آپ آف لائن ہیں
ہفتہ10؍شعبان المعظم 1441ھ4؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مکڑی کی نئی قسم دریافت، اس کا زہر انسانی جلد گلا دیتا ہے

لندن ( جنگ نیوز) عام طور سانپ کے زہر کو انسانوں کے لیے جان لیوا سمجھا جاتا ہے مگر ایک ایسی مکڑی بھی دنیا میں موجود ہے جس کا ڈنک انسانی گوشت کو گلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔میکسیکو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مکڑی کی ایک نئی قسم کو دریافت کیا جسے Loxosceles tenochtitlan کا نام دیا گیا ہے۔اس مکڑی کو میکسیکو ویلی میں دریافت کیا گیا جو میکسیکو سٹی کے قریب ہی واقع ہے اور اس کا نام ماضی کی ایزٹیک سلطنت کے دارالحکومت Tenochtitlan پر رکھا گیا ۔ یہ ان مکڑیوں کی قسم میں سے ہے جن کا ڈنک زہریلا تسلیم کیا جاتا ہے اگرچہ یہ زہر جان لیوا نہیں ہوتا مگر اس سے جلد گل جاتی ہے اور مستقل نشان بن جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ میکسیکو میں اس نسل کی مکڑیوں کی اقسام بہت زیادہ ہیں اور 140 میں سے 40 اقسام کی مکڑیاں یہاں پائی جاتی ہیں جبکہ نئی دریافت شدہ مکڑی وادی میکسیکو سے تعلق رکھتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مکڑی کے حوالے سے ریکارڈ پہلے سے موجود تھا مگر پہلے اسے کسی اور نسل کی مکڑی سمجھا جاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ نئی نسل کی مکڑی زیبائشی پودوں کے ذریعے اس خطے میں پہنچی مگر ان کی حیاتیاتی جانچ سے ہم نے دریافت کیا کہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ ماہرین کی ٹیم کے مطابق عام طور پر یہ مکڑیاں انسانوں سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہیں

تاہم اگر خطرہ محسوس ہو تو ڈنک مار دیتی ہے ۔ شہری علاقوں میں یہ مکڑی گوداموں یا کچرے میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے جہاں انہیں کیڑوں کی شکل میں شکار آسانی سے مل جاتا ہے مگر یہ گھروں میں بھی پہنچ جاتی ہے جہاں وہ کپڑوں، فرنیچر یا دیواروں میں چھپ جاتی ہے۔سائنس دانوں نے بتایا کہ انسان انہیں درجہ حرارت، نمی اور غذا فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گھروں میں آجاتی ہیں اور اس طرح کسی حادثے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یورپ سے سے مزید