تاکہ تمام لوگ اس سے استفادہ  کر سکیں۔

ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ مجوزہ چارٹر کو مزید مؤثر بنانے اور بہترین نتائج کے حصول کے لیے تمام میڈیا تنظیموں کو اس کا حصہ بناکر وسعت دی جائے۔

عامر محمود نے بتایا کہ سی پی این ای میڈیا سیفٹی کمیٹی کی مدد سے بغیر کسی لاگت کے میڈیا ہاؤسز کا سکیورٹی آڈٹ کرانے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

قومی خبریں سے مزید