آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بچوں سے زیادتی ... سدباب کیسے کیا جائے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں کم عمر بچوں/بچیوں کے ساتھ زیادتی کے تقریباً چار ہزار واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بہت سے واقعات مختلف وجوہات کی بناء پر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی دراصل ایک ایسا المیہ ہے، جس کے سدباب کیلئے کوششیں کرنے کے بجائے ہم ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد حرکت میں آتے ہیں۔ ہر بچے کا بنیادی حق ہےکہ وہ ہر قسم کے ذہنی، جسمانی اور جنسی استحصال کے بغیر پرورش پائے۔ 

بنیادی طور پر بچے کی حفاظت اور اس میں اچھے اور بُرے کا شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ بیشتر والدین ان ضروری عوامل سے ہی لاعلم ہیں یا مناسب آگاہی نہیں رکھتے جو بچوں سے زیادتی کی وجہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بروقت اندازہ نہیں لگا پاتے کہ بچے کو کن مسائل اور خطرات کا سامنا ہے،اس کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کی اصل وجہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ قارئین کی آگاہی کیلئے آج کا مضمون بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے حوالے سے خاص نکات کا احاطہ کیے ہوئے ہے کیونکہ اس سے نمٹنے کیلئے تمام والدین کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔

جنسی استحصال

بچوں کے ساتھ کی جانے والی جنسی، جسمانی او ر بعض اوقات جذباتی زیادتی انھیں مکمل طور پرتباہ کردیتی ہے۔ جنسی ہوس کی تسکین کی خاطر بچوں سے بدفعلی کرنا، انھیں ایذا دینا یا نقصان پہنچانا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے بہت سی طریقے ہیں، جن پر ذیل میں روشنی ڈالی جارہی ہے۔

جسمانی زیادتی: اس میں بچے کے ساتھ جانتے بوجھتے زیادتی کی جاتی ہے اور اس دوران بچے کے زخمی ہونے کا امکان ہوتا یا بدترین حالات میں اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

جنسی زیادتی : بچے کے ساتھ جنسی زیادتی ایک انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا شخص بُری نیت سے بچے کو چھوتا ہے اور بدفعلی کے دوران اس کی ویڈیو بناتا ہے۔

جذباتی زیادتی: جذباتی زیادتی (Emotional Abuse) بھی بچے کے ساتھ زیادتی میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں بچے کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے اور زبانی و جذباتی حملے ہتھیار بنتے ہیں، مثلاًکسی بچے کو مسلسل مارتے رہنا، کسی بچے کو دیگر بچوں سے الگ تھلگ کردینا، اسے نظر انداز کرنا یا پھر مسترد کردینا۔

طبی زیادتی : طبی زیادتی اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی طبیعت کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی بچے کو اصل بیماری کی وجہ سے طبی امداد کی ضرورت ہو لیکن اس کی فراہمی نہ ہونے سے بچے کی جان کو خطرات لاحق ہوں۔

غفلت: بچوں کی تربیت کے دوران مختلف معاملات میں غفلت برتنا بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے زمرے میں آتا ہے مثلاً بچے کے کھانے پینے، پیار و محبت، تعلیم یا پھر طبی امداد میں لاپرواہی برتنا۔

اب سوال یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد کون ہوتے ہیں اور وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

جنسی اور جسمانی زیادتی کرنے والے افراد کے لیے پیڈوفائل (Pedofile)کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو بچوں سے جنسی رغبت رکھتے ہیں۔ عمومی طور پر رائے قائم ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جوعادی مجرم، جنسی طور پر فرسٹریشن یا کسی قسم کے ذہنی مسئلے کا شکار یا پھر فحش مواد کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص ایسا بھی ہوسکتا ہے جو بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ یا انتقام دوسرے بچوں سے لیتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کسی سے ذکر نہیں کرپاتا لیکن بدلے کی آگ اس کے اندر پنپ رہی ہوتی ہے جس کی تسکین کی خاطر وہ بچوں کے ساتھ اس گھناؤنے فعل میں ملوث ہوجاتا ہے ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے مختلف سروے نتائج کے ذریعے جو خاص معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد یا تو ان کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں یا پھر قریبی محلہ دار یا استاد۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن در حقیقت ان میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو معاشرے کا ناسور ثابت ہوتے ہیں۔

متاثرہ بچے کی علامات

وہ بچہ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو، وہ عام بچوں کے برعکس شرمندہ ، افسردہ اور ذہنی و جسمانی طور پر الجھاؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ متاثرہ بچہ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، کسی بھی شخص کو اپنے ساتھ ہوئی زیادتی سے متعلق بتانے میں ایک انجانا خوف محسوس کرتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب زیادتی کرنے والا شخص والدین کا رشتہ دار، کوئی محلہ دار یا پھر پڑوسی ہو۔ لہٰذا چند خاص علامات پر والدین کی کڑی نظر ہونا ضروری ہے۔

٭ بچے کا دوستوں میں جانا یا معمول کی سرگرمیاں چھوڑ دینا۔

٭ رویے میں اچانک آنے والی تبدیلیاں، مثلاً جارحیت پسند ہوجانا، ہر بات پر غصہ کرنا، چڑچڑاپن یا پھر پڑھائی کی کارکردگی اچانک ہی بری طرح متاثر ہونا۔

٭ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت یا پھر ایک انجانے خوف کا شکار ہو نا یا سہم جانا۔

٭ اسکول سے ہر مختصر وقفے کے بعد غیر حاضر ہوجانا۔

٭ اسکول کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے گریز کرنا یا گھر جانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہونا۔

٭ خود کو کسی قسم کا نقصان پہنچانا یا پھر خود کشی کی کوشش کرنا۔

خدانخواستہ اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کا بچہ زیادتی کا شکار ہوا ہے تو فورا ًڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے کے ساتھ ہوئی زیادتی سے متعلق لازمی طور پر پولیس کو بھی رپورٹ کریں تاکہ مجرم کو قرار واقع سزا مل سکے۔

تعلیم سے مزید