آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار30؍جمادی الاوّل 1441ھ 26؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بچیوں کو وزن پر ٹوکنے سے ان کی زندگی متاثر ہوسکتی ہے، تحقیق

بچیوں کو وزن پر ٹوکنے سے ان کی زندگی متاثر ہوسکتی ہے، تحقیق


کھانے کی خرابی کی تشخیص کے ماہر اور غذائیت دان لائنڈی کوہین نے بتایا ہے کہ اپنی بیٹی کے وزن سے متعلق اس پر تبصرہ نہ کریں کیونکہ اگر آپ ایسا کریں گے تو اس سے انہیں صحت کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

آسٹریلیا میں مقیم یہ غذائیت دان کہتی ہیں کہ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ اپنی بیٹی کی حفاظت کر رہے ہیں، چاہے اسے اس کے بڑھتے ہوئے وزن کے بارے میں ہی کیوں نہ آگاہ کر رہے ہوں، اس کا بچی کو آگے چل کر نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

اپنے ایک بلاگ میں لائنڈی کوہن کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس اپنی بچی کے وزن پر تبصرہ کرنے کا جواز نہیں ہے کیونکہ اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ صرف ایک ہی چیز سمجھے گی اور وہ ہوگا کہ ’میں اچھی نہیں ہوں۔‘

مزید پڑھیے: سردیوں میں میتھی کو نظر انداز نہ کریں

انہوں نے مزید کہا کہ سائنس بھی اس بات کو سراہتا ہے کہ آپ اپنی بیٹی کے وزن پر کوئی تبصرہ نہ کریں۔

ماہر غذائیت کا کہنا تھا کہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیٹیوں کے وزن پر تنقید کرنے سے ان میں اپنے نسوانی حسن کو پسند نہ کرنے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کی وجہ سے بچیوں میں کھانے سے متعلق خرابی پیدا ہوجاتی ہے جبکہ انہیں بنج ایٹنگ ڈس آرڈر (بی ای ڈی) کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

بی ای ڈی میں اکثر کھانے پر کنٹرول نہیں رہتا اور انسان اپنی بھوک سے زائد کھانا کھا لیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔

لائنڈی کہتی ہیں کہ ان کا اپنا بچن بھی بہت شاندار رہا ہے، لیکن جہاں تک انہیں یاد ہے تو ان کے والدین بھی ان کے وزن پر تنقید کیا کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی کلاس میں ان کے ساتھ مزید 3 لڑکیاں تھیں لیکن ان کا وزن دیگر تینوں لڑکیوں سے زیادہ تھا، تاہم اسی وجہ سے ان کے والدین انہیں زیادہ وزن سے ہونے والے احساس محرومی سے بچانا چاہتے تھے۔

لائنڈی کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے ان کی مدد تو نہ ہوسکی لیکن وہ اس کی وجہ سے چھپ چھپ کر کھانے لگ گئیں۔

ماہر غذائیت کہتی ہیں کہ وہ اس معاملے میں اپنے والدین کو قصوروار نہیں ٹھہرائیں گی کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ جو بھی ان کے والدین کیا کرتے تھے وہ اپنی بیٹی کی بھلائی کے لیے تھا، اور یہی وہ روایتی طریقہ تھا جو انہوں نے اپنے والدین سے سیکھا تھا۔

مزید پڑھیے: کونسی عادتیں دانتوں کے لیے مضر ہیں؟

تاہم انہوں نے اس معلومات کو اپنے بچوں میں متنقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

لائنڈی کہتی ہیں کہ آپ اپنی بچی کو کچھ کہنے سے قبل اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا آپ نے کبھی خود اپنی صحت پر منفی بات کی ہے؟

وہ کہتی ہیں کہ صحت مند زندگی کی لیے پہلے بچیوں کی جسامت سے متعلق منفی جملوں کو اپنی زندگیوں سے حذف کریں اور پھر ایسی غذا کو اپنے اہل خانہ کی زندگی کا حصہ بنائیں جو آپ پسند کرتے ہیں جبکہ جو غذائیں آپ کو نا پسند ہیں انہیں بالکل ترک کردیں۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید