آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

29 فروری کو دوحا میں امریکہ طالبان جنگ بندی معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کے متعلق صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پورا ہفتہ امن رہا تو وہ خود اس پر دستخط کریں گے۔

اس کے بعد طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات ہوں گے لیکن دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بھارت کے بعد امریکہ و بھارت کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ہے اُس میں سارا زور پاکستان پر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ ہر دو ممالک ایک متحد، خود مختار، مستحکم، خوشحال اور جمہوری افغانستان کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں افغانستان میں امن و مفاہمت کے عمل کی حمایت کریں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے گجرات سے اپنے دورۂ بھارت کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے احمد آباد میں مہاتما گاندھی کی رہائش گاہ صابر متی آشرم کی یاترا کی اور وہاں رکھی گاندھی کے زیر استعمال اشیا میں دلچسپی لی جو اس امر کا اظہار تھا کہ وہ ایک متشدد نہیں روا دار بھارت پر یقین رکھتے ہیں۔

مابعد ایک اسٹیڈیم میں ایک لاکھ بھارتیوں کی ’’نمستے ٹرمپ ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی کھل کر تعریف کردی۔ ’’پاکستان اچھا دوست ہے جس کا دہشت گردی کے خلاف کردار مثبت ہے، میں تعلقات میں بڑی پیشرفت کے آثار دیکھتا ہوں جس سے امید ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی‘‘۔

ٹرمپ کے دورۂ بھارت سے قبل امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے اس امر کا اظہار کیا گیا تھا کہ امریکی صدر اپنے دورۂ بھارت میں نہ صرف پاک ہند کشیدگی کم کرنے پر زور دیں گے بلکہ مسئلہ کشمیر اور اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔

اس کی مطابقت میں انہوں نے جہاں بھارت سے امریکہ کے تعلقات کو خلوص بھری وفاداری پر مبنی دوستی قرار دیا وہیں دہشت گردی کے خلاف پاکستانی تعاون کی بھی تعریف کی۔ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کو حلق کا ایک ایسا کانٹا قرار دیا جس پر پاکستان کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی طرح عمران بھی میرا اچھا دوست ہے۔ 

با ایں حالات صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بھارت کو کوئی بہت زیادہ کامیاب دورہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ نریندر مودی اپنی تمناؤں اور کاوشوں کے برعکس اُن کے منہ سے پاکستان کے خلاف ایسے الفاظ نہیں نکلوا سکے جو بی جے پی کے انتہا پسند سننا چاہتے تھے۔

اس میں بجا طور پر پاکستان کے طاقتور طبقات کی ان کاوشوں کو سراہا جا سکتا ہے جو انہوں نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کو ترک کرنے کے لیے کی ہیں۔ اندرونِ ملک بھی دہشت گردی کے مضبوط ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے کاوش کی گئی ہے اور شدت پسند گروہ کسی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔

یہ سب اقدامات بجا طور پر پاکستان کے مفاد میں ہیں تاکہ ہمارے ملک کے چہرے پر شدت پسندی کے نظریے نے جو سیاہی لگائی تھی اُسے دھویا جا سکے۔ اسی کا اثر ہے کہ پاکستان کے متعلق امریکی پالیسی سازوں کے رویے میں نرمی آئی ہے۔

FATAکے حالیہ جائزہ اجلاس میں پاکستان پر کوئی خاص منفی الفاظ استعمال نہیں ہو سکے ہیں، بلیک ایریا میں لے جانے کے بجائے اگلے چند ماہ کے لیے گرے ایریا میں رکھا گیا ہے تاکہ مزید تسلی حاصل کی جا سکے۔

پاکستان کے فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی کو بھی اس پسِ منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ امریکی صدر کے حالیہ دورے میں مودی انتظامیہ کو یہ کامیابی ملی ہے کہ انہوں نے 3ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے میں اپنی عسکری طاقت کو بڑھاوا دیا ہے جس سے بھارت کو جدید خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ خلائی شعبے میں تعاون بھی میسر آجائے گا اور پاکستان نے اسے خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے لیکن دوسری طرف کسی بڑے تجارتی معاہدے میں بھارت کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ بھارت سے 24ارب ڈالرز کا خسارہ برداشت نہیں کر سکتا، امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیرف ناانصافی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جدید ڈیجیٹل ماحولیاتی سسٹم میں تعاون کو تسلیم کیا ہے اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی انٹری کے لیے امریکی حمایت کی تصدیق کی ہے اور سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے لیے امریکی حمایت کی توثیق بھی کی ہے۔

اگر ہم اس تمام تر صورتحال کو حقیقت پسندانہ نظروں سے دیکھیں تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اپنی تمام تر مثبت کاوشوں کے باوجود وقت کے ساتھ پاکستان کی اہمیت کم سے کمتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب پاکستان خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف تسلیم کیا جاتا تھا اور بھارت نان الائن موومنٹ کی قیادت کے باوجود سوویت کیمپ کا حصہ گردانا جاتا تھا مگر سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی جاندار اور متحرک خارجہ پالیسی کی بدولت وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو کسی بھی ملک کے لیے آئیڈیل ہو سکتا ہے۔

کچھ تعجب نہیں ہوگا اگر اُسے آنے والے دنوں میں افغانستان کے اندر بھی ہم سے بہتر رول مل جائے کیونکہ تمام تر تعاون کے باوجود ہماری عالمی پہچان افغانستان کے حوالے سے مثبت کے بجائے ہنوز منفی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے اقتصادی شراکت داری میں کوئی دلچسپی نہیں۔

بھارت کا امریکہ سے تجارتی حجم 501ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کا محض 6.6ارب ڈالر اور وہ بھی خطرے میں کہ کب امریکہ ناراض ہو کر ہماری برآمدات پر پابندی لگا دے اور ہماری کمزور معیشت کا دیوالیہ نکال دے۔

اس سے بڑی تلخ حقیقت کیا ہو سکتی ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ اتنا بڑا جوہری معاہدہ کیا اور ہمیں اسی حوالے سے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔ امریکی صدور بھارت کے دورے پر آتے ہیں لیکن ہمیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

آج ٹرمپ نے بھی ہندوستان میں ہمارے لیے سوائے لپ سروس کے اور کیا کیا؟ مودی کی کس حرکت پر کھلے بندوں مذمت کی؟

دوسروں پر غصہ نکالنے اور الزام دھرنے کے بجائے ہمیں یہ صورتحال اپنے گریبان میں جھانکنے کا تقاضا کرتی ہے۔ کاش یہاں اتنی آزادیٔ اظہار ہوتی کہ درویش اصل حقائق تحریر کر سکتا کہ دنیا ہمیں غیرذمہ دار اور اسلامی دہشت گردی کا معمار کیوں سمجھتی ہے۔