آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دہقان کا لیڈر چوہدری فتح محمد

روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
جب بھی کوئی بڑا انقلابی اس جہاں سے رخصت ہوتا ہے تو میرے دل میں اس کی زندگی کو جاننے کا تجسس بہت بڑھ جاتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کی اپنے قارئین کے ساتھ بھی سانجھ کروں۔ گزشتہ دنوں چوہدری فتح محمد 97برس کی عمر میں ہم سے جدا ہوئے۔ ان کی زندگی کی داستانیں پوری صدی پر محیط ہیں۔ ایسا بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک زندگی بھر کی جدوجہد کو بقائم ہوش و حواس سنبھا لتے ہوئے ساتھ ل کر چل سکیں۔ اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور تجربات کا تمام سرمایہ آنے والی نسلوں کے حوالے کرکے جائیں۔ چوہدری فتح محمد پاکستان کی کسان تحریک میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔ کسان تحریک میں کام کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ کارخانوں اور فیکٹریوں کی ٹریڈ یونین سے بہت مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ اس کے ذریعے پیداوار کی نوعیت ہے۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں درجنوں یا سیکٹروں مزدور روزانہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہیں اپنے مسائل پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ درپیش مسائل پر براہ راست آجر سے بات کرسکتے ہیں اپنا لیڈر منتخب کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ذریعہ پیداوار ہی ایسا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کسان جو کہ نہ تو کسی وقت میں اکٹھے ہوسکتے ہیں نہ ہی وہ اپنے کام کی جگہ پر کسی ایک گیٹ سے داخل ہوتے ہیں، نہ ہی وہاں کام کے اوقات آغاز و اختتام کا کوئی بگل یا گھنٹی بجتی ہے نہ ہی وہ کھانے کے وقفے میں کسی ایک جگہ اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے دیہاتی مسائل کو تحریک کی آواز بنانا بہت مشکل کام ہے۔ اپنے اسی مخصوص ذریعہ پیداوار کی وجہ سے کسان کارخانہ مزدور سے ذہنی طور پر بھی پسماندہ ہوتا ہے۔ کسان اپنی محنت کے پھل یعنی بیج بونے سے لے کر فصل کانٹے تک غیر یقینی صورتحال میں رہتا ہے۔ اسی لئے زیادہ تو ہم پرست بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے مسائل پر اپنے وڈیرے یا جاگیردار کے ساتھ اپنے اس اعتماد کے ساتھ بات نہیں کرسکتا جس طرح کارخانے کا مزدور کرسکتے ہیں کسان چونکہ بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے انہیں اپنی طاقت یکجا کرنے کا موقع نہیں ملتا، ایسی صورتحال میں چوہدری فتح محمد نے نہ صرف کسانوں تو منظم کیا۔ بلکہ ان کے مسائل کو ٹریڈ یونین طرز پر ایک مربوچ اور مضبوط آواز بنایا۔ چوہدری فتح محمد بائیں بازو کی کسان تحریک کا ایسا قیمتی اثاثہ تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم بھی دیکھی اور اس کے بعد کسان تحریک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔
چوہدری فتح محمد تقسیم ہند کے وقت جالندھر سے ہجرت کرکے پنچاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آکر مقیم ہوئے۔ 1948 میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور سیاست کا آغاز کسان کمیٹی کے قیام سے کیا۔ سنیٹرل کمیٹی آف پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی مجلس عاملہ کے رکن بنے۔ جس کے نائب صدر فیض احمد فیض تھے جبکہ مرزا ابراہیم تھے بعد میں چوہدری صاحب نے میاں افتخار الدین کی آزاد پاکستان پارٹی جوائن کرلی۔ جوکچھ عرصے بعد نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ضم ہوگئی۔ جس کی سالانہ کانگریس 1957 میں ڈھاکہ میں ہوئی تھی۔ چوہدری صاحب نے 2011میںاپنی سوانح عمری مکمل کی جو کہ یادداشتوں اور واقعات کے تسلسل ایک انمول تحریر ہے۔ پاکستان میں کسان تحریک پر ابھی تک کوئی مربوط تحریر موجود نہیں تھی۔ اس کتاب میں1970میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد ہونے والی تاریخی کسان کانفرنس کا تفصیل سے ذکر ہے۔ اس کانفرنس میں دیگر ٹریڈ یونین اور ادبی تحریک کے نامور ناموں کے علاوہ فیض احمد فیض اور احمد راہی بھی شریک ہوئے تھے۔ یہ کتاب ’’جو ہم پر گزری‘‘ چوہدری صاحب نے لندن میں اپنے بیٹے پرویز فتح اور بھانجے بیرسٹر راشد اسلم کے پاس قیام کے دوران لکھی۔ چوہدری فتح محمد نے جب سے کسانوں کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا انہیں مسلسل وارنٹ گرفتاری، چھاپے، جیل تھانے اور کچہریوں کے چکر نے گھیرے رکھا لیکن انہوں نے کسان تحریک کو منظم کرنے کا کام کبھی ثانوی درجے پر نہیں جانے دیا۔ کئی دفعہ کئی کئی مہینے یا سال زیر زمین رہ کر بھی کام جاری رکھا انہوں نے کل وقتی کارکن کے طور پر کام کیا۔ ایوب خان مارشل لا کے وقت چوہدری صاحب گرفتار ہوئے اور قلعے کی تفتیشوں تک پہنچے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد چوہدری صاحب نے پاکستان سوشلسٹ پارٹی (PSP) بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 2011میں لندن میں فیض صاحب کی صد سالہ تقریبات کے سلسلےمیں بڑا میلہ منعقد ہوا تھا۔ جس کا چیف کوارڈینیٹر راقم تھا۔ اس سلسلے کی ایک تقریب میں چوہدری صاحب کو فیض امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ چوہدری صاحب نے اپنی کتاب میں اپنے جن قریبی سیاسی رفقا کا ذکر کیا ہے ان میں عابد حسن منٹو، سی آر اسلم، سردار شوکت علی، میاں افتخار الدین، مولانا بھاشانی، مرزا ابراہیم، میجر اسحاق، ایرک سپرین اور ڈاکٹر عبداللہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ چوہدری صاحب تادم آخر نظریات پر کاربند رہے جن پر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا اور کسانوں کا اسی طرح آخری وقت تک منظم کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہے جو کہ کسی بھی سیاسی اور انقلابی رہنما کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ چوہدری صاحب کےکام کو اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور مشعل راہ سمجھا جائے گا۔
یورپ سے سے مزید