آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نان ڈیوٹی پیڈ مصنوعات کو ٹیکس اور جرمانے کی ادائیگی پر چھوٹ دی جائے گی

اسلام آباد (مہتاب حیدر) سالانہ دس ارب ڈالرز مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء کو قانونی شکل دینے کی تازہ کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے ایک ملک گیر اسکیم کے تحت نان ڈیوٹی پیڈ مصنوعات رکھنے والوں کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کےساتھ جرمانے کی ادائیگی پر چھوٹ دے دی جائے گی۔ اس میں فاسٹ مووونگ کنزیومرگڈز (ایف ایم سی جی) جیسا کہ گوشت ، پھل ، سبزیاں اور ڈیری مصنوعات شامل ہیں۔ ایک طرح سے اس ایمنسٹی اسکیم کا اطلاق اسمگل شدہ گاڑیوں پر نہیں ہوگا۔ ایف بی آر کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ جرمانے کی شق کی موجودگی میں اسے ایمنسٹی اسکیم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قطعی تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے لائی جائیں گی۔ اس کا مقصد کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے علاوہ کاروباری اعتماد کو کوئی زک پہنچائے بغیر دستاویزی عمل کو بہتر بنانا ہے۔

یہ بات چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے ایک پیغام میں کہی۔ یہ کاروباری ساکھ کو بہتر بنانے کا آخری موقع ہے۔ اس کے بعد معینہ مدت گزر جانے کے بعد اسمگل شدہ اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مذکورہ منصوبے کے لئے حکمت عملی پر ممبر (کسٹمز آپریشن) ڈاکٹر جواد اویس آغا کام کررہے ہیں۔ ایف بی آر کی مشترکہ خصوصی ٹیموں نے یکم ستمبر 2019ء سے شروع انسداد اسمگلنگ مہم مکمل کرلی ہے۔ کسٹمز اتھارٹی کے تحت مختلف متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے ساتھ افغان اور ایرانی سرحدوں پر اسمگلنگ کے تدارک کے لئے کسٹمز انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس، ایف آئی اے اور ایف بی آر کی بھی مدد حاصل کی جائے گی۔ ایف بی آر میں ذرائع کے مطابق ملک میں اسمگل مصنوعات کا حجم 10؍ ارب ڈالرز سالانہ سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایف بی آر حکام ان اعداد و شمار کے مستند ہونے سے متفق نہیں ہیں۔ اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے البتہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اسمگلنگ کی لعنت نے ایف بی آر کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسمگل شدہ اشیاء کیخلاف بھرپور کارروائی سے قبل ایف بی آر بڑے شہروں میں کاروبارہ افراد کو اپنی مصنوعات فروخت کا موقع دہنا چاہتا ہے کہ فاسٹ موونگ کنزیومر گذز کی کلیئرنس طے کرالیں کیوں کہ مجوزہ اسکیم کی معینہ مدت گذر جانے کے بعد اسمگل اشیاء کےخلاف سخت کارروائی کی جائے گی ، کسٹمز ایکٹ 1969کے تحت صارفین کو فروخت کے لئے دستیاب مصنوعات کی درآمدی دستاویزات طلب کی جاسکتی ہے۔

فاسٹ مووونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) وہ مصنوعات ہیں جوہ نسبتاً کم قیمت پر تیزی سے فروخت ہوتی ہیں جس میں پیکیجڈ فوڈ ، مشروبات ، کچھ دوائیں اور دیگر استعمال میں آنے والی اشیاء شامل ہیں ، جنہیں ذخیرہ کرنے کو عرصہ بڑا مختصر ہوتا ہے جیسے گوشت، پھل ، سبزیاں اور ڈیری مصنوعات ہیں ، دیگر اشیاء جن کے برقرار رہنے کا دورانیہ اس سے زیادہ طویل ہے جیسے پیکیجڈ فوڈ (ڈبہ بند غذائیں) ہلکے مشروبات ، چاکلیٹ ، ٹافیاں ان میں شامل یہں ، ایف بی آر کی طے کردہ تعریف کے مطابق ایف ایم سی جی وہ مصنوعات ہیں جو خوردہ مارکیٹ کو روزانہ کی طلب کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید