آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پہیلی

ایک شہری آدمی اور ایک کسان ایک ساتھ سفر کر رہے تھے۔ شہری آدمی نے کسان سے کہا ’’آؤ ہم ایک دوسرے سے پہیلیاں بوجھواتے ہیں جو پہیلی نہ بوجھے اسے پانچ سو روپئے دینے پڑیں گے‘‘۔

کسان بولا: ’’نہیں جناب! آپ پڑھے لکھے ہیں، آپ پانچ سو روپے، دیجئے گا، میں دو سو روپئے دوں گا‘‘۔

شہری آدمی راضی ہوگیا۔ پہلے کسان نے پہیلی کہی: ’’وہ کون سا جانور ہے جو اڑتا ہے تو اس کی آنکھیں آٹھ ہوتی ہیں اور جب زمین پر چلتا ہے تو چار‘‘۔

شہری آدمی نے بہت سوچا اور آخرکار ہار مان کر پانچ سو روپئے دے دیئے۔ شہری آدمی نے سوچا کہ چلو معلوم تو کریں کہ وہ جانور کون سا ہے۔ اس نے اپنی باری پر کسان سے اسی کی پہیلی بوجھ لی۔ کسان ہنسا اور اس نے شہری آدمی کو دو سو روپئے دے کر کہا: ’’جناب! یہ مجھے بھی نہیں معلوم!‘‘

پچھتاوا

جی: (پڑھاتے ہوئے) اچھا خالد بتاؤ دو اور تین کتنے ہوتے ہیں۔

خالد: پانچ

باجی: شاباش! لو یہ پانچ چاکلیٹ

خالد: (پچھتاتے ہوئے) اگر مجھے یہ معلوم ہوتا تو بیس بتاتا بیس۔

میاؤں

ایک چور کسی کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا اور مالک مکان کے تکیئے کے نیچے سے چابیاں تلاش کرنے لگا۔ مالک کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔

مالک نے پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘

چور نے منہ سے بلی کی آواز نکالی ’’میاؤں‘‘۔

مالک نے پھر پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘

چور پھر بولا: ’’میاؤں‘‘

مالک نے تیسری بار پوچھا:’’میں پوچھتا ہوں کون ہے؟‘‘

چور تنگ آکر بولا: ’’بتایا تو ہے بلی ہوں‘‘۔

کنجوس کی جھک

کنجوس: اپنے مہمان سے۔ کیوں بھائی دودھ پیو گے یا شربت۔

مہمان: دودھ لے آؤ

کنجوس: کپ میں یا گلاس میں۔

مہمان: گلاس میں لے آؤ

کنجوس: گلاس شیشے کا ہو یا سٹین لین سٹیل کا۔

مہمان: شیشے کا۔

کنجوس: گلاس سادہ ہو یا پھولدار۔

مہمان: پھولدار

کنجوس: پھول موتیے کا ہو یا گلاب کا۔

مہمان: رہنے دو۔ مجھے پیاس نہیں اچھا خدا حافظ۔

کوئی بات نہیں

بیٹا: (باپ سے) ابا جان أج میں اسکول نہیں جاؤں گا۔ آپ مجھے چھٹی کی درخواست لکھ دیں۔

باپ: وہ کیوں؟

بیٹا: رات کی بارش سے سڑکوں پر بہت کیچڑ ہے۔

باپ: لیکن درخواست دینے کون جائے گا۔

بیٹا: وہ تو میں خشک خشک راستہ دیکھ کر اسکول دے آؤں گا۔

جن کا پرس

بیٹا (ماں سے) : امی ایک شخص کو جن کا پرس ملا ہے۔

ماں: تمہیں کیسے پتہ چلا وہ جن کا پرس ہے۔

بیٹا: وہ آدمی کہہ رہا تھا جن کا پرس ہے، آکر لے جائیں۔