آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سیڑھیاں چڑھنے اترنے سے وزن کم ہوسکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وزن کم کرنا اتنا مشکل نہیں ہے کیونکہ اب سیڑھیاں چڑھ کے بھی وزن کم ہوسکتا ہے۔

وزن کم کرنا ہر ایک کی زندگی کا اہم مسئلہ بن گیا ہے اور اِس کے لیے بہت سے لوگ گھریلو نسخے کرتے ہیں، کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اُن کا وزن کم نہیں ہوتا۔

دراصل وزن کا تعلق کھانے سے نہیں ہوتا ہے، اِس کے لیے مختلف قسم کی ورزش، واک یا دیگر طریقوں سے جسم کو حرکت میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

 بالی ووڈ اسٹار اکشے کمار  کا کہنا ہے کہ وہ اپنا وزن کم کرنے کے لیے مختلف قسم کی ورزش کرتے ہیں۔

  بین الاقوامی پاپ اسٹار میڈونا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کانسرٹس کے دوران سیڑھیاں چڑھتی اور اُترتی رہتی ہیں تاکہ اُن کا وزن نہ بڑھے۔

کیا سیڑھیاں چڑھ کے وزن کم ہوسکتا ہے؟
میڈونا کانسرٹ کے دوران سیڑھیاں اُترتے ہوئے

دفتر جانے والے مرد و خواتین کا گھنٹوں بیٹھے رہنے کا کام ہوتا ہے ، اسی وجہ سے ان میں وزن بڑھنے کی شکایت رہتی ہے، ان کو چاہئے کہ دفتر میں لفٹ کا استعمال کرنے کی بجائے سیڑھیاں چڑھا اور اترا کریں، اِس سے ان کے وزن میں بھی کمی آئے گی اور آپ دماغی طور پر بھی فِٹ رہیں گے۔

سیڑھیاں چڑھنے کا عمل ورزش کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنایا جا سکتا ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ لفٹ استعمال کرنے والوں سے زیادہ سیڑھیاں چڑھنے اترنے والے افراد زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔

ماہرین ہدایت کرتے ہیں کہ فِٹ رہنے کے لیےہفتے میں تقریباً 150 منٹ تک ورزش کرنا لازمی ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔

اِس مشکل کا حل بہت آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ روزانہ سیڑھیاں چڑھیں، اِس سے آپ کی ورزش بھی ہوجائے گی، آپ کا وزن بھی کم ہوجائے گا اور آپ فِٹ بھی رہیں گے۔

صحت سے مزید