آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایف بی آر کا جمع کیا گیا سالانہ ٹیکس .65 فیصد سے.88 فیصد کے درمیان

اسلام آباد(مہتاب حیدر) گزشتہ برسوں میں ایف بی آر کا جمع کیا گیا سالانہ ٹیکس .65 فیصد سے .88 فیصد کے درمیان رہا ہے۔ مجوزہ اصلاحاتی منصوبے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی نئے طریقہ کار کے قیام سے پہلے اتفاق رائے قائم کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق، ایف بی آر کے مطابق گزشتہ کئی برس کے دوران جمع کیا گیا سالانہ ٹیکس اعشاریہ 65 فیصد سے اعشاریہ 88 فیصد کے درمیان رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کو جو مجوزہ اصلاحاتی منصوبہ بھجوایا گیا ہے اس میں ایف بی آر افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے طریقہ کار کے قیام سے پہلے ایف بی آر کی حیثیت سے متعلق اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ ادارہ جاتی اصلاحاتی کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ایف بی آر میں دو کیٹیگریز بنائی جائیں جس میں ایگزیکٹیو باڈیز اور خودمختار باڈیز شامل ہوں۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ ایف بی آر کو خودمختار باڈیز میں شامل کیا جائے تاہم ایف بی آر ملازمین نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرکاری شعبے

میں رہنا چاہتے ہیں۔ ایف بی آر افسران کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ ادارے کا مقصد ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔ مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ متعارف کرائی جانے والی تمام اصلاحات گھماپھرا کر لانے والی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ پہلے متعارف کرائی گئی اصلاحات کو ازسرنو لیا جانا چاہیئے تاکہ ٹیکس انتظامیہ کے مسائل کا خاتمہ ہوسکے۔ اس کے حل کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیکس ریفارمز کی ضرورت ہے جس کا مقصد ٹیکس حکام کو بااختیار بنانا ہو۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، ٹیکس جمع کرنے میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک بنیادی ٹیکس اصلاحات متعارف نہیں کی جاتیں۔ عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ ایف بی آر کو پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے جو ٹیکس چوری کا سدباب کرکے ٹیکس جمع کرنے میں بہتری لاسکیں، جس کے لیے ٹیکس انٹیلی جنس نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ (ٹارپ) کے متعارف کیے جانے کے بعد ایف بی آر کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسے عالمی بینک نے 2000ء میں متعارف کیا تھا اور اس کا اطلاق 2011 میں ہوا۔ ماضی کی طرح اب بھی ایف بی آر ملازمین اس پیش رفت میں اپنا حصہ ڈالنے کو ماضی میں بھی تیار تھے۔  اکنامک سروے آف پاکستان 2018-19، اسٹیٹسٹیکل اپینڈکس، ٹیبل-1علاقائی تقبل کے لحاظ سے ایف بی آر نے ادارے کی حیثیت سے پیش رفت کی ہے۔ بنگلا دیش کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے۔ تاہم ، اس کی افرادی قوت اور کام کرنے کا ماحول عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جب کہ ٹیکس جمع کرنے کی کمی نے ادارے کو مزید متاثر کیا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید