آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پتا نہیں خان صاحب کو آئے دن کون کون سے الہام ہونے لگتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اللہ اللہ کرکے ریاستِ مدینہ کی دعوے داری سے دستبرداری کے بعد خان صاحب اسلامی فلاحی ریاست تک پہنچے ہی تھے کہ اب اُنہیں تازہ الہام نے آلیا ہے۔ انسان کو سکون صرف قبر میں ہی نصیب ہوگا، کوئی تو اُن سے پوچھے کہ قبر کے عذاب سے تو انبیاء کرام تک خوف زدہ رہتے تھے اور پناہ مانگتے تھے، قبر میں سکون و راحت کی التجائیں کرتے تھے، قبر کا حال تو صرف اللہ ہی جانتا ہے وہاں کس کو کس وجہ سے سکون ملنا ہے اور کون کس عذاب سے گزرے گا؟ یہ حقیقی احتساب تو قبر جانے یا قبر والا۔ راحتیں صرف اُن لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں خلق خدا کے لیے آسانیاں پیدا کی ہوں گی یا حقوق العباد کے اعلیٰ ترین معیارات قائم کئے ہوں گے، دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے۔ اچھے بیج سے بہترین فصل کی امید تو کی جا سکتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیاں، انسان کی غفلت اس فصل کو تباہ و برباد بھی کرسکتی ہے۔ اقتدار کی نازک فصل تو ایسی فصیل ہے کہ ذرا سی لغزش آپ کو منہ کے بل گرا بھی سکتی ہے۔ اللہ کے نیک بندے حکمرانی کی ذمہ داریاں کندھوں پر اٹھانے سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں کوئی غفلت اُنہیں قبر و جہنم کے عذاب میں مبتلا نہ کردے یہاں تو حالات یہ ہیں کہ اقتدار کے لالچ

میں لوگ مرے جارہے ہیں، ضمیر فروش بن رہے ہیں، جھوٹے نعروں، طفل تسلیوں سے قدم قدم پر قوم کا استحصال کیا جارہا ہے، بے روزگاری ، فاقہ کشی، تنگ دستی نے ہر دہلیز پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں، شدید ترین سرد موسم میں ٹھٹھرتے معصوم بچوں کو ایک ٹکڑا گرم کپڑا نہ ملنے پر ماں باپ اجتماعی خودکشیاں کررہے ہیں، یہ عذاب الٰہی نہیں تو کیا ہے؟ قبر میں تو جو حساب کتاب ہونا ہے وہ تو اٹل حقیقت ہے لیکن ایک حساب دنیا میں بھی ہونا ہے جو سر پر کھڑا ہے۔ خوش فہمیوں کا ہنی مون ختم ہوا چاہتا ہے بدلتے موسموں کی تندو تیز ٹھنڈی ہوائیں سر تا پا کاٹ رہی ہیں اور اس ٹھٹھرتے موسم میں حکومتی اتحادی سیاسی پانڈھے اب پوری شدت سے کھڑکنے لگے ہیں۔ وہ جو ہلکی ہلکی ڈھولکی کی شروعات ہوئی تھی اب پورے ردھم میں بجنے لگی ہے بلکہ دما دم مست قلندر کی تان پر دھمال پڑنے لگی ہے۔ عقل و دانش تو یہ کہہ رہی ہے کہ جن پر تکیہ کیا تھا وہ پتے اب ہوا دینے لگے ہیں اور بھان متی کے کنبے کے جوتوں میں دال بٹنے لگی ہے۔ پارلیمنٹ سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اب فریقین معاوضہ طلب کرنے لگے ہیں۔ سرد تیز ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے لیکن یہ پاکستان ہے یہاں کے سیاست دان مفادات کی چادر اوڑھے منہ لپیٹے پڑے ہیں۔ ان کے دلوں میں کیا چل رہا ہے ان کی استعفوں کی دھمکیاں اور بلیک میلنگ کی داستان طویل ہے۔ مفادات کے شکار یہ لوگ عوام کے حقوق کے نام پر جو گُل کھلارہے ہیں، غریب کی غربت کا جو مذاق اُڑایا جارہا ہے ان کے وعدوں اور ان پر اعتبار کون کرے۔ حب الوطنی کے نام پر جو کھیل پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رچایا جارہا ہے ان احسانات کا قرض اتارنے کی خاطر آج ہر سیاسی جماعت کا لیڈر اپنی قیمت وصول کرنے کے لئے پرتول رہا ہے۔ کیسا زمانہ آگیا ہے اور یہ کیسا پاکستان بن رہاہے کہ دنیا بھی محو حیرت ہے کہ نئے پاکستان میں سب عجیب ہو رہا ہے بلکہ عجیب اور زیادہ غریب ہو رہا ہے۔ اس عجائب خانے میں جیسے کوئی کٹھ پتلی تماشہ چل رہا ہے کہ فیصلے پر فیصلے آرہے ہیں، وقت کم مقابلہ سخت بلکہ اتنا سخت کہ منطق و دلیل کا بھی ٹائم نہیں کہ سارے کے سارے نئے پاکستان میں انصاف و احتساب کی پوری کی پوری عمارت ہی گرائی جارہی ہے۔ ایوان صدر سے آرڈیننسوں کی جو روایت چل نکلی ہے اس کے اثرات تو لمحوں میں سامنے آرہے ہیں کہ قانون پر نئے قانون بنائے جارہے ہیں اور پرانے آئین و قانون کی دفعات سرے سے ہی کالعدم قرار دی جارہی ہیں۔ موٹے اور چھوٹے دماغ والے غریبوں کی بلا سے، کون سا قانون تو کون سا آئین اور کون سی آئین کی شق اور کون سی دفعات سب ان کی طرف سے دفع دور لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے ٹھیک نہیں ہو رہا۔ پاکستان اور قانون دونوں ہی رسوا ہو رہے ہیں جس نوجوان نسل پر ہم تکیہ کیے بیٹھے ہیں آخر ہم انہیں کیا دے رہے ہیں کہ اس پاکستان میں رہنا ہے تو آئین و قانون سے بالاتر سوچیں، صبر کی بجائے جبر، ایثار کی بجائے انتشار پر ہی گزارا کریں۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ یہ کیسا پاکستان بنایا جارہا ہے ۔ آئین و قانون محض کاغذ کاایک ٹکڑا اور ووٹ کی طاقت مصلحتوں کا شکار۔ کمال نہیں ہوگیا کہ سیاست دانوں نے تو پارلیمنٹ میں ’’تاریخی‘‘ قانون سازی کے دوران محب وطن ہونے کا ثبوت دے دیا۔ اب وہ اس کی کھلے عام قیمت مانگ رہے ہیں۔ سیاسی ڈھولک کا آغاز غریبوں کے نام پر متحدہ نے شروع کر دیا ہے ۔موسمیاتی تبدیلیاں بڑی تیزی سے اسلام آباد کا رخ کررہی ہیں، بلوچستان حکومت میں تبدیلی کے آثار بھی بڑے نمایاں ہیں۔ وسیم اکرم پلس کا اقتدار بھی ڈانواں ڈول ہے۔ لندن میں لیگی بیٹھک اگر تبدیلی کے اس کھیل میں چودھریوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور بلاول سندھ میں دل کا دروازہ کھول دے تو سمجھیں کھیل ختم پیسہ ہضم۔