آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

جب تک ویکسین دریافت نہیں ہوتی معاشی، ثقافتی اور سماجی طور پر ایک قابل عمل لاک ڈائون ہی کرنا پڑے گا۔ بدقسمتی سے وفاق کی طرف سے کنفیوژن پھیلائی گئی اور لاک ڈائون کی مخالفت کی گئی جس کے سبب یہ اقدام مؤثر ثابت نہیں ہوپا رہا۔ 

کورونا وبا... آگے کیا؟
ڈاکٹرمفتاح اسماعیل
سابق وفاقی وزیر خزانہ

حکومت پاکستان نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ابتدا سے ہی غلطیاں کیں، تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کورونا وباء کے اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر ناکام رہے۔ جب تک آپ ٹیسٹ کر کےمریضوں کو صحت مند افراد سے الگ نہیں کریں گے تب تک خطرات کے پھیلائو کا خدشہ برقرار رہے گا۔ پاکستان میں وائرس کا پھیلائو تیز نہیں ہے اور ہلاکتیں کم ہیں تو اس کی وجہ لاک ڈائون ہی ہےپنجاب میں گزشتہ ایک ہفتے سے ٹیسٹنگ کی تعداد میں بہت کمی آئی ہے۔ یہ بہت خطرناک صورت حال ہے۔ حکومت صحت کے بجٹ میں اضافہ کرے، اپنی ترجیحات میں تبدیلی لائے، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولیت دی جائے

ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل

مریضوں کو صحت مندوں سے الگ کرنا ہی تو کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے لیکن ہم اس میں ناکام ہیں ٹیسٹنگ میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔ اس سے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہوگی۔ کورونا وائرس کی وبا سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ 

کورونا وبا... آگے کیا؟
امین ہاشوانی
سوشل سائنٹسٹ

عالمی ماحولیات کو ہم نے بالکل نظرانداز کیا ہوا تھا فطرت سے ہم ایک طرح کی جنگ کررہے تھے انسانی زندگی اور اس کے ماحول کو بہتر کرنے کی بجائے، جنگ، تشدد، نفرت، عدم مساوات، ماحول کے بگاڑ کو ترجیح دے رہے تھے اس کا نتیجہ ایک دن تو آنا تھا اب اس کو فطرت کاانتقام تصور کرلیں اور اپنی سمت درست کریں، حکومت کو کرفیو پر جانا چاہئے تھا جس میں بتدریج نرمی کی جاتی لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ ان کی حفاظت اور تحفظ کے لئے ڈاکٹرز اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیںعوام کو احتیاظ کرناہوگی، رمضان کامہینہ ہے اس میں ایک دوسرے کا احساس بڑھ جاتا ہےڈاکٹروں کا احساس کریں ہمارا گھروں میں رہنا ہی ان سے تعاون ہے

امین ہاشوانی

ایک محدود اور کم مدت کا کرفیو کارگر رہتا لیکن جس نوعیت کا لاک ڈائون کیا گیا ہے یہ مناسب نہیں کیونکہ یہ وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں موثر نہیں ہوگا اور نہ ہی آپ بہت طویل عرصے تک لاک ڈائون میں رہ سکتے ہیں۔ 

کورونا وبا... آگے کیا؟
ڈاکٹر ندیم احمد رضوی
کار ڈیا لوجسٹ

حکومت میڈیکل ایکسپرٹس کے ساتھ بیٹھے ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ساتھ رکھے منتخب باڈیز کے عہدیداروں کو مشاورت میں شامل کرے۔مئی میں یہ وبا مزید اوپر جائے گی جون کے بعد شاید نیچے کا ٹرینڈ شروع ہو اور نارملائز ہونے میں ستمبر آجائے گا۔ حکومت ترجیحات بدلے ہیلتھ سیکٹر کو فوقیت دے اس کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، اسپتالوںکا معیار بہتر بنایا جائے، نئے اسپتال قائم کئے جائیں، ڈاکٹروں کے سروس اسٹرکچر میں تبدیلی لائی جائے تاکہ وہ نجی جاب کی بجائے اپنی سرکاری نوکری پر ہی فوکس کریں پبلک اسپتال کو بہتر بنائیں نجی اور پبلک ڈاکٹرز کو الگ ہونا چاہئے

ڈاکٹر ندیم رضوی

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں تیزی آ رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد تادمِ تحریر ساڑھے سترہ ہزار ہو چکی ہے جب کہ تین سو اکیانوے افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے صوبے اور وفاق اس حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کی رائے کو نظرانداز کیا جا رہاہے۔ ٹیسٹنگ کی تعداد میں اضافہ کی بجائے کمی ہو رہی ہے۔ لاک ڈائون میں مزید سختی کی بجائے نرمی برتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال کس بحران کو جنم دے دے گی۔ کورونا وائرس کی وباء کس سمت میں جا رہی ہے، کیا لاک ڈائون میں نرمی کی جا سکتی ہے؟ کیا ہیلتھ کیئر نظام اس وباء کا مقابلہ کر سکے گا؟ ڈاکٹروں کے خدشات کیا ہیں؟ کاروبار کو کھولنے کے لیے کن ایس او پیز کی ضرورت ہے؟ وفاقی حکومت اور سندھ کی حکمت عملی ایک پیج پر کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ وفاقی حکومت کے اقدامات کتنے مؤثر ہیں! وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں حکومت کیوں ناکام رہی؟ ان سوالوں کے جوابات کے لیے کورونا وائرس کی وباء، تحفظ، اقدامات اور اثرات کے موضوع پر ٹیلی فونک جنگ فورم کا انعقاد کیا گیا جس سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل، سوشل سائنٹسٹ امین ہاشوانی اور ممتاز کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ندیم رضوی نے اظہار کیا۔ فورم کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل

کورونا وائرس وباء اب آگے کیا! اس وقت کا سب سے اہم سوال ہے۔ پاکستان میں لاک ڈائون ہو یا نہ ہو وفاق نے اسے ایک غیرضروری ایشو بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ فی الوقت اس کے سوا ابھی اور کیا کر سکتے ہیں۔ جب تک ویکسین دریافت نہیں ہوتی معاشی، ثقافتی اور سماجی طور پر ایک قابل عمل لاک ڈائون ہی کرنا پڑے گا۔ یہ ہوا بھی ہے تمام صوبوں بشمول اسلام آباد لاک ڈائون کا اعلان کیا گیا لیکن بدقسمتی سے وفاق کی طرف سے کنفیوژن پھیلائی گئی اور لاک ڈائون کی مخالفت کی گئی جس کے سبب یہ اقدام مؤثر ثابت نہیں ہوپا رہا۔ برطانیہ نے بھی ابتداء میں یہ ہی غلطی کی تھی جس کے سبب وائرس کا پھیلائو تیزی سے ہوا اور بالآخر انہیں سخت لاک ڈائون کی طرف جانا پڑا۔ ہم یہ کرسکتے ہیں کہ لاک ڈائون ایسا ہو کہ معاشی نقصانات کم سے کم ہوں۔

ہجوم یا اجتماع کو روکا جائے اس میں بحث نہیں ہے، ہاں معاشی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں اس کے لیے ایس او پیز بنائے جا سکتے ہیں۔ خطرات کو کم سے کم کرتے ہوئے کاروبار زندگی جاری رہے۔ حکومت وائرس پروٹوکول بنائے کہ کس طرح ملازمین کو ٹرانسپورٹیشن دی جائے، گیٹ پر کیسے آمد و رفت ہو، کام کا طریقہ کار کیا ہو، کھانا پینا اور دیگر حاجات کیسے پوری کی جائیں۔ بس بزنس سے وائرس کے پھیلائو کا خدشہ نہ ہو اسے جاری رہنے دیا جائے۔ متبادل ایّام بھی مختص کیے جا سکتے ہیں تا کہ سڑکوں پر ٹریفک بھی زیادہ نہ ہو۔

لاک ڈائون کے فوائد زیادہ ہیں۔ یہ اقدام وائرس کے پھیلائو کو کم کر دیتا ہے۔ لوگ اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ بڑی تعداد میں وائرس نہیں پھیلتا جو اَزخود ایک تحفظ ہے۔ صحت عامّہ کا نظام دبائو کا شکار نہیں ہوتا۔ ہیلتھ کیئر کی مزید تیاری کا موقع ملتا ہے۔ لوگ ہلاکتوں کا شکار کم ہوتے ہیں۔ حکومتوں کو وقت ملتا ہے کہ وہ وائرس کے کنٹرول کے لیے متبادل پلان پر جائیں۔ ہیلتھ انفرا اسٹرکچر کے قیام پر جائیں۔ حکومت کو ٹیسٹنگ کرنے، نئے مریضوں کو تلاش کرنے کا وقت مل جاتا ہے وباء تیزی سے نہ پھیلے تو آپ تمام صورت حال کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔

وائرس کے پھیلائو کو روکنے سے یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا نقصان کم ہو رہا ہو اور اس دوران اس کا کوئی علاج یا ویکسین تیار ہو جائے۔ لاک ڈائون نہ کرنے سے وائرس کا پھیلائو تیز ہو سکتا ہے اور جس کے سبب مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وہ اس قدر بھی ہو سکتی ہیں کہ آپ پھر اس صورت حال کا مقابلہ ہی نہ کر سکیں۔

دُنیا بھر میں کورونا وائرس نے تباہی پھیلا رکھی ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک کا ہیلتھ نظام ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ اموات کی شرح کچھ ملکوں میں بہت بلند ہے۔ امریکا یورپ جیسے ممالک کو وائرس نے جکڑ لیا ہے۔ انسانی جانوں کے زیاں کے ساتھ معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے لیکن وہاں اب انسانی جانوں کے تحفظ کو اولیت دی جا رہی ہے اس کے ساتھ ریلیف اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بحث نہیں ہے کہ لاک ڈائون ہو یا نہ ہو۔ اٹلی، اسپین، جرمنی، چین تمام جگہوں پر لاک ڈائون کو ہی واحد علاج قرار دیا گیا۔

حکومت پاکستان نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ابتدا سے ہی غلطیاں کیں، تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کورونا وباء کے اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر ناکام رہے۔ انہوں نے اسے بہت آسان لیا یہ وہی غلطی تھی جو امریکی صدر ٹرمپ نے کی جو برطانوی وزیراعظم نے کی۔

ابتدا میں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنا آسان تھا۔ چین سے طلبہ کی واپسی کی پالیسی کو مسلسل جاری رکھنا چاہیے تھا لیکن حکومت نے تفتان سے زائرین کی آمد کے معاملے میں پالیسی میں نرمی کی اور پھر انہیں بھی تفتان میں محدود کرنے میں ناکام رہے۔ اگر زائرین کو وہیں قرنطینہ میں رکھا جاتا، ٹیسٹنگ کے بعد وہاں سے جانے کی اجازت دی جاتی تو اس کا پھیلائو روکا جا سکتا تھا۔ حکومت نے مزید تاخیر کی کہ ووہان کےبعد ہوشیار نہیں ہوئے۔ اس دوران ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانا چاہیے تھا۔ ڈاکٹروں کی کٹس، حفاظتی ماسک، اسپتالوں کے بیڈز اور نئے ہیلتھ کیئر یونٹس پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ اس کے بعد بھی غلطیاں جاری رہیں۔ مذہبی اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا، دیگر صوبے لاک ڈائون میں تاخیر سے گئے، ٹیسٹنگ کی سہولتیں تاخیر سے شروع ہوئیں اور اب ان دنوں سندھ کے علاوہ تمام صوبوں میں ٹیسٹنگ میں تیزی نہیں ہے۔ بہت کم تعداد میں ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔

جب تک آپ ٹیسٹ کر کےمریضوں کو صحت مند افراد سے الگ نہیں کریں گے تب تک خطرات کے پھیلائو کا خدشہ برقرار رہے گا۔ پاکستان میں وائرس کا پھیلائو تیز نہیں ہے اور ہلاکتیں کم ہیں تو اس کی وجہ لاک ڈائون ہی ہے اگر لاک ڈائون مزید سخت ہوتا تو صورت حال اور بہتر رہتی۔

پنجاب میں گزشتہ ایک ہفتے سے ٹیسٹنگ کی تعداد میں بہت کمی آئی ہے۔ یہ بہت خطرناک صورت حال ہے۔ حکومت اس جانب توجہ دے، لاک ڈائون کی کنفیوژن ختم کرے، صحت کے بجٹ میں اضافہ کرے، اپنی ترجیحات میں تبدیلی لائے، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولیت دی جائے۔

امین ہاشوانی

دنیا اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، آگے کیا ہوگا؟ زندگی میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ کورونا ختم ہوگا یا نہیں؟ اس کا علاج اس کی ویکسین کب تک آئے گی، آئے گی بھی کہ نہیں، دنیا نارمل پوزیشن میں واپس جاسکے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ریسرچ جاری ہے سماجی نفسیاتی، معاشی، سیاسی، سائنسی، طب تمام میدانوں کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟ آگے کیا ہوگا؟ دنیا کیسے چلے گی؟ طبی ماہرین ویکسین کا دلاسادلارہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیںکہ اس کام میں ایک برس لگ جائے گا تب تک کیا ہوگا؟ ملکوں کے سیاسی، معاشی نظام کیسے چلے گا؟ ایک سال تک تو لاک ڈائون نہیں کیا جاسکتا، لوگوں کو گھروں میں قید نہیں رکھا جاسکتا۔

اب شاید یہ ہوگا کہ ویکسین آنے تک ہم زندگی کو ڈسپلن میں لے آئیں، سماجی فاصلہ کے ساتھ جینے کے عادی ہو جائیں اجتماعات سے دور رہیں، اسمارٹ لاک ڈائون کو مستقل اپنالیں۔ کورونا ٹیسٹنگ، ایمیونٹی ٹیسٹنگ ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔ ماسک اور کورونا سے تحفظ کی دیگر اشیا کی پیداوار بڑی تعداد میں کی جانے لگی۔ ماسک کے ساتھ ہم جینے لگیں کام کرنے لگیں۔ ابھی یہ دورکا منظر دکھائی دیتا ہے کہ ہم واپس اپنی نارمل زندگی میں جاسکیں۔

اب حکومتوں کو کام کرنا ہوگا ایک سمجھوتے کی زندگی عوام کو دی جائے۔ زندگی کا انداز بدلا جائے اور اس کے ساتھ کاروبار زندگی کو جاری رکھا جائے۔ فیکٹریاں چلیں، بازار کھلیں، دکانیں گاہک سے ڈیل کریں، سڑکوں پر زندگی رواں دواں ہو، نقصان کس کا زیادہ ہوگا کس کا کم! ترقی یافتہ ممالک دولت مند خطے تو شاید اس وار کو سہ جائیں لیکن غریب اور ترقی پذیر معیشت کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایسے ملکوںمیں غربت مزید بڑھے گی، غریب اور امیر میں فرق اور زیادہ ہوگا، غریبوں کی سہولتوں میں مزید کمی ہوگی، کاروبار کے لئے کیا زندگی کمپرومائز ہوگی

اس وقت کا یہ سب سے بڑا سوال ہے۔پاکستان جیسے ممالک پہلے ہی صحت کی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔ وہ اس وبا کامقابلہ کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا سب سے بڑا کام یہ بھی ہے کہ تحفظ اور پرہیز اختیار کیا جائے، دوا نہیں، علاج نہیں، اسپتال نہیں، بیڈز نہیں، وینٹی لیٹرز نہیں تو پھر پرہیز ہی تو رہ جاتا ہے جو کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں ابھی کورونا وائرس کے شکار مریضوں کی تعداد کم ہے اس کو آسان نہ لیں، ہم ٹیسٹنگ بھی تو کم کررہے ہیں جو مزید پھیلائو کا سبب بنے گی۔ مریضوں کو صحت مندوں سے الگ کرنا ہی تو کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے لیکن ہم اس میں ناکام ہیں ٹیسٹنگ میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔ اس سے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہوگی۔

کورونا وائرس کی وبا سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ عالمی ماحولیات کو ہم نے بالکل نظرانداز کیا ہوا تھا فطرت سے ہم ایک طرح کی جنگ کررہے تھے انسانی زندگی اور اس کے ماحول کو بہتر کرنے کی بجائے، جنگ، تشدد، نفرت، عدم مساوات، ماحول کے بگاڑ کو ترجیح دے رہے تھے اس کا نتیجہ ایک دن تو آنا تھا اب اس کو فطرت کاانتقام تصور کرلیں اور اپنی سمت درست کریں لیکن کیا یہ ہوپائے گا، دکھائی تو نہیں دیتا۔ غریب مر رہا ہے، پس رہا ہے لیکن لاک ڈائون میں ذرا نرمی ہوئی تو اسٹاک مارکیٹ اوپر چلی، فیکٹریاں کھلیں تو ماحول کی خرابی دوبارہ شروع ہوگئی۔ سیاسی تنازعات ختم ہونے کی بجائے شدت پکڑ رہے ہیں۔ الزام تراشیاں، سازشی نظریات وجود میں آرہے ہیں۔

پاکستان میں بھی صوبوں اور وفاق کے تنازعات ختم نہیں ہورہے۔کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ دوا سے نہیں احتیاط سے کیا جائے گا۔ حکومت کا ساتھ دینا ہوگا، لاک ڈائون اور سماجی فاصلے کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور یہ سب آسانی سے نہیں ہوگا۔ لوگ اپیل سے نہیں مانیں گے، سوسائٹی میں سب ایک جیسے نہیں ہیں ہر قسم کے لوگ ہیں ہر قسم کے مسائل ہیں حکومت کو نرمی نہیں سختی کرنا ہوگی قانون کا پابند بنانا ہوگا،

لاک ڈائون کے لئے قانون پر عمل درآمد کرانا ہوگا، مزید سختی کرے، یہ ہی واحد راستہ ہے ورنہ مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ سویڈن، سنگاپور اور چین نے جیسے ہی لاک ڈائون میں نرمی کی کورونا مریض کی تعداد بڑھ گئی۔ صورتحال کو کنٹرول کئے بنا بزنس کو بحال کرنا مناسب نہیں۔ اگر نوے فی صد لوگ لاک ڈائون میں رہتے ہیں اور دس فیصد ہی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں وہ دس فیصد تباہی لانے کے لئے کافی ہیں،

حکومت کو کرفیو پر جانا چاہئے تھا جس میں بتدریج نرمی کی جاتی نرم لاک ڈائون کا مطلب یہ طویل عرصے تک رہے گا اور طویل مدت تک آپ لاک ڈائون نہیں کرسکتے۔ لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ ان کی حفاظت اور تحفظ کے لئے ڈاکٹرز اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ان کے پاس حفاظتی سامان بھی زیادہ نہیں ہے، اپنے خاندان سے دور ہیں، بچوں، والدین سے نہیں مل سکتے، یہ سب کتنا عرصہ رہے گا؟ عوام کو احتیاظ کرناہوگی، جبری احتیاط ، سوچیں ا ور ڈاکٹرز کا ساتھ دیں ان کے درد کا احساس کریں ان کے مشن کو سمجھیں۔

رمضان کامہینہ ہے اس میں ایک دوسرے کا احساس بڑھ جاتا ہے اس رمضان میں ڈاکٹروں کا احساس کریں ہمارا گھروں میں رہنا ہی ان سے تعاون ہے۔کورونا وائرس ایک طبی مسئلہ ہے اسے ڈاکٹروں کو نمٹنے دیں ، پالیسی سازی میں انہیں آگے رکھیں، ان سے مشاورت کریں، عوام سے وہ مخاطب ہوں

ڈاکٹر ندیم رضوی

پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں غربت ہے، تعلیم کی کمی ہے، شہری شعور ناپید ہے، کچی آبادیاں زیادہ ہیں، بڑے خاندان کا رواج ہے چھوٹے گھر میں بڑے کنبے آباد ہیں لاک ڈائون جیسی حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یا تو حکومت کرفیو پر جاتی کہ لوگ کسی بھی حال میں گھروں سے باہرنہ نکل سکیں نہ ہی کاروبار کرسکیں۔ ایک محدود اور کم مدت کا کرفیو کارگر رہتا لیکن جس نوعیت کا لاک ڈائون کیا گیا ہے یہ مناسب نہیں کیونکہ یہ وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں موثر نہیں ہوگا اور نہ ہی آپ بہت طویل عرصے تک لاک ڈائون میں رہ سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ روز کمانے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ خطرات مول لیں گے تو پھر کیا حکمت عملی ہو؟ جب آپ کرفیو کا نفاذ نہیں کرسکتے یا نہیں کیا اور لاک ڈائون موثر ثابت نہیں ہورہا یا حکومت اسے موثر بنانے میں ناکام ہو تو؟ ڈاکٹرندیم رضوی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ریلیف پیکیج کے نام پر جو رقوم مختص کی یا خرچ کررہے ہیں اس کی بجائے ان رقوم کو فوری طور پرکورورنا وائرس سے بچائو کے اقدامات پر خرچ کیا جاتا۔

تیز ترین کورونا وائرس ٹیسٹنگ لاک ڈائون کےساتھ سب سے موثر حربہ ہے۔ جب تک آپ متاثرہ مریضوں کو ڈھونڈ کر صحت مند آدمی سے الگ نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیںہوگا ہمیں اسمارٹ لاک ڈائون سے آغاز کرنا چاہئے تھا۔ باہر کی پروازیں ابتدا میں ہی بند کردیتے یا پھر جو بھی مسافر پاکستان میں اتر رہا تھا اسے قرنطینہ میں چودہ دن تک لازمی رکھتے اورٹیسٹ کرتے جاتے اس طرح پاکستان میں سوشل گیدرنگ کی سرگرمیوں کو بند کردینا چاہئے تھا خواہ وہ کسی بھی قسم کی بھیڑ ہو جلسے جلوس، اجتماعات خواہ گھر کے اندر ہوں یا باہر دفعہ ایک سو چوالیس کی طرز پر سب پر پابندی ہونی چاہئے تھی۔

کچی آبادیوں یا ایسے مقامات جہاں یہ اندیشہ تھا کہ یہاں سے وائرس پھیل سکتاہے یا پھیل رہا ہے اسے مکمل طور پر لاک ڈائون کرنا چاہئے تھا۔ باقی جہاں لوگوں کو شعور ہو اور سماجی فاصلوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوںوہاں شہر اور بزنس کھلارکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ جتنی جلدی اور تیزی سے آپ متاثرہ مریضوں کو الگ کرتے جاتے وائرس کا پھیلائو کم ہوتا جاتا۔ نہ کرفیو لگانا موثر لاک ڈائون کرسکے نہ لوگوںکو کاروبار کرنے دیا گیا کہیں بھی کامیابی حاصل نہ ہوسکی جس کے نتیجے میں صورتحال تیزی سے سنگین ہورہی ہے۔

آج پاکستان میںسترہ ہزار سےزائد کیسز ہوچکے ہیں اور اندازہ ہےکہ کم ٹیسٹنگ کے سبب اتنے ہی مریض اور ہیں جن کو ہم شناخت نہیں کرپائے گویا پاکستان میں سترہ نہیں چوتیس ہزار کورونا وائرس کے شکار لوگ موجود ہیں یہ بن دیکھے خطرات کی مانند ہیں جو مزید پھیلائو کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم درست ترجیحات کا تعین نہ کرسکے جان اور مال کی بحث میں پھنس گئے جن ملکوں نے اپنی معاشی سماجی اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھ کر لاک ڈائون اور فاسٹ ٹیسٹنگ میں گئے وہ کامیاب نظر آئے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوںمیں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ ہیلتھ کیئر سسٹم کمزور ہے وہ اس بڑھتی ہوئی تعداد کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ حکومت حکمت عملی کو ریورس کرےاپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے اب اسمارٹ لاک ڈائون پر جائے، متاثرہ ایریاز پر فوکس کرے، ٹیسٹنگ میں تیزی لائے۔

کورونا کے سبب دیگر بیماریوں کے مریض بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ او پی ڈیز بند ہیں، ڈاکٹرز اور مریض دونوں خوف زدہ ہیں، دوائیں نہیں ہیں، این آئی سی وی ڈی میں ہارٹ اٹیک کے یکسز نصف آرہے ہیں یا تاخیر سے آرہے ہیں جو نہایت خطرناک بات ہے۔آپ اس صورتحال اور حکمت عملی کو لانگ ٹرم میں نہیں چلاسکتے۔

کراچی ایکسپو سینٹر کے بارے میں خبریں ہیں کو اسی فیصد مریض داخل ہوچکے ہیں دیگر اسپتالوں کی بھی یہ ہی صورتحال ہے چند دن بعد آپ کے پاس بیڈز نہیں ہوںگے وینٹی لیٹرز پہلے ہی محدود تعداد میں ہیں اور ڈاکٹرز اس خدشے کا اظہارکرچکے ہیں کہ پھر انہیں ضعیف اور جوان میں سے ایک مریض کاانتخاب کرنا ہوگا کہ کس کی جان بچائی جائے۔

سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کو اپنی صحت کی سہولتوں کا اندازہ تھا کہ زیادہ مریضوں کی صورتحال میں ہم اس وباکا مقابلہ کرنے کی سکت نہیںرکھتے اس لئے وہ لاک ڈائون کی طرف جلدی گئے یہ الگ بات ہے کہ وہ موثر ثابت نہ ہوسکا۔ حکومت شعوراور آگاہی کی مہم چلائے میڈیا اور سوشل نیٹ ورک پر فضول پروگرام ٹوٹکوں باتوں کے بجائے شعور بلند کرنے کی مہم چلائی جائے۔ سوشل ڈسٹنس اب لازمی ہے کورونا کے خطرات کم ہوں بھی تو سماجی فاصلہ رکھنا ہوگا۔ ڈاکٹروں کو تحفظ دینا ہوگا وہ ہماری لاسٹ لا ئن ہیں۔ ان کے بعد کچھ نہیں رہ جائے گا۔ حکومت بھی میڈیکل ایکسپرٹس کے ساتھ بیٹھے ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ساتھ رکھے منتخب باڈیز کے عہدیداروں کو مشاورت میں شامل کرے غیر متعلقہ ڈاکٹرز خواہ وہ کتنا بڑا نام ہو ان کی بجائے منتخب باڈیز کے ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کی جائے اور ان کی مشاورت سے حکمت عملی پر کام کیا جائے۔ اس سے معاملات پیچیدہ ہونے کی بجائے سلجھنے کی طرف جائیںگے کیونکہ منتخب افراد زمینی حقائق سے آگاہ ہوتے ہیں۔ تمام شعبوں کے ڈاکٹرز ان پر اعتماد کرتے ہیں ان کا آپس میں باہم رابطہ رہتا ہے حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی اگر ایسا کیا جاتا تو پورے ملک میں ڈاکٹرز پریس کانفرنس نہیں کررہے ہوتے۔ یہ ڈاکٹرز کی جنگ ہے انہیں یہ لڑنے دیں اور ان کی مشاورت کے ساتھ چلیں۔ کورونا وائرس سے تحفظ اور جنگ کی حکمت عملی میں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں تنازعات پر ڈاکٹر رضوی کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک صحت، تعلیم اور امن و امان کے معاملات کو سیاسی کشیدگی کی نذرنہیںکرنا چاہئے۔ ان شعبوں میں اعتماداور تعاون کی بہت ضرورت ہے اتفاق کرنے سے ہی یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ آئی جی کے معاملے پر سیاست سے نقصان ہوا اب کورونا وائرس پر اتفاق نہ ہونے کے سبب بھی نقصان ہورہاہے اور یکسو ہو کر جنگ نہیں لڑی جارہی۔ عوام کو بھی غلط پیغام جاتا ہے سندھ میں وزیراعلی اور وزیر صحت اچھا کام کررہے ہیں وفاق میں ظفر مرزا بھی کوالیفائیڈ ہیں بس ایک پیج پر ایک سوچ درکار ہے۔ میڈیا بھی غلط پورٹریٹ کرتا ہے گفتگو میں درست پینل اور متعلقہ شخصیات کو بلانا چاہئے ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے مئی میں یہ وبا مزید اوپر جائے گی جون کے بعد شاید نیچے کا ٹرینڈ شروع ہو اور نارملائز ہونے میں ستمبر آجائے گا۔ چین میں پہلے ختم ہوگا اور نیا کیس نہیں آئے گا پاکستان میں ہم ستمبر تک اسے دیکھیں گے۔ حکومت ترجیحات بدلے ہیلتھ سیکٹر کو فوقیت دے اس کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، اسپتالوںکا معیار بہتر بنایا جائے، نئے اسپتال قائم کئے جائیں، ڈاکٹروں کے سروس اسٹرکچر میں تبدیلی لائی جائے تاکہ وہ نجی جاب کی بجائے اپنی سرکاری نوکری پر ہی فوکس کریں اور پبلک اسپتال کو بہتر بنائیں نجی اور پبلک ڈاکٹرز کو الگ ہونا چاہئے۔