آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی نئی تاریخ رقم ہوئی،بھارت میں شہریت کے متنازع بل نے آگ لگادی،بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا فیصلہ آیا،ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوا،برطانوی انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی جیت گئی،افغانستان میں انتخابات ہوئے،طالبان کے ساتھ امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ رہے،چین اور امریکا کے درمیان اقتصادی جنگ تیز ہوئی،ہانگ کانگ میں زبردست مظاہرے ہوئے،ایران، عراق اور لبنان میں سیاسی بے چینی بڑھی، سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے ہوئے،یمن جلتا رہا

دو ہزار انیس کے سال کے اختتام کے ساتھ جب ہم گزرے ہوئے برس پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں کئی اہم واقعات نظر آتے ہیں جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات ڈالیں گے۔ آئیں سب سے پہلے خود اپنے خطے یعنی جنوبی ایشیا پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

بھارت

جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ملک بھارت اس برس دو تین اہم واقعات کے باعث خاصا خبروں میں رہا۔ پہلے تو نریندر مودی کی بی جے پی کا دوبارہ انتخاب جیتنا۔ دوسرے کشمیر کو بھارت میں مکمل ضم کرنے کی کوشش اور پھر شہریت کے متنازع بل کی منظوری جس کے بعد اس ترمیمی بل کو بھارت عدالت عظمیٰ میں چیلنج بھی کردیا گیا اس کے ساتھ ہی بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں بڑے پیمانے پر فسادات بھی شروع ہوگئے۔اس بل کو سیاسی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ نے چیلنج کیا ہے غیرمسلم غیرقانونی تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ اسے غیرقانونی قرار دیا جائے۔ 

اس بل کے مطابق افغانستان، بنگلا دیش اور پاکستان کی اقلیتی مذہبی برادریوں کو بھارتی شہریت دینے کی تجویز ہے۔ ان مذاہب میں بدھ، مسیحی، پارسی، جین، ہندو اور سکھ شامل ہیں۔اس بل کی منظوری پر لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی اور پھر راجیا سبھا یعنی ایوان بالا یا سینٹ نے بھی دے دی تھی۔ 

بھارتیا جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ افغانستان، بنگلا دیش اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے امتیازی سلوکک کیا جاتا ہے اس لئے انہیں ظلم سے بچانا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور بھارتی آئین کی شقوں کے مطابق نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ صرف شمال مشرقی ریاستوں میں ہی مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟ اس لئے کہ بنگلہ دیش میں غربت کی وجہ سے وہاں کے لوگ سرحد پار کرکے بھارت میں کام کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور اب خدشہ ہے کہ بنگالیوں کی بڑی تعداد خود کو مسیحی قرار دے کر بھارت آجائے گی۔اس کے علاوہ 1995ء کے آسام معاہدے کے تحت مقامی لوگوں کو شناخت کا تحفظ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اب اس نئے بل سے اس معاہد کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 1990ء کے عشرے میں چھ برس تک ایک تحریک چلی تھی جس کی قیادت نوجوان کررہے تھے اور جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ ہوا تھا۔

اب بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اور خاص کر آسام میں جو لوگ 1971ء سے 2014ء تک منتقل ہوئے ان کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ 2019ء کے اگست میں ہی آسام کے بیس لاکھ افراد کے نام شہریت کے رجسٹر سے نکالے گئے اب اس نئے بل کے ذریعے صرف غیرمسلموں کو تحفظ دیا جارہا ہے۔ 2019ء میں بھارت کا ایک اہم واقعہ بھارتی سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ تھا جس میں بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کا حکم دیا گیا۔ اس طرح بھارتی عدالت نے مسلمانوں کے دعوے کو رد کردیا اور جسٹس رنجن گوگئی نے ریٹائر ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ایک ایسا فیصلہ دیا جس کے دور رس اثرات نتائج برآمد ہوں گے گو کہ مسلمانوں نے اس پر کوئی شدید ردعمل کا اظہار نہیں لیکن اس سے ان کے خوف کا اندازہ ہوتا ہے۔

بھارت کا 2019ء میں غالباً سب سے غلط اور قابل مذمت قدم کشمیر کے الحاق کی طرف قدم بڑھانا تھا۔ بھارت کی حکومت نے خود اپنے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت بھی ختم کردی اور کشمیر کو تین حصوں یعنی جموں، لداخ اور کشمیر میں تقسیم کرکے اسے وفاقی تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد کشمیری عوام کے ردعمل کے پیش نظر پچھلے چار ماہ سے مسلسل کرفیو اور ناکہ بندی کی وجہ سے کشمیری عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں کچھ نہیں کر پارہے۔مجموعی طور پر 2019ء بھارت میں ایک تباہ کن سال ثابت ہوا ہے۔

بنگلا دیش

2019ء کے آغاز میں وزیر اعظم حسینہ شیخ نے حکم ران جماعت بنگلا دیش عوامی لیگ کو الیکشن میں کامیابی کے بعد تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا وہ دو ہزار نو سے مسلسل اقتدار میں ہیں اور تین بار مسلسل انتخاب جیت چکی ہیں ۔ گوکہ حزب اختلاف ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتی رہی ہے۔

بنگلا دیش کے لئے 2019ء کا سب سے بڑا واقعہ برما سے روہنگیا مسلمانوں کی آمد تھا جو برما میں بدھوں اور فوج کے مظالم سے بھاگ کر لاکھوں کی تعداد میں بنگلا دیش آئے اور انہوں نے بنگلا دیش کے قائم کردہ کیمپوں میں پناہ لی اب تک لاکھوں برما کے مہاجرین بنگلا دیش آچکے ہیں۔

سری لنکا

سری لنکا کے لئے 2019ء سال کے شروع میں ہونے والا سب سے بڑا واقعہ ایسٹر پر چرچ حملوں کا تھا ان خودکش دھماکوں کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے تین سو مسیحی ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملے سری لنکا کے شہروں کولمبو، نیگمبو اور بٹی کالوا کے مشرق میں ہوٹلوں اور چرچوں میں یکے بعد دیگرے ہوئے تھے جب کہ سری لنکا کو پرامن مسیحی اقلیت ایسٹر کے تہوار پر تقریبات میں شریک تھی۔ان حملوں میں مبینہ طور پر ایک نیشنل توحید جماعت ملوث تھی جس نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔ 

یہ ایک سخت گیر اسلامی گروہ سمجھا جاتا ہے جو دیگر مذاہب کو نشانہ بناتا ہے اس کے سیکرٹری عبدالرزاق کو 2016ء میں بودھ مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان حملوں کے بعد 2019ء میں سری لنکا کا دوسرا بڑا واقعہ سری لنکا کے صدارتی انتخابات تھے جس میں صدر سری سینا ہار گئے اور گوٹا بایا راجا پکسا بھاری اکثریت سے نئے صدر منتخب ہوگئے اور اٹھارہ نومبر کو صدر کا حلف اٹھا لیا یہ کوئی روایتی سیاست دان نہیں ہیں بل کہ ایک سابق فوجی افسر ہیں جو اپنے بھائی مہندا راجہ پکسا کے دور میں حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ اب صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے بھائی کو وزیر اعظم بنادیا ہے۔

نیپال

2019ء میں نیپال کا سب سے بڑا کارنامہ جنوبی ایشیائی کھیلوں کا کامیابی سے انعقاد تھا۔ یہ کھیل یکم دسمبر سے دس دسمبر تک ہوئے اور اس میں جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں نے حصہ لیا۔ یہ کھیل پہلے مارچ 2019ء کردی گئی تھی۔ نیپال کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سب سے پہلے جنوبی ایشیائی کھیلوں کا انعقاد بھی نیپال میں ہی 1984ء میں ہوا تھا اس کے بعد نیپال نے 1999ء میں یہ کھیل کرائے تھے۔

نیپال کے یہ کھیل اپنی نوعیت کے سب سے بڑے کھیل تھے کیوں کہ اس میں چھبیس کھیلوں کے کل تین سو سولہ مقابلے ہوئے۔2019ء کے ان کھیلوں میں بھارت نے گیارہ سو اور پاکستان نے تین سو انتیس سونے کے تمغے جیتے جب کہ سری لنکا اور نیپال دو سو بیس اور 79طلائی تمغوں کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔نیپال کی پہلی خاتون صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کی نائب سربراہ بھی ہیں۔ وہ اس سے قبل وزیر دفاع بھی رہ چکی ہیں۔ نیپال کے وزیر اعظم بھی کمیونسٹ ہیں۔

افغانستان

2019ء کے شروع میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں گزشتہ ایک سال میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً گیارہ ہزار تھی یعنی ہر مہینے تقریباً ایک ہزار لوگ ہلاک و زخمی ہورہے تھے۔ اسی طرح جنوری 2019ء میں ایک اور اعلان کیا گیا کہ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں سے ایک سو بہتر ویں نمبر پر ہے۔2019ء میں پورا سال طالبان افغانستان کی سرکاری املاک اور افواج پر حملے کرتے رہے۔ جواب میں افغان اور امریکی افواج بھی کارروائیاں کرتی رہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مذاکرات بھی چلتے رہے۔طالبان کا دعویٰ تھا کہ وہ صرف امریکا سے مذاکرات کریں گے اور اس میں افغانستان میں اشرف غنی حکومت کو اس میں شامل نہیں کریں گے۔ 

امریکی صدر کے نمائندے زلمی خلیل زاد مذاکرات کرکے طالبان کے ساتھ ایک مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور امکان تھا کہ کوئی معاہدہ ہوجائے گا مگر پھر اچانک صدر ٹرمپ نے مذاکرات اور معاہدے سے انکار کردیا۔اب تازہ ترین یعنی 2019ء کے آخر تک صورت حال یہ تھی کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب ہوچکے تھے مگر نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا جب کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر طالبان سے مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا اب دیکھنا ہے 2020ء میں یہ مذاکرات کہاں جاتے ہیں۔

برما (میانمار)

2019ء میں برما اس حوالے سے خبروں میں رہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری رہے جس سے بھات کر لاکھوں کی تعداد میں مسلم مہاجر بنگلا دیش کی طرف بھاگے اور مزید ہزاروں نے کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر کا رخ کیا اس طرح پورا سال برما کے مسلمان در بدر بھٹکتے رہے۔بالآخر دسمبر 2019ء میں برما کی رہ نما آنگ سان سوچی کو ہیگ ہالینڈ میں عالمی عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا جس میں انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے الزامات کا سامنا کیا مگر خاموشی اختیار کئے رکھی۔عالمی عدالت نے بارہ دسمبر 2019ء کو آنگ سان سوچی کو انتباہ کیا کہ ان کی خاموشی ان کے الفاظ سے زیادہ بول رہی ہے۔ 

گوکہ آنگ سان سوچی خود خاتون ہیں لیکن جب ان کے سامنے روہنگیا مسلم خواتین کے ریپ اور جنسی استحصال کے شواہد پیش کئے گئے اس پر بھی انہوں نے کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔یہ تمام مظالم برما کے فوجیوں اور بدھ مت کے ماننے والے مذہبی رہ نمائوں کے لئے ہیں لیکن برما کی حکومت نے نہ تو ان مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی عندیہ دیا ہے۔2019ء میں برما کے فوجیوں نے سیکڑوں کی تعداد میں مسلم دیہات نذر آتش کئے۔ 

افسوس کی بات یہ ہے کہ برما کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ کسی بڑے اسلامی ملک نے نہیں بل کہ افریقہ کے ایک چھوٹے ملک گیمبیا نے کیا ہے۔ برما پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے تمام شواہد مٹانے کی کوشش کی اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ کاش دیگر مسلم ممالک بھی آگے بڑھ کر 2020ء میں کچھ کریں۔

چین

غالباً اس سال چین اور امریکا سب سے زیادہ ایک دوسرے پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی بات کرتے رہے۔ اس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا جب انہوں نے کہا کہ چین امریکاکے ساتھ تجارت میں ناجائز فائدے اٹھا رہا ہے۔ چین کی مصنوعات بڑی تعداد میں امریکا آکر فروخت ہوتی ہیں مگر امریکا سے اتنی اشیاء چین نہیں جاتیں۔اس کے تسلسل میں مئی 2019ء میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کی دو سو ارب ڈالر سے زیادہ کی مصنوعات پر محصول پچیس فی صد تک بڑھا دیا جائے گا جس کے جواب میں چین نے کہا کہ وہ بھی اس کے لئے تیار ہے اور ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا۔

مئی 2019ء میں ہی گوگل نے چین کی بڑی کمپنی ہواوے کے ساتھ کاروباری تعلقات معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل کینیڈا میں حکام نے امریکی درخواست پر ہواوے کے اعلیٰ افسر کو گرفتار کرلیا تھا جن پر الزام تھا کہ ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔اس کے ساتھ ہی چین کے علاقے ہانگ کانگ میں بھی مظاہرے جون 2019ء میں ہی شروع ہوئے۔ جولائی اور اگست 2019ء میں ان مظاہروں کا اتنا اثر ہوا کہ راستے بند ہوگئے اور پروازیں تک منسوخ کرنا پڑیں۔ 

 اکتوبر 2019ء میں چین کے سوشلسٹ انقلاب کی سترویں سالگرہ دھوم دھام سے منائی گئی اور چین نے اپنے جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بھی آگے بڑھتا رہا جس کی ایک شاخ پاک چین معاشی راہ داری (cpec) کے نام سے پاکستان میں معاشی تبدیلی کے لئے کام کررہی ہے گوکہ اس کے بارے میں امریکا اور بھارت خاصے فکرمند ہیں لیکن چین کی مدد سے توانائی کے کئی منصوبے تکمیل تک پہنچ چکے اور مزید جلد ہی آگے بڑھیں گے جن میں ریل کی بہتری بھی شامل ہوگی۔

ایران

2019ء کا ایران تین چار حوالوں سے خبروں میں رہا۔ ایک تو امریکا نے جب جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تو یہ ایران کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی خود ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان جس پر دیگر یورپی طاقتں بھی جزبز ہونے لگیں مگر سب سے زیادہ تکلیف اسرائیل اور سعودی عرب کو ہوئی کیوں کہ یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام سے انہیں بڑا خطرہ ہے۔ 

2019ء کے اواخر تک امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معاشی حالت اتنی خراب ہوگئی تھی کہ پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے اور بڑی توڑ پھوڑ ہوئی جس کو ایران کی حکومت نے بزور طاقت دبانے کی کوشش کی ہے اور اس میں اب تک کامیاب بھی رہی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ ایرانی عوام ایران کی اسلامی انقلابی حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔

سعودی عرب

2019ء کے آغاز میں ہی پانچ جنوری کو خبر آئی کہ ایک سعودی خاتون جن کا نام رھف محمد ہے بنکاک ائیرپورٹ پر گرفتار کرلی گئیں ہیں جب وہ کویت سے آسٹریلیا جارہی تھیں۔ وہ آسٹریلیا میں پناہ لینا چاہتی تھیں کیوں کہ ان کے مطابق انہیں اپنے خاندان سے خطرہ تھا جو انہیں قتل کرسکتا تھا۔ پھر انہیں اقوام متحدہ کے مہاجرین کمیشن نے پناہ دی جہاں سے انہیں کینیڈا میں پناہ دینے کا اعلان کرکے ٹورنٹو بلالیا جس کے بعد سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات بھی خراب ہوئے جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ترکی میں سعودی صحافی جمال العشوقجی کے قتل کا الزام بھی سعودی ولی عہد سلما بن محمد پر لگا تھا جس کے بعد کینیڈا نے شدید مذمت کی تھی۔

فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہ عبداللہ بندرگاہ کا افتتاح کیا جوکہ سعودی کی مکمل طور پر نجی ملکیتی بندرگاہ ہے اور اس کی تمام تعمیر و ترقی و انتظام نجی کمپنی کے حوالے ہے۔اس کے ساتھ ہی سعودی عرب میں اصلاحات کا عمل بھی چلتا رہا جس میں نہ صرف خواتین پر سے بہت سے پابندیاں اٹھائی گئیں بل کہ پہلی مرتبہ ایک سعودی خاتون ریمابنت بندرکو امریکا میں سفیر لگایا گیا۔ چوالیس سالہ ریما خواتین کے حقوق کی بڑی علم بردار ہیں۔ یاد رہے کہ ریما کے والد بندر بن سلطان 1983ء سے 2005ء تک بائیس سال امریکا میں سعودی سفیر رہے تھے جب ریما بھی ان کے ساتھ رہیں اور جارج واشنگٹن یونی ورسٹی میں پڑھ رہی تھیں۔ 

مارچ 2019ء میں محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ وہ حمزہ بن لادن کی سعودی شہریت منسوخ کررہے ہیں جو اسامہ بن لادن کے بیٹے تھے جنہیں بعد میں قتل کردیا گیا۔مارچ 2019ء ہی میں آرام کونے اعلان کیا کہ وہ سابک (sabic) نامی کیمیکل کمپنی کے ستر فی صد حصص خرید رہی ہے جن کی مالیت تقریباً ستر ارب ڈالر تھی اور اس طرح یہ عالمی کیمیائی صنعتوں کی سب سے بڑی ڈیل ثابت ہوئی۔ مئی 2019ء میں سعودی عرب نے تین بڑی بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کی جن میں خلیجی تعاون تنظیم (gcc) عرب سربراہ کانفرنس اور اسلامی سربراہ کانفرنس شامل تھیں۔ 

اگست 2019ء میں سعودی عرب نے خواتین کو بیرون ملک اکیلے سفر کی اجازت دے دی اور دیگر دستاویزات بھی مردوں کی سرپرستی کے بغیر نکالنے کی اجازت دی اس طرح سعودی وزارت تعلیم میں پہلی خاتون ترجمان بھی مقرر کی گئیں۔ 2019ء کے اواخر تک سعودی عرب یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی کا رکن بھی منتخب ہوگیا اور پھر حوثیوں اور علیحدگی پسندوں کے مابین ایک معاہدہ بھی ریاض میں تکمیل کو پہنچا۔

عراق

2019ء میں عراق بدنظمی اور بدانتظامی کا شکار رہا جس کے نتیجے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر مظاہرے اور فسادات ہوئے بلکہ آخر کار عراق کے وزیراعظم کو استعفیٰ بھی دینا پڑا۔ ان فسادات کو عراقی انتفاضہ کا نام بھی دیا جا رہا ہے جو فلسطین انتفاضہ سے مستعار ہے۔ ان مظاہروں میں طویل مارچ اور جلوس نکالے گئے، دھرنے دیئے گئے اور سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی۔ مظاہروں کو عروج اکتوبر میں حاصل ہوا۔پھر یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ عراقی سیاسی انتظامیہ کو برطرف کیا جائے اور عراق میں ایرانی مداخلت بند کی جائے۔ 

ان مظاہروں کے جواب میں عراقی حکومت نے گولیاں چلائیں، چھپ کر نشانہ بازی کی گئی، گرم پانی کی دھاریں ماری گئیں اور آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔آخر میں 29 نومبر کو وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ 

اصل میں اب عراق کے عوام اس نظام سے تنگ آ گئے جو صدام حسین کے خاتمے کے بعد امریکی قابض افواج نے وہاں قائم کیا تھا اور جس میں فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دیا گیا تھا۔اب عادل عبدالمہدی عارضی وزیراعظم کے طور پر کام کر رہے ہیں جب تک کہ ان کا متبادل عراقی پارلیمان کی طرف سے مقرر اور منظور نہیں کر لیا جائے۔

شام

2019ء ایک تو بڑی حد تک بشارالاسد کی حکومت کی بالادستی دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب رہا اُسے ترکی کی جانب سے مداخلت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جنوری 2019ء میں امریکا نے اعلان کیا تھا کہ جب تک اس کے اتحادی کرد جنگجوئوں کے لیے تحفظ کا بندوبست نہیں کیا جائے گا وہ شام سے اپنی افواج باہر نہیں نکالے گا۔ یہ کرد جنگجو وہ ہیں جو امریکی امداد سے داعش کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور انہوں نے داعش کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پھر ترکی نے شمالی شام کی وفاقی جمہوریہ میں کارروائی کا اعلان کیا۔ 

اس خطّے نے 2012ء میں خودمختاری حاصل کرلی تھی پھر اس علاقے میں روسی افواج نے بھی پیش قدمی کی تو فرانس نے اعلان کر دیا کہ اگر امریکا نے افواج نکال بھی لیں تو فرانس اپنی افواج شام میں رکھے گا۔ 2019ء کے اواخر میں اچانک امریکا نے اپنی بچی کچھی افواج شام سے نکالنے کا اعلان کیا تو ترکی نے اپنی سرحد کے قریب بفرزون کے قیام کے لئے مداخلت کر ڈالی۔ 

ترکی کا الزام ہے کہ اس علاقے سے کرد باغی ترکی میں حملے کرتے ہیں۔ ان حملوں کوروکنے کے لئے ترکی اس علاقے میں بفرزون کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح ترکی افواج شام میں داخل ہوئیں تو پھر روس نے مداخلت کی اور ترکی کو یقین دلایا کہ اس خطے میں موجود روسی افواج اس امر کو یقینی بنائیں گی کرد جنگجو ترکی پر حملے نہ کریں۔

برطانیہ

یورپ میں غالباً سال کا سب سے بدترین تجربہ برطانیہ کو ہوا جہاں پہلے تو وزیراعظم تھریسامے نے بریگزٹ کے معاہدے پر عملدرآماد کی کوشش کی مگر پھر اس میں ناکامی پر استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد بورس جانسن وزیراعظم بنے جن کو اس بریگزٹ کے مسئلے پر بار بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جس سے تنگ آ کر انہوں نے نئے انتخابات کا اعلان کر دیا۔ بارہ دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں غیرمتوقع طور پر برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی326نشستیں لے کر بھاری اکثریت سے جیت گئی۔ 

یہ انتخابات گزشتہ پانچ برس میں ہونے والے تیسرے انتخابات تھے۔ یہ اکثریت 1987ء میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت کے بعد سب سے بڑی اکثریت ہوگی اور اب بورس جانسن بآسانی اگلے پانچ سال برطانیہ کے وزیراعظم رہ سکیں گے اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اب انہیں بریگزٹ کے لئے بھرپور مینڈیٹ مل گیا اور وہ جنوری 2020ء میں برطانیہ کو یورپی یونین سے ہر حالت میں علیحدہ کر لیں گے۔ ان نتائج سے ان باتوں کی نفی ہوگئی کہ برطانیہ کے عوام کی اکثریت بریگزٹ نہیں چاہتی تھے۔ اب ہر قدم پر جانسن کامیابی سے آگے بڑھیں گے۔

ترکی

ترکی میں غالباً 2019ء کا سب سے اہم واقعہ یہ تھا کہ اکرام امام اولو نے استنبول کے میئر کا انتخاب جیت لیا۔ انہوں نے مارچ 2019ء میں قومی اتحاد کے مشترکہ اُمیدوار کے طور پر انتخاب لڑا تھا مگر صرف دو ہفتے بعد مئی 2019ء کے پہلے ہفتے میں ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ 

پھر جب جون 2019ء میں دوبارہ انتخاب ہوا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بھاری اکثریت سے میئر منتخب ہوئے۔ اب انہیں ترکی کے صدارتی انتخاب میں ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 2019ء میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ترکی کے صدر اردوان اگر خود اقتدار نہیں چھوڑیں گے تو بڑی بدمزگی کے ساتھ انہیں اقتدار سے بے دخل ہونا ہوگا۔

لبنان

لبنان میں بھی 2019ء میں فسادات ہوتے رہے اور لوگ حکومتی بدانتظامی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں وہاں کے وزیراعظم سعد حریری کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔ لبنان بھی عراق کی طرح فرقہ وارانہ سیاست میں دھنسا ہوا ہے اور شیعہ سنی مسلمانوں کے علاقوں میں عیسائی بھی سرگرم ہیں۔

امریکا

جنوری 2019ء میں ہی ایوان نمائندگان یا قومی اسمبلی میں ڈیموکریٹک پارٹی کا غلبہ ہوگیا جس نے گورنمنٹ شٹ ڈائون کو ختم کرنے کا وعدہ کیا لیکن مجموعی طور پر امریکا اقتصادی طور پر بہتر رہا کیوں کہ امریکا میں لاکھوں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے رہے، اس کے باوجود 2019ء میں امریکا تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈائون ہوا جو بائیس روز جاری رہا ۔اس دوران آٹھ لاکھ ملازمین کی تنخواہیں رکی رہیں۔ امریکا چین سے بھی تجارتی طور پر الجھتا رہا مثلاً چینی کمپنی ہواوے پر فراڈ کے کئی الزامات لگائے گئے۔ 

ٹرمپ یوکرین کے مسئلے پر بھی مسائل کا شکار رہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے نئے صدرکو مجبور کیا کہ اگر وہ امریکی امداد چاہتے ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگائیں۔ پہلے تو ٹرمپ انکار کرتے رہے مگر جب ان کی فون کال کا اسکرپٹ منظرعام پر آیا ہوا تو ثابت ہوگیا کہ واقعی انہوں نے ایسی باتیں کی تھیں۔

2019ء کے اواخر تک ٹرمپ مواخذے کی تحریک میں بری طرح پھنس چکے گو کہ اس بات کا امکان نہیں کہ اس الزام میں انہیں برطرف کیا جا سکے ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ ٹرمپ اپنی تباہ کن پالیسیاں جاری رکھیں گے اور عین ممکن ہے کہ اس کے باوجود بورس جانسن کی طرح دوبارہ منتخب بھی ہو جائیں۔

عالمی منظر نامہ سے مزید