آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ )

لاہور کے بارے میں جب سے ہم نے کالم لکھنا شروع کیا ہے، بے شمار لوگوں کے فون آئے ہیں کہ لاہور سے وابستہ ان کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جس شخص نے بھی آج سے پچاس، ساٹھ برس پہلے کا لاہور دیکھا ہے وہ آج تک قدیم لاہور کے سحر میں گرفتار ہے۔ کاش ماضی کی حکومتیں لاہور کو اس کے اصل حسن، اس کی قدیم روایات، کلچر اور تہذیب کے ساتھ زندہ رکھتیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف امرتسری بھی تھے اور لاہوری بھی ہیں مگر دونوں کو لاہور کیلئے جو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا۔ بلکہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین بنا کر اس لاہور کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ پیرس بناتے بناتے اصل لاہور بھی کھو گیا۔ آئیے چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف، اس لاہور میں کبھی اینگلو انڈین کافی تعداد میں ہوا کرتے تھے۔ ہم نے خود کئی اینگلو انڈینز کو نکلسن روڈ و کٹوریہ پارک، ہال روڈ پر دیکھا ہے بلکہ میو اسپتال میں ایک آخری نرس جو کہ کرسچن تھی، فراک پہن کر ڈیوٹی کیا کرتی تھی۔ میو اسپتال کے ایم ایس کی اہمیت گورنر پنجاب کے بعد سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ خیر اس میو اسپتال پر بھی کبھی بات کریں گے، اس کو برباد کرنے میں بھی کئی ایم ایس نے بھرپور حصہ ڈالا۔ ویسے ٹیچنگ اسپتال کا پرنسپل، چیف ایم ایس ہوتا ہے۔ پرانے لاہوریوں کو یاد ہو گیا ہے، انہوں نے ایک گورے چٹے چھوٹے قد کے نیلی آنکوں والے ایس پی ٹریفک کو مال روڈ، چیئرنگ کراس، ڈیوس روڈ اور دیگر سڑکوں پر ٹریفک کو کنٹرول کرتے اور لوگوں کو ڈانتے بھی دیکھا ہوگا۔ LONSDALE R NIBLET بعد میں ڈی آئی جی ہوکر ریٹائرڈ ہوئے اور حال ہی میں غالباً 90برس یا اس سے زیادہ عمر میں ان کا انتقال ہوا ہے۔

ایل ارنیٹ کی ہمارے چچا معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر انیس ناگی سے بہت دوستی تھی۔ وہ شام کو اکثر سر گنگا رام مینشن میں ایل ایف ڈی سوزو کے گھر بوتل اخبار میں لپیٹ کر لاتے اور شام کی محفل سجایا کرتے تھے اور ہمارے کزن ڈاکٹر دانیال ناگی جو اس وقت کتھیڈرل اسکول کے طالبعلم تھے، انہیں دل لگا کر پڑھنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ بڑا کمال کا آدمی تھا ہمارے ایک دوست عبید یوسف کے والد چوہدری محمد جو ڈی ایس پی ہوا کرتے تھے، بعد میں ایس ایس پی بن کر ریٹائرڈ ہوئے، ان کے سامنے والا گھر ایل ارنیٹ کا ہوتا تھا۔ اکثر ہماری ان سے ہیلو ہائے ہو جاتی تھی۔ ان کا ایک حوالدار جس کے بازو پر لال پٹی کے اوپر اسٹار بنا ہوتا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا رینک تو اے ایس آئی کے برابر ہے مگر وہ باقاعدہ اے ایس آئی نہیں۔ وہ انپی سفید لمبی موٹر سائیکل پر ایل ارینٹ کے لئے بوتل لیکر آتا تھا۔ ایل ارینٹ لاہور کے آخری اینگلو انڈین تھے، ایک اور اینگلو انڈین مسٹر ولن تھے جو ڈی ایس پی تھے۔ اس لاہور نے کیا کیا لوگ دیکھے ہیں اور کیا کیا لوگوں کو جنم دیا ہے۔

لاہور کی مال روڈ جس کا قدیم نام ٹھنڈی سڑک بھی رہا ہے، ویسے تو کبھی سندر داس روڈ کو بھی ٹھنڈی سڑک نام دیا گیا تھا۔ سندر داس روڈ پر ایچیسن کالج کی بائونڈری پر بانس کے بڑے بڑے درخت ہوتے تھے جو جھک کر میو گارڈن کے درختوں پر آ جاتے تھے اور میو گارڈن کے درخت بھی ان بانس کے درختوں سے مل جاتے تھے اور پوری سڑک پر جو کم از کم دو/تین کلومیٹر ہے، چھائوں رہتی تھی۔ کبھی دھوپ اس سڑک پر نظر نہیں آتی تھی اب بانس بھی نہ رہا اور ریلوے کے کرپٹ افسروں نے میو گارن کے اندر اور باہر کے درخت کاٹ کر فروخت کر دیے۔ مال روڈ پر ٹولنٹن مارکیٹ سے چیئرنگ کراس تک کبھی بڑے خوبصورت ہوٹل ہوتے تھے جن کا اب نام ونشان نہیں۔ چائنیز لنچ ہوم، پاک ٹی ہائوس (جس نے نامور ادیب اور شاعر پیدا کیے، کئی نامور ادیب یہاں بیٹھا کرتے تھے) شیزان کے دو ہوٹلز ایک گنگا رام مینشن میں، دوسرا ریگل چوک میں لارڈز (پہلا نام کینسو) جہاں لائیو میوزک ہوتا تھا، انڈس ہوٹل اور اس کا گرین روم (جہاں پر آپ پچاس پیسے کا سکہ ڈال کر اپنی پسند کے ریکارڈ سنا کرتے تھے، ہم نے بھی کئی مرتبہ وہاں سکہ ڈال کر گانے سنے تھے)

الفلاح بلڈنگ اور واپڈا ہائوس تو بعد میں ہمارے سامنے بنے تھے، شاہ دین بلڈنگ میں میزی ریسٹورنٹ تھا جو لاہور کا پہلا سیلف سروس ریسٹورنٹ تھا۔ جہاں پر حمید نظامی مرحوم اور مجید نظامی مرحوم دونوں کو ہم نے کئی مرتبہ بیٹھے دیکھا تھا۔ اس ریسٹورنٹ کی ایک برانچ پرانے ایئر پورٹ پر بھی ہوا کرتی تھی جہاں پر لوگ بیٹھ کر ہوائی جہاز کو بالکل اپنے سامنے دیکھتے تھے۔

لاہور میں پہلا چائنیز ریسٹورنٹ 1966ء میں قائم ہوا تھا اس کا نام CATHAYتھا، اس ریسٹورنٹ کے مالک ہوٹل کے اوپر ہی رہتے تھے۔ ان کی بیٹی نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) سے ایم بی بی ایس کیا تھا ہم نے کئی مرتبہ وہاں کھانا کھایا تھا۔ انڈس ہوٹل سے پہلے یاسین کی بیکری ہوتی تھی، اس کا مالک لال رنگ کی ترکی ٹوپی پہنے ہوتا تھا، کیا کمال کا بزرگ تھا، ہر ایک کی عزت کرتا، بچوں کو بہت پیار کرتا اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی البتہ اس کا ایک بھتیجا تھا۔ یہیں پر HOPSONSکے نام سے چینیوں کا ایک ہوٹل اور جوتوں کی بھی دکان تھی۔

شیزان ریسٹورنٹ کی پیسٹری اور سینڈوچ بہت لذیذ ہوا کرتے تھے۔ ایک ہوٹل شیراز بھی تھا، ریگل سینما کے پاس جہاں کبھی اینگلو انڈین ڈانس بھی کیا کرتے تھے۔ شیزان ریسٹورنٹ میں بھی ادیب، شاعر اور دانشور بیٹھا کرتے تھے۔ (جاری ہے)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)