آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کب معلوم تھا کہ کَڑیانوالہ جو ضلع گجرات کا چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں گاؤں کا پورا ماحول موجود ہے، جہاں کے لوگوں کا مزاج دھرتی کے رنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ آنکھوں میں خلوص اور لہجوں میں میں گرمجوشی، اپنائیت اور محبت کا احساس دلاتی ہے۔ یوں مہمان نوازی کا ہنر جانتے ہیں کہ آؤ بھگت میں نظریں بچھانے کا محاورہ سچ کر دِکھانے میں کمال رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان مجھے کئی خوشگوار حیرتوں سے گزرنا پڑے گا۔

محکمہ مال کی دستاویزات کے مطابق کَڑیانوالہ ضلع گجرات کا تاریخی قصبہ ہے۔ جسے لگ بھگ 1206ء میں مہو نامی شخص نے آباد کیا۔ کشمیر کا یہ سرحدی علاقہ کئی بار آباد اور برباد ہوا۔ تاریخ کے کئی اُتار چڑھاؤ اس زمین کے دل اور لوگوں کی آنکھوں میں محفوظ ہیں۔ اکبر بادشاہ کے دور میں مہو کی اولاد میں سے موجود لوگوں نے اسے سرکار کی اجازت سے دوبارہ آباد کیا تو یہ علاقہ اکبر آباد کہلایا۔ یہاں چھتوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کی تیاری اس قدر کمال کی تھی کہ یہی اس کی وجہ شہرت اور نام بن گئی۔ اسی مناسبت سے یہ گاؤں کَڑیانوالہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ڈھائی سو کے قریب دیہاتوں کا کاروباری مرکز اور ملک کو زرِمبادلہ فراہم کرنے والا اہم قصبہ ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ہوگا جس میں ایک یا ایک سے زائد افراد بسلسلہ روزگار امریکہ، یورپ سکنڈے نیویا اور مشرقِ وسطیٰ و خلیج میں نہ ہوں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں کَڑیانوالہ کے لوگ نظر آتے ہیں۔ علم و ادب کے حوالے سے بھی اس علاقے نے اپنا سکّہ جمایا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ضلع گجرات کے رہائشی ہونے کے باوجود اب تک مجھے کَڑیانوالہ کی زیارت نصیب نہ ہو سکی تھی۔ ہر وقت متحرک اور کسی نہ کسی علمی و ادبی کام میں مشغول شیخ رشید کا فون وسیلہ بنا۔ ہمارے کَڑیانوالہ کے قریبی گاؤں کی نوجوان لڑکی کے دو ناول منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوئے ہیں، دعوتِ تقریب کا پروانہ بھیج رہا ہوں قبول کیجئے۔ انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔ جانے کیسا لمحہ تھا کہ کسی تردد کی بھی جرأت نہ ہوئی۔ ہر عورت کے لئے میکے کی طرف سفر خوشی کا ایک احساس ہوتا ہے۔ مگر میں اس سرزمین کے لوگوں کو سلام کرنا چاہتی تھی جہاں وقت اتنا بدل چکا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی زندگی اور محبت کے موضوع پر قلم اٹھاتی ہے تو اس کے بھائی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کا باپ اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اس کی تحریریں چھُپانے کے بجائے انھیں چھپوانے کی سعی کرتے ہیں اور اہل علاقہ اس کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ابھی بھی ایسے کئی مقامات ہیں جہاں لڑکیاں اظہار کی طاقت رکھتی تھیں، شعر لکھنا جانتی تھیں۔ انہیں کہانی لکھنا اچھا لگتا تھا، لیکن معاشرتی دباؤ اور گھر والوں کی رکاوٹوں نے انہیں اظہار کے رستے پر بھاری پتھر رکھ کر صبر کا کڑوا گھونٹ پینا سکھا دیا۔ معاشرے میں نئی روایات کی شروعات کے لئے کسی نہ کسی روبین نواز کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ پھر بات خوشبو کی طرح پھیل جاتی ہے۔

معصوم اور نوجوان لڑکی خوش بھی تھی اور حیران بھی، مگر اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو اور اعتماد کے پس پشت پورے علاقے کا اعتماد موجود تھا۔ عورتیں اور مرد تقریب میں شریک تھے۔ پہلی بار مجھے کسی ادبی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے فخر محسوس ہوا۔ شاید میرے اندر کی عورت معاشرے کے بدلتے رویوں پر طمانیت محسوس کر رہی تھی۔ بہرحال کَڑیانوالہ لٹریری سرکل مبارکباد کا مستحق ہے جس نے بیک وقت روبین نواز کے دو ناولوں ’’آپ جہاں ہم وہاں‘‘ اور ’’سفرِ محبت‘‘ کی پروقار تقریب کا خواب سچ کر دکھایا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ادب انسانی بیانیہ کو محور بناتے ہوئے آفاقی سچائی کا نقیب ہے۔ ادب کا ماخذ زندگی کے حقائق ہیں۔ روبین نواز نے اپنی تحریروں میں انسانی خوشی و غم کو سموتے ہوئے پختہ قلم کاری اور بھرپور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی تحریر میں سچائی ہے اس لئے کہ جو کچھ ہے اس کا اپنا ہے، اپنا اندازِ بیان، اپنی سوچ اور اپنا لب و لہجہ۔

بڑے لوگ ہمیشہ چھوٹے قصبوں اور شہروں سے کوئی نہ کوئی جڑت رکھتے ہیں۔ ہمارے دیہاتوں اور قصبوں میں ابھی تک اوریجنیلٹی باقی ہے۔ زندگ کا اصل رُوپ موجود ہے۔ محبتیں، نفرتیں اور چپقلشیں اپنے اصل رنگ میں منعکس ہیں۔ ان پر منافقت، سمجھوتے اور منافقانہ رواداری کا خول نہیں چڑھا۔ اس لئے وہاں بیٹھ کر لکھنے والازندگی اور فطرت کا زیادہ گہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے اور ان میں ربط تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح روبین نواز نے محبت کی آفاقی سچائی کو زمینی دانش سے جوڑ کر کہانی بُنی ہے۔ یہ کہانی صرف ناول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کَڑیانوالہ کے تعارف کی گونج بنے گی۔ میں اسے بدلتے رویوں کے سفر کا آغاز کہتی ہوں۔ اظہار کی بندشوں کے ٹوٹنے کی آواز کہتی ہوں۔ گجرات کے اس قصبے نے پاکستان کے گھٹن زدہ علاقوں کے باسیوں کو غیر محسوس طریقے سے ایک پیغام دیا ہے۔ عورتوں کی آزادی اور حقوق پر سیمینار اور کانفرنس کرنے کے بجائے عملی ثبوت دیا ہے۔ یہ کرو وہ کرو کے نعرے لگانے کی بجائے کرکے دکھایاہے۔ بڑے حوصلے اور وسیع النظری کا مظاہر کیا ہے۔ میں اسٹیج پر بیٹھی عورتوں اور مردوں سے بھرا ہال دیکھ کر خوش ہوتی رہی۔ جہاں ہر مکتب ِ فکر اور عمر کے لوگ اس بات پر متفق تھے کہ عورت اور مرد کی تخلیقی صلاحیتوں میں فرق روا نہیں رکھا جانا چاہئے اور نہ رکاوٹیں کھڑی کرنی چاہئیں۔ وہاں کسی نے تنقید تو دور کی بات اک ذرا سا تلخ جملہ بولنے کی بھی جسارت نہیں کی۔ کیونکہ سب اس نوجوان کا مان بڑھانے کا عزم لے کر آئے تھے۔تاریخ نے دنیا میں علم وفنون کا آغاز یونان سے ظاہر کیا ہے۔ گجرات بھی اسی سرزمین سے بڑی جڑت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی سربلندی اور ان کی آواز بننے میں یہ قصبہ آغاز بن جائے۔