آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہباز احمد، فیصل آباد

پاکستان کے مانچسٹر، ’’فیصل آباد‘‘ کی زرخیز زمین سے ایسے اَن گنت لوگ سامنے آئے ہیں، جو کسی نہ کسی طور وطنِ عزیز کا نام روشن کرنے کا باعث بنے۔

اگرایک طرف فیصل آبادیوں نےمیدانِ سیاست میں خُوب نام کمایا،تو وہیں اس مٹّی میں جنم لینے والے کھلاڑیوں نے بھی کھیل کے میدانوں میںفتح کے جھنڈے گاڑے ۔ اور ایسے ہی کھلاڑیوں میں ایک نام ’’ محمّد آصف ‘‘ کابھی ہے،جنہوں نے دوسری مرتبہ ورلڈا سنوکر چیمپیئن شِپ جیت کر مُلک کا نام تو روشن کیا ہی ، ساتھ ہی پاکستان کے پہلے ،2مرتبہ ورلڈ اسنوکر چیمپیئن بننے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔قبل ازیں، محمّد آصف نے 2012ء میں ورلڈ اسنوکر چیمپیئن شِپ جیتی تھی۔ یہی نہیں،ان سے قبل محمّدیوسف 1994ء میںعالمی ا سنوکر چیمپیئن بن کر وطنِ عزیز کا نام روشن کر چُکے ہیں۔ 2004ء میں ایک اور پاکستانی کھلاڑی صالح محمّد نے فائنل تک تو رسائی حاصل کر لی تھی۔ تاہم، فائنل میں انہیں بھارت کے پنکج ایڈوانی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انٹرنیشنل اسنوکر اینڈ بلیئرڈز ایسوسی ایشن (آئی بی ایس ایف) کے زیرِ اہتمام(امیچور) ورلڈ اسنوکر چیمپیئن شِپ کا فائنل 9نومبر کو ترکی کے شہر انطالیہ میں کھیلا گیا۔ اس چیمپیئن شِپ میں 44ممالک نے شرکت کی ۔ فائنل میچ میں محمد آصف نے فلپائن کے جیفری روڈا کو پانچ کے مقابلے میں آٹھ فریم سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ انہوں نے پہلے تین فریم 35-68، 00-88، 01-69سے اپنے نام کیے اور اس کے علاوہ پانچویں فریم میں 105 پوائنٹ کی بریک بھی کھیلی۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ محمّد آصف پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہے۔ فائنل جیتنے کے بعد پاکستان کے بیٹے نے اپنی فتح کو کشمیری عوام کے نام کرتے ہوئے کہا کہ’’ ان کے لیے یہ ٹورنامنٹ آسان نہیں تھا کہ ہر کھلاڑی ہی منجھا ہواتھا، لیکن وہ جیت کے جذبے سے سرشار تھے۔اور با الآخر اعزاز اپنے نام کیا۔‘‘

دوسری مرتبہ عالمی ا سنوکر چیمپیئن بننے کے بعد، محمّد آصف جب اپنے آبائی شہر، فیصل آباد پہنچے، تو شہریوں نے فاتح کھلاڑی کا والہانہ استقبال کیا۔روایتی انداز میں ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں نے بھنگڑے ڈالے،پھول نچھاور کیے اورشہر بھر میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ بعدازاں، محمّد آصف کو ضلع کاؤنسل چوک سے بگھی میں سوار کر کے چوک گھنٹہ گھر سے ڈگلس پورہ لے جایا گیا۔ راستے میں وہ جہاں جہاں جس گلی، محلّے، سڑک سے گزرے، وہاں کے تاجروں نے پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا۔ 

ڈگلس پورہ میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں محمّد آصف نے والہانہ استقبال پر شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ’’ ماضی میںعالمی چمپیئن بننے پر سرکاری طور پر مجھے نظر انداز کیا گیا ۔تاہم ،اب اُمید ہے کہ موجودہ حکومت ماضی میںبرتی گئی بے اعتنائی کا ازالہ کرے گی۔‘‘ اس موقعے پر سابق قومی کرکٹر سعید اجمل نے انہیں اپنی فلاحی تنظیم ،سعید اجمل فاؤنڈیشن کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ واضح رہے کہ 2012ء میں محمّد آصف کے عالمی چیمپیئن بننے پر اُس وقت کے وزیرِ کھیل، میر ہزار خان بجا رانی نے وزارتِ کھیل کی جانب سے انہیں ایک کروڑ روپے، سابق وزیرِ اعظم پاکستان، راجہ پرویز اشرف نے 15لاکھ روپے اورسندھ، پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں نے 10، 10لاکھ روپے کی انعامی رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔

جس میں سے صرف حکومتِ پنجاب کے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ، شہباز شریف نے وعدے کی پاس داری کی اور 10لاکھ روپے کی انعامی رقم محمّد آصف کو ادا کی گئی، لیکن دیگر صوبائی حکومتوں اور وفاق کی طرف سے انہیں تاحال رقم نہیں ملی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ دوسری مرتبہ عالمی اعزا ز اپنے نام کرنے کے با وجود اس کھلاڑی کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی جا رہی۔ حالاں کہ موجودہ حکومت کی تو باگ ڈور ہی ’’کپتان‘‘ کے ہاتھ ہے۔ محمّد آصف کے لیے حکومت یا کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے نہ تو کسی استقبالیے کا انعقاد کیا گیا اور تادمِ تحریرنہ ہی کسی انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن فخرِ پاکستان، محمّد آصف اس بات سے قطعاً مایوس نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ’’ وزیرِ اعظم، عمران خان خود ایک اسپورٹس لیجنڈ ہیں اور انہیں اُمید ہے کہ وہ اسنوکر سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے اقدامات کے ساتھ کھلاڑیوں کی پذیرائی بھی کریں گے۔‘‘

محمّد آصف کا تعلق فیصل آباد کے علاقے شیخ کالونی کے ایک متوسّط گھرانے سے ہےاوران کا اسنوکر چیمپیئن بننے تک کا سفر انتہائی دل چسپ ہے۔جھنگ روڈ سے متصل اس علاقے میں وہ چار فیٹ چوڑی ایک تنگ گلی میں واقع اپنے آبائی گھر میں والدین اور تین شادی شدہ بھائیوں کےساتھ رہتے ہیں۔ وہ خود بھی شادی شدہ اور دو بچّوں کے باپ ہیں۔ محمّد آصف کے والد محمّد انور ،غلّہ منڈی میں دال کی ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے ، اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے دو بھائی اب بھی اسی فیکٹری میں ملازم ہیں، جب کہ چھوٹے بھائی اور آصف نے مل کر ایک اسنوکر کلب قائم کیا ہواہے۔ محمّد آصف ایک باصلاحیت کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہیں ۔ انہیں بچپن ہی سےا سنوکر کھیلنے کا شوق تھا۔ اُن کے والد کا کہنا ہے کہ ’’شروع شروع میں ، مَیں آصف کے اسنوکر کھیلنے کے شوق پر خوش نہیں تھا۔ میری خواہش تھی کہ وہ میرے ساتھ دال کی فیکٹری میں کام کرے۔ تاہم، محمّد آصف نے محنت جاری رکھی اورپھر انہیں اپنے کیریئر کی پہلی بڑی کام یابی 2012ء میں عالمی چیمپیئن کی صُورت حاصل ہوئی ۔ 

یہ چیمپیئن شِپ جیتنے کے لیے اس نے چھے سال لگاتار سرکٹ میچ کھیلے اور ساتھ ساتھ گھر والوں کی معاشی سپورٹ کے لیے جُزوقتی کام بھی کیے۔‘‘ پہلی بارعالمی چیمپیئن بننے پر محمّد آصف کو نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے کانٹریکٹ پر ملازمت ملی، جو آج بھی جاری ہے۔ اس دوران انہیں زرعی یونی وَرسٹی، فیصل آباد کی اسنوکر اکیڈمی میں کوچنگ کا بھی موقع ملا، لیکن اس کا انہیں معاوضہ نہیں ملتا۔ اس ضمن میں محمّد آصف کا کہنا ہے کہ ’’مَیں نے بلا معاوضہ کوچنگ کی ذمّے داری اس لیے لی تھی کہ اس طرح مجھے بھی پریکٹس کا موقع مل جاتا تھا۔ تاہم، افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یہ اکیڈمی بھی بند ہے۔‘‘ محمد آصف ینگ ٹیلنٹ نکھارنے کے لیے عالمی معیار کی اسنوکر اکیڈمی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ اگر اسنوکر فیڈریشن اور حکومت اس سلسلے میں تعاون کرے، تو وہ پاکستان کے لیے کئی عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں مُلک کا نام روشن کرنے کا باعث بنیں گے۔‘‘

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسنوکر کا شمار ان پانچ کھیلوں میں ہوتا ہے، جن کاپاکستان عالمی چیمپیئن بن چکا ہے، لیکن اس کھیل سے وابستہ کھلاڑی آج بھی حکومتی عدم توجّہی کا گلہ کرتے ہی نظر آتے ہیں۔ وزیرِ اعظم، عمران خان خود ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر رہ چکے ہیں۔وہ کھلاڑیوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ جہاں پرانے پاکستان کے دیگر طور طریقے بدل رہے ہیں، وہیں دیگر کھیلوں کو بھی کرکٹ ہی کی طرح اہمیت دینے کی روایت قائم کردیں۔