آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹرمپ کے توانائی کی صنعت میں مدد کے عزم کی مخالفت

واشنگٹن: دیمتری سیواستوپولو، جیمز پولیتی، لورین فیڈر

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتصادی حکام سے کہا ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں میں کے باعث متاثر ہونے والی کمپنیوں کی مدد کے لئے منصوبے تیار کریں ،توقع ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی جانب سے اس اقدام کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ہم امریکا کی تیل و گیس کی عظیم صنعت کو کبھی نیچے نہیں آنے دیں گے۔میں نے وزیر توانائی اور وزیر خزانہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایسے منصوبے تیار کریں جن سے فنڈز دستیاب ہوں تاکہ ان اہم کمپنیوں اور ملازمتوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے۔

انتظامیہ کے عہدیداروں نے اس بارے میں تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا کہ منگل کو مسٹر ٹرمپ کیا کریں گے۔کورونا وائرس ٹاسک وائرس کی شام کی بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ قیمتوں کے ایک دم گرجانے کے حل کیلئے کیا کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ٹول باکس ہمارے ملک کو کھلا رکھنا ہے اور یہی اب تک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

وائٹ ہاؤس قیمتوں میں کمی پر ردعمل کی کوشش کررہا ہے،جوڈونلڈ ٹرمپ کی مدد سے سعودی عرب اور روس کے مابین 10 ملین بیرل تک سپلائی میں کمی کے حالیہ معاہدے کے باوجود جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو درحقیقت فکر ہے کہ قیمتوں کے گرنے سے شیل کے پروڈیوسرز متاثر ہوں گے،جو سخت مقابلے والی ریاستوں جیسے پنسلوانیا میں اہمیت کے حامل ہیں،تاہم مستقبل میںقیمتوں کے گرنے نے پوری امریکی توانائی کی صنعت کے بارے میں تشویش پیدا کردی ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکام کی جانب سے لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے تحت رواں ماہ خام تیل کی طلب عالمی سطح پر انتہائی کم ہوکربحران سے قبل کی سطح کی ایک تہائی رہ گئی ہے ۔

ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ماہ کے آغاز میں کانگریس کے ساتھ 2.2 ٹریلین کے محرک پیکج کی منظوری کے لئے معاہدہ کیا تا اورچھوٹے کاروبار والوں کو مزید امداد فراہم کرنے کیلئے قانون سازوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

تاہم کیپٹل ہلپر توانائی کی کمپنیوں کی مدد کرنے کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے،جنہیں ماحولیاتی گروپوں کی جانب سے طویل عرصے مخالفت کا سامنا ہے جو ماحول مخالف بگ آئل کے طور پر ڈیموکریٹس کے ساتھ زیادہ قریب ہیں۔

میری لینڈ سے ڈٰموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولین نے 2010 میں خلیج میکسیکو میں برٹش پیٹرولیم آئل ڈرلنگ رگ کے دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئل ضمانت کیلئے کہا تو ڈیپ واٹر ہوریزن کی تباہی کے بعد درستحفاظتی اقدامات کو کالعدم کرنے کیلئے ان کی جاری کوششوں سمیت انہیں ان احسانات کی یاد دلائیں جو انہوں نے پہلے ہی ان کیلئے کیے ہیں۔

وزارت خزانہ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔آئل اینڈ گیس کمپنیز پہلے ہی 2.2 ٹریلین ڈالر کے امدادپیکج کی ایک سیکشن کے تحت وفاقی امداد کیلئے ممکنہ طور پر اہل ہیں،جو معیشت کے پریشان کن حصوں کو 500 بلین ڈالر کی امداد کی ہدایت کرتا ہے۔

اس رقم کا زیادہ تر حصہ فیڈرل ریزرو کے زیرانتظام پروگرامز کیلئے مختص ہے جس میں امریکی مرکزی بینک شورش زدہ کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی میں توسیع کرے گا اور کچھ شرائط کے تحت اپنا قرض خریدے گا۔

ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن کے سابق معاون اور 500 ارب ڈالرکےفنڈ کے لئے کانگریس کے نگرانی کے پینل کے رکن ، بھرت رامامورتی نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے شعبے کے لئے کسی بھی مدد کی بغور نگرانی کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ نگہداشت ایکٹ میں محکمہ ٹریژری کو مختص 500 ارب ڈالر کانگریس میں سے کچھ کا استعمال کرتے ہوئے ختم ہوتا ہے تو کانگریس کے نگرانی کمیشن کو اس منصوبے کی بہت احتیاط سے جانچ پڑتال کرنی چاہئے۔

کچھ ریپبلکنز نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زوردیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر تیل کی سپلائی کو مزید کم کرنے کے لئے دباؤ ڈالے۔شمالی ڈکوٹا کے سینیٹر کیون کرمر نے مشورہ دیا ہے کہ انتظامیہ سعودی ٹینکروں کو امریکا لانے سے روکیں۔

ٹیکساس کے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے بھی سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ 20 ٹینکرز ،جن میں سے ہر ایک میں 40 ملین بیرل سعودی تیل لے کر آرہے ہیں،کو وطن واپسی کا حکم دے۔

کیون کروز نے ٹوئٹ کیا کہ یہ ماہانہ بہاؤ کا سات گنا ہے، بیک وقت تیل کا مستقبل انتہائی تنزلی کا شکار ہے اور لاکھوں امریکیوں کا روزگار خطرے میں پڑرہے ہیں،میرا سعودی عرب کا پیغام ہے کہ ٹینکرز کو واپس موڑ لو۔

تیل اور قدرتی گیس کی سب سے بڑی کمپنیوں کی نمائندہ امریکن ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کونسل نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ چین پر دباؤ ڈالے کہ وہ اس سال کے شروع میں چین اور امریکا کے مابین طے ہونے والے تجارتی معاہدے کے تحت چین پر مزید امریکی توانائی خریدے۔

چیسپیک انرجی اور ڈیون انرجی جیسی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے تجارتی گروپ کی سربراہ این بریڈبیری نے کہا کہ 2020 کے ابتدائی مہینوں میں چین نے انتہائی کم امریکی خام تیل کی خریداری کی جبکہ سعودی عرب اور روس سے خام تیل کی خریداری میں اس نے اضافہ کردیا۔روس اور سعودی عرب جیسے ممالک سے درآمدات میں اضافے کی بجائے چین کی حکومت کو لازمی طور پر ایک قابل اعتماد تجارتی شراکت دار کی حیثیت سے امریکا کے ساتھ مسلمہ حیثیت کیلئے ضروری اقدامات کرنا چاہئے۔

ڈیموکریٹس پہلے ہی متنبہ کرچکے ہیں کہ محرک رقم کو تیل کے شعبے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔گزشتہ ہفتے دو درجن ڈیموکریٹس نے میسا چوسٹس کے سینیٹر ایڈ مارکی اور کیلیفورنیا کی قانون ساز نینٹ ڈیاز بیرگان کی قیادت میں انتظامیہ کو ایک خط لکھا،جس میں توانائی کی کمپنیوں کو بیل آؤٹ لینے کے لئے ہر موقع پر زور دینے،قرضوں کی ریکارڈ سطحوں اور مالیاتی بحرانوں کی ذمہ داری سے گریز جو ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں،پر تنقید کی گئی۔

پروگریسو نیویارک قانون ساز الیگزنڈریا اوکاسیو کورٹیز نے پیر کو کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اب گرین نیو ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا۔تیل کی منفی قیمتوں کے بارے میں ایک ٹوئٹ جسے بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا،انہوں نے کہا کہ آپ یقیناََ اسے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ریکارڈ کم شرح سود کا بھی یہ مطلب ہے کہ ہمارے سیارے کو بچانے کیلئے گرین انفرااسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کی زیر قیادت کام کیلئے یہ بہترین وقت ہے۔

ریپبلکن نے لاکھوں لوگوں کے ممکنہ طور پر ملازمتوں سے محروم ہونے کا احساس نہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ایوان کے ریپبلکن سربراہ اسٹیو اسکیلیز نے کہا کہ الیگزنڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا کیونکہ ڈٰموکریٹس اپنے بنیاد پرست سوشلسٹ ایجنڈے کے لئے لوگوں کی ملازمتوں اور معاش کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

شمالی ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والی جی او پی کی قانون ساز کیلی آرمسٹرونگ جو توانائی کمپنیوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، نے کہا کہ لوگوں کی ملازمتیں بخارات بن کر خارج ہورہی ہیں۔

کیلی آرمسٹرونگ نے کہا کہ زندگی کو حقیقی وقت میں برباد کیا جارہا ہے۔نارتھ ڈکوٹا کمپنیاں جن کو بنانے میں کئی عشرے صرف ہوئے،وہ محض چند گھنٹوں میں تباہ ہوگئیں۔ کوئی بھی سرکاری عہدیدار جو اسے دیکھنا پسند کرتا ہے وہ عہدے پر فائز ہونے کا اہل نہیں ہے۔

آئل لابی اپنے اپنے شعبے پر زور دے رہی ہیں کہ وہ وفاقی قانون سازی کے ذریعے لیکویڈٹی تک رسائی سے محروم نہ رہیں۔امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ جو بڑی بڑی امریکی آئل کمپنیز کی نمائندگی کرتا ہے، نےکہا کہ اس بحران سے متاثر تمام صنعتوں کے لئے قرض دہندگان سے لیکویڈیٹی تک رسائی بہت ضروری ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید