آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ماضی کے مزاحیہ اداکار نرالاکو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) 9 دسمبر کو ماضی کے مشہور و معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار نرالا کی29 برسی منائی جا ئے گی۔نرالا کا اصل نام سید مظفر حسین زیدی تھا اور وہ 8 اگست 1937 کو پیدا ہوئے۔ 1960 میں ہدایت کار اے ایچ صدیقی کی فل’’اور بھی غم ہیں‘‘میں پہلی بار جلوہ گرہوئے۔ پاکستان کی پہلی اردو پلاٹنیم جوبلی فلم’’ارمان‘‘میں بہترین مزاحیہ اداکار کے نگار ایوارڈ کے حق دار ٹھرے۔ نرالا نے 100سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی یادگار فلموں میں سپیرن، مسٹر ایکس، شرارات، چھوٹی بہن، ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان،سمندر، ایسا بھی ہوتا ہے،ہونہار،پھر صبح ہوگی، دوراہا،زمین کا چاند، انسان اور گدھا، نواب زادہ، گھر داماد،راجہ، اجالا، انجانے راستے، وقت کی پکار، میرے لال، میرے بچے میری آنکھیں،جہان تم وہاں ہم، سالگرہ، بھر چاند نکلے گا، السلام علیکم،بھر چاند نکلے گا، نصیب اپنا اپنا، جھک گیا آسمان، نیند ہمارے خواب تمہارے، بے ایمان، انمول، سہرے کے پھول، دشمن، اسے دیکھا اسے چاہا، گنوار، دلربا اور روٹھا نہ کرو، وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی آخری فلم چوروں کا بادشاہ تھی۔نرالاشاعری بھی کیا کرتے تھے ان کا قلمی نام نسیم لکھنوی تھا۔نرالا نے 9 دسمبر 1990 کوکراچی میں وفات پائی اور کراچی ہی میں پیوند خاک ہوئے۔
دل لگی سے مزید