آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قوت ِبرداشت اور سیاحت کا کیا تعلق ہے؟

آج کل اتنے مقدمات، پھر ان کی تفصیل اور میڈیا پر کوریج اس قدر ہے کہ کم بخت خواب بھی ایسی باتوں کے آتے ہیں، گفتگو کرنے کا لہجہ بھی ایسا کرخت، بیچ میں مذہبی شدت پسندی لاکر سب لوگوں کے منہ پر تالے لگا دیتے ہیں۔ پہلے تھوڑے تالے لگے ہوئے ہیں۔ 

گزشتہ ہفتے پانچ سال سے چلتے مقدمے کا فیصلہ آیا کہ جو وقت اتنے سالوں میں ضائع کیا گیا، وہ سب فضولیات تھیں۔ یعنی وہ جس نے آٹھ سال بلاشرکت غیرے حکومت کی، جو چاہا اسے آئین کا حصہ بنا دیا، وہ ملک سے باہر ہونے کے باوجود اس قدر طاقتور ہے کہ سیاہ کو سفید کرسکتا ہے۔ 

کوئی عدالت اچانک کہہ سکتی ہے کہ یہ مقدمہ ہی بلاجواز تھا۔بالکل ایسے جیسے گزشتہ آٹھ برس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں آٹھ ہزار کے قریب افسروں کی بیگمات کے نام پر غریبوں کے پیسے جاتے رہے۔ 

ساری سرکار کی رسوائی رہی۔ ابھی تو بینکوں سے قرضے لینے والوں اور پھر قرضے معاف کروانے والوں کے نام آنے ہیں۔ ہر نئی حکومت پرانی کے گندے کپڑے عوام کے سامنے لاتی ہے، میڈیا لعنت ملامت کرتا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ گزشتہ حکومت کی مدح سرائی میں تبصرہ کرنے اور اعتراض کرنے والوں میں وہ شامل تھے۔

ایوب خان کی حکومت کے دس سال بنائے گئے تو بہت شاندار نمبر نکالے گئے۔ ان کے نکالنے والے ماشاء اللّٰہ آج بھی میڈیا پر نئی حکومت کے بہت بڑے مبصر ہیں۔ ایوب خان کے بعد آنے والوں نے ان دس سالہ نمبر نکالنے والوں کا آگاپیچھا پوچھا۔ انہوں نے کہا ہمارا کام تو ہر آنے والے کی خود ستائی کرنا ہے، آپ حکم فرمائیں۔

 یہ لوگ پھر ضیاء الحق کی مدح اور اس پر نمبر نکالنے لگے۔ کئی افسر ناراض بھی ہوتے مگر حکم حاکم کیلئے تیار ہونا پڑتا تھا۔ اس زمانے تک وہی مدح خواں کان پر قلم رکھے، بیچ میدان میں ہیں۔ 

ڈیڑھ سال بعد کہا گیا ہے کہ سوا لاکھ نوکریاں خالی پڑی ہیں، ان پر فوری طور پر مناسب لوگوں کو لگا دیا جائے۔ اللہ کرے یہ سچ ہو جائے مگر فی الوقت تو گیس اور بجلی کا بحران ہے۔ بھلا دفتروں میں کام کیسے ہوگا اگر روز مرمت کے نام پر صبح 9؍سے 3؍بجے تک بجلی بند رہے گی۔ 

یہ حال تو دارالحکومت کا ہے، چھوٹے شہروں میں تو بجلی نہیں، بل آتے ہیں۔ یہ صورتحال ہر حکومت کے دور میں دیکھی ہے۔ اب بہت زور ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ مالم جبہ کوہی دیکھیں۔ وہاں جانے کیلئے سڑکوں کا برا حال ہے۔

 یہی حال ناران جانے والی سڑک کا ہے پھر وہاں موجود ہوٹلوں کا حال! آج کل ہی دیکھئے گزشتہ تین دن سے مری میں بجلی نہیں ہے پھر پانی بھی نہیں ہے تو لوگ وہاں کیا کرنے جائیں۔ زیادہ تر سیاحتی علاقوں میں موجود ہوٹلوں کے غسل خانے اتنے خراب ہیں کہ استعمال کے قابل ہی نہیں۔ کرایوں کا جہاں تک تعلق ہے تو جتنا جو چاہے، آپ کی جیب خالی کرسکتا ہے۔

ویسے تو شاہانہ افسر، قلعہ کے شیش محل کو اپنی ضیافتوں کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایک شور اٹھتا ہے پھر بند ہوجاتا ہے۔ ہرچند شاہی حمام پر ایک رکشہ چلنا شروع ہوگیا ہے جو دہلی دروازے تک اندر لے جاتا ہے۔ 

وہاں بھی ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ ہے مگر لوگوں کو معلوم ہی نہیں۔ہرن مینار سے لے کر رنی کوٹ یا نور محل تک کوئی باقاعدہ سیاحوں کیلئے گائیڈ، غسل خانے، پانی پینے کیلئے اور لانے لے جانے والے لوگوں کیلئے کسی جگہ بھی ٹرانسپورٹ کا اہتمام نہیں ہے۔ 

ابھی تک میں تاریخی مقامات کے بارے میں اشارتاً بتاتی گئی ہوں سکھوں، ہندوئوں، عیسائی اور پارسی مقامات کی تو ابھی فہرست ہی تیار نہیں ہے۔ پھر سیاح صرف کھانا کھانے یا خالی جگہ کو دیکھنے نہیں آتے۔ تمام مقامات پر نہ کہیں اوپیراکا انتظام ہے، نہ مقامی موسیقی کا ہی! مقامی کھانوں اور لباس کیلئے نہ چھوٹی فوڈ مارکیٹ بنی ہیں اور نہ ہی کسی قسم کے مشروبات کا اہتمام یا اجازت ہے۔ 

مثال کے طور پر ملائیشیا اور مراکش میں وہاں کے مسلمان خود کسی قسم کے مشروب استعمال نہیں کرتے ہیں مگر سیاحوں کیلئے انہوں نے خاص اجازت دے رکھی ہے۔ اس طرح روایتیں بنانا پڑتی ہیں مگر ایسے رویے وہ قومیں اختیار کرسکتی ہیں جن میں قوتِ برداشت ہو۔ ہمارے یہاں ذرا سی بات پر طوفان اٹھا دیا جاتا ہے۔ 

الزام لگانا بھی ہمارے شوق میں شامل ہے۔ دیر، بالاکوٹ یا سوات کی اندرونی آبشاروں اور جھیلوں کو دیکھنے کیلئے کوئی خاتون اکیلی نہیں جاسکتی ہے۔معاشرے کو سنوارنے کی ذمہ داری ہم کسی ایک طبقے پر ڈال کر آزاد نہیں ہوسکتے ہیں۔ آسٹریا اور جرمنی جیسے ملکوں میں رات بارہ بجے بھی بڑے سکون سے اکیلے خاتون گھوم سکتی ہے۔

ہمارے ملک میں نورمحل جیسے خوبصورت محلات چاہے آپ ہنزہ میں جائیں، اتنے خوبصورت محلات اور گھر ملیں گے کہ آپ وہاں ٹھہرنا ضرور چاہیں گے۔ اگر دبئی جیسے علاقے میں آپ کو فلیٹ دو کمروں، کچن، باتھ روم اور سٹنگ روم کے ساتھ مناسب قیمت پر مل جاتا ہے۔ 

ہم کیوں نہ ایسے چھوٹے گھر اندرون شہر بنا دیں۔ غیر ملکی تو بخوشی وہاں ٹھہرنا چاہیں گے۔ آخر راجستھان کے مٹی کے گھروں کو سو ڈالر ایک رات کیلئے آپ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ 

کینیا چلے جائیں، وہاں گیم (جنگل اور جھونپڑی نما مہمان خانے) بنے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے کو معتدل بنانے کیلئے معاشرے کی اخلاقیات کیسے بدلیں گے۔