آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سفوک میں سائز ویل سی نیو کلیئر پاور سٹیشن منصوبے کیلئے درخواست جمع

لندن( پی اے ) چھ ملین گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ایک نئے نیو کلیئر پاور سٹیشن کی تعمیر کیلئے ایک درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔ ای ڈی ایف انرجی نے سفوک کے ساحل پر واقع سائز ویل سی پلانٹ کا منصوبہ مرتب کیا ہے جو کہ ایک عشرے سے زیادہ پہلے تجویز کیا گیا تھا۔ سٹاپ سائز ویل سی کے ایلیسن ڈائؤنیس نے کہا کہ یہ منصوبہ دوسری ٹیکنالوجیز کے اہم فنڈز بھی کھا جائے گا ۔ سائز ویل سی منصوبے کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیمفری کڈوکس ہڈسن نے کہا ہے کہ یہ پراجیکٹ کورونا وائرس کے بحران کے بعد معیشت کے کک سٹارٹ کا باعث ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 3.2 گیگا واٹ پلانٹ چھ ملین گھروں کیلئے لو کاربن بجلی پیدا کرے گا، اس پلانٹ کی تعمیر کے دوران 25000 ملازمتیں اور 1000 اپرنٹس شپس پیدا ہوں گی ۔ ای ڈی ایف انرجی نے مزید کہا کہ اس سکیم سے امپورٹیڈ انرجی کی ضرورت کو کم کیا جائے گا۔ کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران پلاننگ انسپکٹوریٹ سے اس پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے رضامندی آرڈر کی درخواست دو ماہ کیلئے موخر کر دی گئی تھی ۔ ای ڈی ایف کے مطابق سائز ویل سی سمرسیٹ میں زیر تعمیر ہنکلی پوائنٹ سی کی تقریبا نقل ہے جس سے تعمیراتی اخراجات اور خطرات کم ہوں گے۔ لیکن سٹاپ سائز ویل سی کی مسز ایلیسن ڈاونس نے کہا کہ سائز ویل سی منصوبہ کہیں سے بھی ایک مہنگا پل ثابت ہوگا اور دوسری ایسی ٹیکنالوجیز اور منصوبوں کے اہم فنڈز کو بھی چوس جائے گا جو واقعی ہمارے توانائی کے لینڈ سکیپ کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک لاک ڈاؤن کی پابندیاں جاری ہیں تو اس کے پلاننگ پراسس میں عوام کی بھرپور شرکت ممکن نہیں ہو سکتی ہے یہاں تک کہ پلاننگ انسپکٹوریٹ بھی یہ نہیں جانتا ہے کہ یہ کیسے کارگر ہو سکتا ہے۔ ای ڈی ایف انرجی نے کہا کہ تجاویز کی اشاعت کے بعد ان کی سکروٹنی کو آسان بنانے کیلئے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔ مینجنگ ڈائریٹکٹر مسٹر ہیمفری کیڈوکس ہڈسن نے کہا کہ پراجیکٹ سائز ویل سی نیٹ زیرو انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو کورونا وائرس کے بحران کے بعد معیشت کو شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ منصوبہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا جبکہ اس کے ذریعے برطانیہ کو مستقبل لو کاربن پر کنٹرول رکھنے میں بھی میں مدد ملے گی ۔ حکومت کی جانب سے حتمی فیصلہ کرنے کے بعد اس کے پلاننگ پراسس کو مکمل ہونے میں 18 ماہ کا عرصہ لگے گا ۔ سائز ویل کو حکومت نے 2010 میں مستقبل کے نیو کلیئر پاور سٹیشن کیلئے موزوں ہونے کو اجاگر کیا تھا جب اس نے انگلینڈ اینڈ ویلز کے آس پاس کے آٹھ سائٹس کو ان کیلئے ممکنہ مقامات کی طویل فہرست سے منتخب کیا تھا ۔ سائز ویل میں دو پاور اسٹیشن پہلے ہی موجود ہیں - سائز ویل اے جو 960 کی دہائی میں کھولا گیا تھا اور 2006 میں بند کر دیا گیا تھا جبکہ سائز ویل بی 1990 کی دہائی میں کھولا گیا تھا جو اب بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔
یورپ سے سے مزید