آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جمعرات کے روز اسلام آباد میں بین الاقوامی مارگلہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نسل پرستی کے خطرناک نظریے پر عمل پیرا ہے اور وہاں جرمن نازی ازم کی طرح ہندو توا کی جڑیں پھیل رہی ہیں، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بھارت ہے جس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا مشکل ہو گیا ہے، مودی نے کشمیریوں کو دیوار سے لگا رکھا ہے، پاکستان کشمیر کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے شدت پسند نظریے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں، دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ خطے میں انتہائی کشیدگی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچے بھی بھارتی بربریت سے محفوظ نہیں۔ انسانی شعور ہزاروں برس کی عرق ریزی سے اس مسلمہ حقیقت تک پہنچا ہے کہ نوع انسانی کیلئے امن و آشتی اور مساوات سے بڑی نعمت کوئی نہیں جبکہ عدم مساوات اور جنگ سے بڑی زحمت بھی کوئی نہیں۔ پاکستان کی یہ حرماں نصیبی رہی کہ اسے بھارت ایسا ہمسایہ مل گیا جو کسی بھی قسم کے اخلاقی وصف سے تہی داماں ہے جس نے قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمالیا اور جنگ چھیڑ دی، یہی نہیں جنگ بندی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں سے بھی منحرف ہوگیا جو کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیتی ہیں، تاریخ عالم میں شاید ہی کسی قوم نے اتنے مظالم سہے ہوں جو کشمیریوں

نے جھیلے، تقریباً ساڑھے تین ماہ سے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں لیکن بھارتی جور و تعدی کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑا اور لڑ رہا ہے اس ضمن میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی حالات کو سنگین تر بنا رہی ہے، سب جانتے ہیں کہ ان کا یہ طرزِ عمل کیسے ہولناک تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ صرف پاکستانی عوام ہی نہیں ہر درد دل رکھنے والا فرد مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی تکالیف، مصائب اور مشکلات پر بے چین ہے، بھارتی قیادت نے مذہبی جنونیت، مسلم دشمنی اور تعصب کی وجہ اور طاقت کے زعم میں شہری حقوق پر جو حملہ کیا ہے ہمارے ہی نہیں پوری عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہے۔ پاکستان کا موقف سب کے سامنے ہے کہ پُرامن اور آبرو مندانہ طریقے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ مسئلہ حل کیا جائے۔ دوسری صورت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، دنیا کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پاکستان کے یومِ دفاع پر کیا گیا عزم یاد ہوگا کہ ’’پاکستان کے بہادر عوام اور افواج اپنے کشمیری بھائیوں کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں، ہم آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں‘‘۔ ان حالات میں یہ بھارت کی اپنی طاقت کے بارے میں محض خوش فہمی اور ڈھٹائی ہے کہ وہ پاکستان سے مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا، اس کے پاس کوئی اخلاقی جواز بھی نہیں۔ اس نے کشمیریوں کو لالچ دینے کی بھی کوشش کی جسے انہوں نے پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ اب کشمیری اس سطح پر آ چکے ہیں کہ آزادی یا شہادت کے سوا کسی اور شے کے متمنی ہی نہیں، ایسے حالات میں کشمیریوں اور ان کی تحریک آزادی کو دبانا ممکن نہیں۔ بھارتی قیادت بلاشبہ اسی فاشسٹ نظریے پر عمل پیرا ہے جس کا وزیراعظم پاکستان نے اظہار کیا ہے لیکن وہ شاید اس کے انجام سے غافل ہے۔ خود بھارت میں قریباً ڈیڑھ درجن علیحدگی کی مسلح تحریکیں جاری ہیں۔ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پائیدار قیام امن کی پاکستانی کاوشوں کو ثمربار کرنے کیلئے آگے آئے، یہ بھول جائے کہ وہ ظلم سے کشمیر پر قبضہ برقرار رکھ سکتی ہے، یہ معاملات آج نہیں تو کل باہمی گفت وشنید سے ہی حل ہوں گے؛ تاہم بھارت کا کوئی احمقانہ اقدام خطے کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اپنے حقیر مفادات کو پس پشت ڈال کر بنیادی انسانی حقوق کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقدامات کرے، خطے کا امن اسی مسئلے کے حل سے مشروط ہے۔