آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’ادلیب کا بڑا معرکہ‘ شامی اور ترکش فوجیں آمنے سامنے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں جاری صورت حال پر اپنے حالیہ ہنگامی اجلاس میں شام کی سرکاری فوجوں جس کو روس کی عسکری مدد حاصل ہے، شام کے شمال مغربی شہر ادلیب پر قبضہ کرنے کے لئے جو جنگ ہورہی ہے اور روسی لڑاکا بمبار وہاں بم گرا رہے ہیں اس پر اپنی شدید تشویش ظاہر کی ہے، سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا، ادلیب پر صدر بشارت الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کا قبضہ ہے، ان کی ترکی حمایت کررہا ہے، جس کی وجہ سے ادلیب شہر اور اطراف کے قصبوں کے لاکھوں شہری بے گھر ہوگئے ہیں ۔

دو سو سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہیں۔ ترجمان کے مطابق اب ترکی مزید فوجی اور بھاری ہتھیار وہاں پہنچا رہا ہے جس سے مزید تشویش بڑھ گئی ہے اور ڈر ہے کہ ادلیب میں کوئی بڑا انسانی المیہ نہ رونما ہوجائے۔ سلامتی کونسل نے شامی حکومت سے لڑائی فوری بند کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ شہریوں کو خوراک اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جاسکے۔

یورپی یونین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادلیب کی صورت حال خوفناک جنگ میں تبدیل ہونے جارہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں شہری بے گھر ہوچکے ہیں اور شہر چھوڑ کر ترکی کی طرف مشرقی سرحد پر جمع ہورہے ہیں جہاں ترکی نے پہلے ہی سے پیش بندی کردی ہے۔ دوسری طرف سرکاری شامی فوجوں کے ترجمان نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر ادلیب پر اپنا قبضہ قائم کریں گے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان ایک پیغام اپنے روسی ہم منصب کو روانہ کرچکے ہیں جس میں ادلیب میں فائر بندی کرانے کے لئے تعاون کا کہا گیا ہے۔

روس اور ترکی شام میں دو مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں روس، شامی صدر بشارت الاسد کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی بشارت الاسد کے مخالف گروہوں کی حمایت کررہا ہے۔ اس کے باوجود ترکی اپنے مفادات کے لئے روس سے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے،مگر شام کے مسئلہ پر اور جاری ادلیب کی لڑائی کے معاملے میں دونوں ممالک مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں۔ گزشتہ سال جب امریکی فوجی شمال مشرقی شام سے واپس چلے گئے تب ان کا خلاء شمال مشرقی شام کے سرحدی علاقوں میں آباد مسلح کردوں نے پورا کیا۔ 

یہ اقدام ترکی کو سخت ناپسند تھا وہ کردوں کو شامی سرحدی علاقوں سے دور کرنا چاہتا ہے اور ان کے علاقوںمیں اپنا تسلط قائم کرکے وہاں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ بنانا چاہتا ہے، جو ترکی کی مغربی سرحد جو شام سے ملحق ہے وہاں کیمپوں میں رہ رہے ہیں جو ترکی کے لئے بڑا بوجھ ہے ۔اس بہانے وہ شامی کردوں کی مسلح جدوجہد کو بھی زک پہنچانا چاہتا ہے، تاکہ ترکی میں آباد کردوں کی آزادی کی جدوجہد کو بھی کمزور کرسکے۔ 

ترکی کی حالیہ پالیسی یہ ہے کہ وہ شام کے مشرق شمالی علاقے میں لگ بھگ بیس مربع میل کے خطے پر اپنا تسلط قائم کرکے وہاں سے کردوں کو پیچھے دھکیل دیا جائے اور اس علاقے میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ بنائے جائیں۔ واضح رہے کہ شام میں موجود کردوں نے گزشتہ عرصے میں امریکی حمایت حاصل کرکے وہاں داعش سے طویل جنگ لڑ کر داعش کو اس خطے سے باہر کردیا۔

ترکی کے دفاعی ترجمان کا موقف سامنے آیا کہ یورپی طاقتیں ایک طرف ترکی کے شامی کردوں کے خلاف آپریشن کو جارحیت قرار دیتی ہیں جبکہ ان قوتوں نے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کئے جو وہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف استعمال کررہا ہے ،یہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یورپی یونین کی دوغلی پالیسی اب سب پر عیاں ہوچکی ہے۔ ترکی اپنے مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ برداشت کرسکتا ہے ہم پر عزم ہیں۔ 

شام کی سرکاری فوجیں باغیوں سے لڑتے ہوئے ادلیب سے صرف نو میل کے فاصلہ پر پہنچ چکی ہیں اور اس علاقے کے قصبہ، سراقب پر اپنا تسلط قائم کرچکی اس قصبہ کی اس لئے زیادہ اہمیت ہے کہ شمال مشرقی شام کی دو بڑی شاہراہیں یہاں آکر ملتی ہے لہٰذا اس جنکشن پر اب سرکاری شامی فوجوں کا قبضہ ان کے لئے بڑی اہمیت کا حاصل ہے۔ دوسری طرف ترکی کی فوجی گاڑیاں آرٹلری ادلیب کی طرف بڑھ رہی ہیں تاکہ ادلیب میں پہلے سے موجود ترک فوجیوں کی مدد کرسکے، کیونکہ شام کی سرکاری فوجیں پوری تیاری سے ادلیب تک پہنچ چکی ہیں اور کسی لمحے بڑی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ 

ترک افواج کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح شامی فوجوں کو شاہراہ سے پیچھے دھکیل دیا جائے، مگر روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے شامی فوجوں کی پوری حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ شام میں موجود اقوام متحدہ کے امن مشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ ماہ دونوں متحارب گروہوں کے مابین فائر بندی ہوچکی تھی مگر پھر چند دنوں بعد اچانک جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، اس طرح شام میں 2011سے جاری سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کی وجہ سے تین لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور پچیس لاکھ سے زائد شہری بے گھر بے خانماں ہوئے جو مختلف ممالک کے کیمپوں میں یا ان کی سرحدوں پر پڑے ہیں۔ 

حالیہ ادلیب پر متحارب قوتوں کے قبضہ کے لئے جاری جنگ میں قریب دو سو شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ترکی کے بیشتر سول فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس پر ترکی نے روس سے شدید احتجاج کیا ہے مگر دفاعی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نقصان کے باوجود ترکی اور روس کے تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ترکی نے روس سے جدید میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جس کی اس کو ضرورت ہے اس لئے ترکی روس سے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا۔ 

ترک پارلیمان کے ایک رکن نے این بی سی کو بتایا کہ ترکی نے شام میں جاری جنگ اور اس کے جارحانہ اقدام کی وجہ سے اپنی سرحد پر ٹینک کھڑے کردیئے ہیں جو کسی بھی وقت شام کے شمال مشرقی علاقے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ تاہم ترکی کی پارلیمان کے رکن احمد بیرات نے اپنے بیان میں کہا کہ، ترکی سفارتی اور دفاعی ہر دو محاذوں پر کام کررہا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ادلیب پر قبضہ کی لڑائی کسی بڑے المیہ کا سبب نہ بن سکے۔ 

اگر ترکی نے محسوس کیا کہ شامی حکومت کے جارحانہ اقدام میں اضافہ ہورہا ہے تو پھر ترکی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا اور اپنی پوری طاقت سے جواب دے گا،تاہم تازہ خبروں کے مطابق شامی فوجوں نے ادلیب صوبہ کے اہم شہر الیپو سمیت پانچ اہم قصبات پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔دوسری طرف ترکی نے مزید فوجی کمک شام بجھوانے کا اعلان کردیا ہے تاکہ شام میں موجود ترکی کی فوجوں کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جاسکے۔ اس صورت حال پر اقوام متحدہ کے مبصرین شدید تشویش کا شکار ہیں، جن کا کہنا ہے کہ صرف ایک ہفتے میں چھ لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔