آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسئلہ مساکین کے مسکن کا…

حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی لندن
 زمانے کے ساتھ ساتھ سب ہی کچھ چلتا ہے بلکہ انسان ہیں تو زمانہ ہے اور پھر زمانے کے ساتھ ہزار ہا قسم کے مسائل ہیں۔ انسان کسی بھی زمانے کے ہوں مگر کبھی کہیں کوئی خوش ہے تو کہیں کوئی مجبور ہے، یعنی مفلس ہے، لا مکاں ہے، نادار ہے، بے چارہ ہے، ناتواں ہے۔ انہیں اگر مساکین کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ ایسے ہی بہت سے مساکین کو مسکن چاہئے ہوتا ہے۔ ایسے میں ریاست کے فرائض اولین میں عوام کی خوشحالی اور سکون و تحفظ ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے اور ریاست کے کرتا دھرتائوں کو چاہئے بناکسی تفریق کے سب ہی کو سہولیات فراہم کریں، ناکہ صرف اپنے خوشامدیوں اور مسکہ بازوں کو نوازا جائے کہ جو جو مسکہ لگائے بس اسے ہی نوازو۔ جیساکہ حالیہ حالات میں ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے کہ تفریق برتی جاتی ہے جو جس جماعت سے تعلق رکھتا ہے اسے ہی روزگار بھی دو اور آشیانہ و ٹھکانہ بھی۔ یورپ میں تو ایک ہی آنکھ سے عوام کو دیکھا جاتا ہے سب ہی کو سہولیات کا مستحق جانا جاتا ہے، کیاغریب تو کیا درمیانہ طبقہ، سب ہی کیلئے تسلی و سکون کے امکان کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ گھر اور روزگار سے سب ہی مطمئن ہوں، ہر سیاسی جماعت اقتدار سے پہلے بے حد دعوے کرتی ہے۔ یوں جانو کہ اقتدار سےپہلے جو خواب دکھائے جاتے ہیں تو تعبیر سے پہلے لوگوں کے دل میں اترنے کو خواب اور خواب کی حسین الفاظ و آس امید میں جو تمہید باندھی جاتی ہے وہی تمہید امید کی صورت میں لوگوں کے دل میں گھر کرلیتی ہے۔ گھر بے شک انہیں بعد میں ملے یا نہ ملے، حسین الفاظ کی مالا پروکر انہیں گرویدہ کیا جاتا ہے بعد میں روزگار انہیں ملے یا نہ ملے۔تیسری دنیا کے ممالک نے تو اقتدار سے پہلے ٹھوک بجا کے گھر اور نوکری دینے کا وعدہ سیاسی منشور میں شامل کرکے اپنے لئے اس کامیاب نعرے سے دکان سجالی سیاست کی۔ مگر اب اہل یورپ بھی اس قسم کے وعدوں سے اپنی سیاسی جماعت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جیسے بے گھروں کو اور بے روزگاروں کو یہ بھی سہولت دیں گے۔جی ہاں لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن نے کہا ہےکہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بے گھر لوگوں کیلئے 8ہزار مکان خریدیں گے یعنی لیبر پارٹی حکومت بے گھر لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لئے فوری طور یہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ میں کھلے آسمان اور فٹ پاتھ پر سونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور برطانیہ میں حالیہ 3سال کے دوران بے گھر لوگوں کی تعدادمیں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سالوں میں سردی کے موسم میں بغیر چھت کے فٹ پاتھ پر سونے اور رہنے والوں کی تعداد 4ہزار 751 تھی جو کہ ایک شرمناک اور غیر یقینی صورتحال ہے۔ اسی لئے لیبر پارٹی کی حکومت بے گھر لوگوں کو سرچھپانے کو گھر دے گی اور 8ہزار مکان خریدے گی انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوکل اتھارٹیز کو مزید مکان تعمیر کرنا ہوں گے۔جرمی کوربن نے یہ سب بی بی سی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ویسے تو لیبرپارٹی کے برسراقتدار آنے کو لوگ بے حد دلچسپ شگون قرار دیتے ہیں خاص کر غیر ملکی جو مختلف ممالک سے آکر برطانیہ میں آباد ہیں۔ غیر ملکی جتنے بھی برطانیہ میں آباد ہیں وہ سب یہاں کی سیاسی جماعتوں کی معمولی چپقلش سے محظوظ ہوتے ہیں اور گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ سیاست تقریباً ایک جیسی ہی ہے۔ یعنی جھوٹے وعدوں اور دھوکے سے عوام کو اپنی طرف مائل کرنا ان کی خواہش کے مطابق ایجنڈا تیار کرنااور پرکشش مراعات سے نوازنے کا وعدہ کرنا جس میں گھر اور نوکری اہم ہے۔ہم اپنے ملک کی حالیہ حکومت کےو عدے وعید پر بعد میں جائیں گے مگر ذرا بھارتی وزیراعظم کی جھوٹی اور غیر حقیقی سیاسی گفتگو دیکھئے جنہیں انہیں کے مخالفین نے بے نقاب کیا اور نشانہ بنایا۔ مودی ہمیشہ اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کی مخالف جماعت کانگریس بھی ان کی کارکردگی کا کچا چٹھا کھولتی رہتی ہے۔ اپنی ناکامیوں کو مودی نے کشمیریوں کی اذیت ناک حالت میں چھپا رکھا ہے اور بھارت کے مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کرکے کہ میں کتنا ظالم و جابر ہوں اس بات کی خوشی وہ انتہا پسند ہندئووں میں پھیلاتا رہتا ہے۔ مودی کے بقول کہ ہم بھی کروڑوں گھر اور نوکریاں بانٹیں گے وہ بھی جھوٹا ایجنڈا ہے جبکہ وہ گھر بھی اگر دے گا تو ہندوئوں کو جائیں گے مسلمانوں کو نہیں ،مودی بھی وہی راگ الاپ رہا ہے کہ کرپشن نے عوام کے خواب تباہ کردیئے، سابق حکومت بد عنوانی میں ڈوبی ہوئی تھی، ہم نے اقتدار میں آکر کرپشن کا خاتمہ کیا۔دوسری جانب اپوزیشن کی سخت تنقید ہے مودی حکومت پر کہ کسان خود کشی کررہے ہیں اور یہ کامیابیوں کا راگ الاپ رہے ہیں نہ گھر ،نہ روزگار کچھ نہیں ملے گا عوام کو، ویسے جہاں یورپ اور ایشیا کی سیاست کی بنیاد جھوٹ پرہے تو لگتا ہے دنیا بھر کے سیاستدانوں کی پالیسی جھوٹ کا پلندہ ہے اچھی باتیں جھوٹے سہارے صرف ان کے ایجنڈے میں شامل ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آج کل ہماری حکومت کو بھی اپوزیشن والے اور اپوزیشن کے حامی لوگ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ کہاں گئی وہ آشیانہ، نشیمن، گھر اور مسکن کی اسکیم کہ جس کیلئے عمران خان بے حد سنجیدگی سے غریبوں کی امیدیں بندھا رہے تھے کہ نئے پاکستان میں عوام کیلئے اپنا گھر نہایت مناسب قیمت اور آسان اقساط پر فراہم کیا جائے گا۔عوام ابھی تک عمرانیات کے وعدے پر تکیہ کئے ہوئے ہیں کہ عمران نے اپنا امیج ایک سچے لیڈر کا بنا رکھا ہے۔ مگر یہاں بھی کوئی خواب سچا ہوکر نہ دیا، چاہے وہ بھٹو کا مشہور نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان کا ہو، جیرمی کوربن کا ہوم لیس لوگوں کا ہو، مودی کا جھوٹا وعدہ ہو یا پھر عمران خان کا مساکین کو مسکن دینے کا ہو، یہ نعرے گونجتے رہیں گے لیڈران کی طرف سے، مگر شاید لیڈران کا جی چاہتا ہو کہ یہ سب کچھ عوام کو دیں مگر حالات شاید اقتدار میں آنے کے بعد بدل جاتے ہوں اور بے چاروں کے مسکن رہ جاتے ہیں ٹوٹے خواب کی طرح۔
یورپ سے سے مزید