آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زندگی ربِ لم یزل کی عظیم اور حسین ترین نعمت ہے جس میں عہدِ شباب یعنی جوانی کو اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ زیادہ تر افراد اسی دور میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متعدد خاندان ایسے ہیں جو شادی سے قبل بظاہر صحت مند و توانا تھے لیکن بعد ازاں جنیاتی مسائل کا شکار ہو گئے تو کسی کی اولاد تھیلیسمیا اور دیگر امراض میں مبتلا ہو گئی، اس تناظر میں شادی کرنے والے جوڑوں کیلئے چند اہم احتیاطی تدابیر اور میڈیکل ٹیسٹ ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔ یہ چار ٹیسٹ جنیاتی، موروثی، جراثیمی اور بانجھ پن کے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق متذکرہ طبی معاملات کے معائنے سے مستقبل میں مختلف پریشانیوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ موروثی بیماریاں بسا اوقات شادی کے بعد سامنے آتی ہیں اور زندگی بھر ساتھ رہتی ہیں، بعض بیماریاں قابل علاج ہیں تاہم چند اولاد تک میں بھی منتقل ہو جاتی ہیں۔ شادی شدہ افراد کیلئے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور ازدواجی تعلقات سے نمو پانے والی بیماریوں کے ٹیسٹ بھی ضروری ہیں جن کا بروقت علاج مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ جنیاتی بیماری میں تھیلیسمیا یعنی خون کی کمی کی بیماری سب سے زیادہ ہے جس کا ابھی تک کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہو سکا اور پاکستان میں ہر سال 5ہزار بچے اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اس

کی بنیادی وجہ کزن میرج ہی نہیںبلکہ غیر کزن والدین میں بھی یہ جراثیم موجود ہوتا ہے، موروثی بیماریاں ہر انسان میں اپنی ہسٹری رکھتی ہیں، خاندان میں کوئی ذہنی یا جسمانی معذوری ہو تو ٹیسٹ کروایا جانا چاہئے۔ بانجھ پن کا ٹیسٹ دنیا کے متعدد ملکوں میں رائج ہےجبکہ ہمارے ہاں مرد ایسا ٹیسٹ کروانا مردانگی کے خلاف خیال کرتا ہے۔ شعور کے باوجود ہمارے ہاں شادی سے قبل یہ ٹیسٹ نہیں کروائے جاتے جن کا کروایا جانا دنیا کے بیشتر ممالک میں لازم ہے، اس سلسلے میں عوام کو شعور دینے کی ہی نہیں موثر قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں تندرست و توانا ہوں۔