آپ آف لائن ہیں
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ذیابیطس اور موٹاپا، خوراک اور طرززندگی میں تبدیلی ضروری، ماہرین

ذیابیطس اور موٹاپا، خوراک اور طرززندگی میں تبدیلی ضروری، ماہرین


وزن کم کرنا سوچنے میں تو بہت ہی آسان، لیکن عملی طور پر ایک مشکل کام ہے، آپ کے لیے آسانی کےساتھ دل لبھانے والے کھانوں کی دستیابی کے باعث اس عمل میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

لیکن آپ ان لاکھوں میں ایک شخص ہیں جنہیں ذیابیطس ٹائپ 2 کی بیماری لاحق ہے یا پھر ان اربوں لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اس بیماری کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے، تو آپ اس طرز زندگی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اس تحقیق کے مصنف کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے 43 سالہ کیریئر میں یہ دیکھا ہے کہ اگر ایک شخص کو دوسرے درجے کے ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے تو وہ اس میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔

تاہم اپنی نئی کتاب میں انہوں نے بتایا کہ ایسے افراد جو ذیابیطس کا شکار ہیں ان کے لیے لائف پلان ترتیب دیا ہے جو بالکل اسی طرح ہے جیسے آپ تین مراحل طے کر رہے ہوں جبکہ ایسے افراد جنہیں یہ مرض لاحق نہیں ہے وہ ان پر عمل کرتے ہوئے ساری زندگی ذیابیطس سے محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں وزن کم کیا جاتا ہے جہاں آپ کو اپنی معمول کے مطابق غذا کو کم کرنا ہوگا اور وزن کو 15 کلوگرام کم کرنا ہے۔

دوسرے مرحلے میں دوبارہ اپنی پرانی غذا لیکن کم فیٹ والی غذا کا استعمال جبکہ تیسرے مرحلے میں صحت مند اور مناسب غذا کا استعمال کرنا ہوگا تاکہ کم وزن کو برقرار رکھا جاسکے اور یہی آپ کو زندگی بھر ذیابیطس سے محفوظ رکھنے میں معاونت کی یقین دہانی بھی کروائے گا۔

تاہم ان نتائج کو حاصل کرنے کے لیے کچھ طریقہ کار، غذا کی مقدار اور وزن میں کمی کی حوصلہ افزائی کے لیے معلومات فراہم کی گئی ہے۔


فیٹ کا دباؤ


جب بھی دوسرے درجے کے ذیابیطس کی بات کی جائے تو ہمیشہ سے ہی یہی کہا جاتا رہا ہے کہ زیادہ چینی کھانا اس بیماری کی وجہ ہے۔

لیکن یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ بہت زیادہ فیٹ کے استعمال کی وجہ سے دوسرے درجے کے ذیابیطس کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔

اضافی فیٹ کی وجہ سے جگر اور لبلبہ، معمول کے مطابق کام کرنا بند کر دیتا ہے، ہارمون انسولین کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے (جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے) اور خلیوں میں موجود رد عمل دینے کی صلاحیت کو بھی محدود کر دیتا ہے۔

اگر آپ کو دوسرے درجے کا ذیابیطس ہے تو آپ کو کہا جائے گا کہ آپ کی حالت ذیابیطس کی جانب لے جانے والی ہے، تاہم یہاں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کے جسم میں فیٹ جمع کرنے کی صلاحیت پوری ہوچکی ہے اور آپ کے جسم میں اضافی فیٹ موجود ہے۔

یہی وہ وقت ہے جہاں آپ کمزور دکھائی دیتے ہیں، یا آپ کا وزن بڑھنے بھی لگتا ہے یا کبھی کبھی آپ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان تمام چیزوں کے سامنے آنے کے بعد آپ کو اپنے کھانے میں فیٹ کو کم کرنا ہوگا، اس کے لیے ایک یا دو کلو نہیں بلکہ کافی مقدار میں فیٹ کی کمی ضروری ہے۔

محققین نے اپنی تحقیق میں یہ اخذ کیا کہ ٹوکسک سائیکل کو واپس لانے اور اعضا کے بہتر کام کرنے کے لیے آپ کو اپنے وزن کو فیٹ کے تناسب کے ساتھ کم کرنے کی ضرورت ہے۔

فیٹ کم مقدار میں لینے کی وجہ سے جگر اور لبلبے میں پہلے سے موجود فیٹ ختم ہوجائے گا اور یہ اعضا معمول کے مطابق کام کرنے لگ جائیں گے۔


ایک جادوئی ہندسہ


محققین کا کہنا ہے کہ ہے انہوں نے اپنے حساب کتاب کے ساتھ 15 کا ایک جادوئی ہندسہ نکالا ہے، یعنی 15 کلو وزن کم کرنے سے انسانی جسم میں فیٹ جمع ہونے کی اصل مقدار تک رہ جاتا ہے جس کے باعث اعضا معمول کے مطابق کام کرنے لگ جاتے ہیں۔

تاہم اس حد تک وزن کم کرنے کا انحصار انسان کی اپنی صلاحیت پر ہے کیونکہ اس کام کے لیے اسے چند مہینے یا پھر ایک سال سے زائد کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

اس کے لیے اہم ہے کہ آپ اپنے وزن میں کمی کو نوٹس کرتے جائیں جس کی وجہ سے آپ میں حوصلہ افزائی اور مزید وزن کم کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔


وزن کی کمی کے لیے جوسز کیوں ضروری؟


تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھانے کے بدلے میں جوسز کا استعمال وزن کم کرنے میں سب سے زیادہ مدد گار ثابت ہوتا ہے، اور ذیابیطس ٹائپ 2 کو روکنے کا بھی ذریعہ ہیں۔

جوسز میں چینی سے بنے جوسز مکمل طور پر بند کرنے ہوں گے جبکہ صرف بغیر کیلوریز والے جوسز ہی پینے ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ بلیک کافی اور چائے کا استعمال بھی مفید ہے، ضرورت محسوس ہونے پر دودھ کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے لیکن وہ دن بھر میں 50 ملی لیٹر سے زائد نہ ہو۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ صرف جوسز تک محدود نہیں رہ سکتے تو آپ روزانہ اتنا کھانا کھائیں جس کی مدد سے صرف 200 کیلوریز آپ کے جسم میں داخل ہوسکیں۔


اہم وقت


محققین کا کہنا ہے کہ اچانک اگر آپ اپنی معمول کے مطابق ڈائٹ میں کمی کردیں تو آئندہ 36 گھنٹوں تک آپ کو شدید بھوک کا احساس ہونے لگے گا، لیکن جب تقریباً 2 دن کا دورانیہ گزر جائے گا تو آپ کو بھوک لگنے کا احساس کم ہوجائے گا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں کو اسی وقت کے دوران کچھ چبانے کی کمی محسوس ہوتی ہے، تاہم کچھ غذائیت دانوں نے ایسے طریقے بھی نکالے ہیں جو اس کمی کو بھی پورا کر دیتے ہیں اور اضافی کیلوریز بھی جسم میں داخل نہیں ہوپاتی۔


خوش آئند راز


محققین نے اپنے غذائت کے اس پروگرام کے لیے پہلے جسمانی ورزش کرنے کی تجویز پیش نہیں کی جیسا کہ ماضی میں دی جاتی رہی ہے۔

غذایت کے پلان مرتب کرنے کے بعد اگر بہت زیادہ متحرک ہونا بھی وزن کو کم کرنے میں سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

محقیقن کا ماننا ہے کہ یہ وزن کی کمی کے رازوں میں سے ایک اہم راز ہے اور یہ ہمارے سامنے تب ہی آیا ہے جب تحقیق میں شامل لوگوں سے اس بارے میں سنا۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، وزن کی کمی کے بہترین طریقہ کار کے لیے ماہر غذا سے رابطہ کریں۔


صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید