کراچی (سینٹرل مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر نواز شریف کیخلاف ہے،مسلم لیگ نون کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ بلاول سے کوئی شکوہ نہیں ہے، ماضی میں ہم سب استعمال ہوتے رہے ہیں، ڈاکٹر ظفر نے کہا کہ پاکستانی زائرین کو واپسی کی اجازت کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، پروگرام میں بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بھی حصہ لیا،پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے والی اپوزیشن اس وقت آپسی اختلاف کا شکارہے وزیر اعظم بننے کے پہلے دن سے عمران خان کو بلاول بھٹو سلیکٹڈ کہتے آئے ہیں مگر اب انہوں نے نوازشریف کو بھی سلیکٹڈ قرار دے دیا ہے۔ اپوزیشن کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ ایک پیج پر نہیں ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ وہ کوئی تقریرتھی نہ ہی جلسہ تھا بلکہ اُن کی رپورٹرز کے ساتھ ایک میٹنگ تھی جہاں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی جسے بہت عجیب رنگ میں پیش کیا گیا جس کی وضاحت بھی ہم نے کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان سلیکٹڈ ہیں اور نوازشریف کبھی تھے یہ ماضی کا صیغہ تھا اور اس دور میں یقینا ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ نوازشریف ضیاء الحق کے ساتھ تھے جبکہ موجودہ دور میں نوازشریف کے واضح طور پر اسٹیبشلمنٹ خلاف ہے اور یہ بات طے ہے کہ بہت سی جگہوں پر انہیں اپوز بھی کیا، مسلم لیگ نون کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ بلاول سے کوئی شکوہ نہیں ہے اور قمر زمان کی گفتگو سے مطمئن ہوں کیونکہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کا ایوب خان کے حوالے سے یا ماضی میں نوازشریف کا ضیاء الحق کے حوالے سے تاثر رہا ہے مگر جب میثاق جمہوریت پر دستخط کیے گئے تو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا گیا اور یہ اقرار کیا گیا کہ جب پاکستان میں زیادہ ڈکٹیٹر شپ رہے گی تو سیاسی لوگوں کو نقصان ہوگا۔ میثاق جمہوریت کے بعد بھی غلطیاں ہوئیں بلوچستان اسمبلی میں جب عدم اعتماد آیا یا تحریک انصاف کے ساتھ مل کر چیئرمین سینٹ کا الیکشن ہوا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور جس طرح 2018 ء کے انتخابات کے بعد اسپیکر کا الیکشن تھا میں خود بلاول کے پاس اپنی لیڈرشپ کی طرف سے گیا اس وقت بھی جو کچھ ہوا آج یہ وقت نہیں ہے کہ ان غلطیوں کو دہرائیں اس لئے دونوں جماعتوں پر بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ عوام جس مشکل حالات سے گزر رہے ہیں اس کا مدوا کیا جائے نہ کہ ایسی گفتگو میں کروں یا کوئی اور کرے۔ بلاول سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔