آپ آف لائن ہیں
ہفتہ14؍شوال المکرم 1441ھ6؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا عالمی وباکی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں کورونا سے ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ عوام میں اس حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں جا چکی ہے۔ ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی بالادستی ہی ترقی کی ضامن ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک نے اسی راستے پر چلتے ہوئے دنیامیں اپنا آپ منوایاہے۔ مٹھی بھر اشرافیہ پورے ملک پر قابض ہے۔ 72برس سے جاگیرداروں،وڈیروں اور سرمایہ داروں نے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پاکستانی قوم ملک میں ایسا نظام چاہتی ہے جس میں غریب اور کمزوروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو وزیروں اور مشیروں کو حاصل ہوتے ہیں۔ عوام کی گردنوں پر سوار جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جو بار بار پارٹیاں بدل کر نئے چہروں کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس نااہلی کا اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے اور ہر روز اس میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ حکمرانوں کی بے بسی ان کے رویوں سے نظر آرہی ہے۔ یہ ایک ناگہانی آفت ہے، ان شاء ﷲ عوام متحد ہو کرجلد اس سے چھٹکارہ پالیں گے۔ حکومت ایسے بیانات جاری کررہی ہے کہ جن سے عوام میں شدید قسم کا خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ ماسک اور سینی ٹائزر مارکیٹ سے غائب ہوچکے ہیں۔ اگر کہیں دستیاب ہیں بھی تو وہ بھی مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر حکومت اپوزیشن سے مل کر ایک قومی حکمت عملی مرتب کرے۔ حکومت ذخیرہ اندوزوں پر قابو پانے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی محض زبانی کلامی حد تک محدود ہے۔ بد قسمتی سے ایسے حکمران ہم پر مسلط ہوچکے ہیں جو نا اہل ترین ثابت ہوئے ہیں۔ لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں۔کورونا کے تدارک کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے اب تک اس وباکی روک تھام کے حوالے سے تمام دعوے محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں۔ تفتان سے سکھر آنے والے سینکڑوں افراد میں وائرس کے انکشاف نے پاک ایران سرحد پر قائم قرنطینہ کی صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ حکومت نے کورونا کو خوف کی علامت بنادیا ہے۔ عوام اضطراب کا شکار ہیں۔ نظام زندگی عملاً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اربوں روپے کا ملکی معیشت کو نقصان ہوا ہے۔ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کورونا کا حملہ پھیپھڑوں پر ہوتا ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب کی 12کروڑ آبادی کے لیے صرف اور صرف 882 وینٹی لیٹر ز دستیاب ہیں۔ قصور، منڈی بہائوالدین، بھکر، خوشاب، مظفر گڑھ، پاک پتن، اوکاڑہ کے اسپتالوں میں ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں۔ عوام کو خوفزدہ ہونے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ حکومتی بے چینی ا ور افراتفری سے ملک میں لاک ڈاؤن کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ ہمیں ﷲ اور اس کے رسول ؐ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔ موجودہ حکمران ہر محاذ پر ناکام ہوچکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے انتظامات نہ ہونے سے نا اہلی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ ہمیں ایک قوم بن کر اس آزمائش کا مقابلہ کرنا ہو گا۔میڈیا کورونا کے حوالے سے مثبت رہنمائی فراہم کرے اور حکومت کورونا کی روک تھام کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے اس موذی بیماری پر سو فیصد کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہونے کی بجائے ﷲ کی ناراضی سے بچیں۔ ایک طرف ملک میں کورونا وائرس بے لگام ہوتا جارہا ہے تو دوسری طرف ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے ماسک اور دیگر اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کردی ہے۔نجی ہسپتالوں، پرائیوٹ کلینکس اور لیبارٹریوں نے ٹیسٹوں کی فیس میں بھی ہوشر با اضافہ کر دیاہے۔ملک میں یہ چلن بن چکا ہے کہ جب بھی کوئی بحران سراٹھاتا ہے۔ مختلف مافیازلوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان بے حس افراد کے خلاف فوری سخت کارروائی کرے۔ پوری دنیا متحد ہو کر کورونا کا مقابلہ کررہی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے اس کو کمائی کا بہترین موقع بنالیا ہے۔ کورونا نے دنیا کے 167ممالک کو اپنی لپیٹ لے لیا ہے۔ اور مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ”یوم دعا“ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ حکومت کورونا کے حوالے سے عوام میں تشویش پھیلارہی ہے۔ اس وبا سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین