آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا مفتی محمد نعیمؒ (گزشتہ سے پیوستہ)

مفتی خالد محمود

آج جامعہ بنوریہ کئی شاندار عمارتوں پر مشتمل ہے۔ باقاعدہ دو مسجدیں ہیں۔ کشادہ درسگاہیں ہیں، کئی دار القامے (ہاسٹلز) ہیں، کئی دارالافتاء ہیں، شعبہ تحفیظ کی علیحدہ عمارت ہے۔ بنات کی شاندار عمارت ہے۔ غیر ملکی شعبہ مستقل قائم ہے۔ اساتذہ کی رہائش گاہیں ہیں۔ دارالافتاء، دارالتصنیف، دارالتربیت سمیت متعد شعبے پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہیں۔

مفتی محمد نعیم صاحب نے جامعہ بنوریہ کو بڑی محنت جا نفشانی اور مستقل مزاجی سے ترقی دی ابتداء میں دو درجے قائم کیے اور پھر ایک ایک درجہ بڑھاتے رہے یہاں تک اسے دورہ حدیث تک پہنچایا۔ اور دورہ حدیث بھی اپنے اساتذہ کے مشورے سے قائم کیا۔ جب تک دورہ حدیث کا آغاز نہیں ہوا تو مفتی نعیم صاحب باقاعدہ جامعہ علوم اسلامیہ تدریس کے لیے جاتے رہے اور دو کتابوں مقامات حریری اور مختصر المعانی کی تدریس جاری رکھی۔ جب آپ نے یہاں دورہ شروع کیا تو جامعہ سے تدریس کو موقوف کردیا۔

دورہ حدیث کے بعد مفتی صاحب نے اپنے یہاں تخصص فی الفقہ، تخصص فی الحدیث ، تخصص فی الدعوہ والارشاد، تخصص فی التفسیر کے شعبے بھی قائم کیے۔جامعہ بنوریہ کا ایک اہم شعبہ تحفیظ القرآن ہے۔ اس میں قاری عبدالحلیم کی نسبت، ان کا ذوق کار فرما ہے کہ جامعہ بنوریہ میں اول دن سے شعبہ حفظ میں معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری ہے، اور اس شعبہ میں مسلسل ترقی کا عمل جاری ہے۔ خود مفتی نعیم صاحب کو حفظ کی معیاری تعلیم کی فکر رہتی ہے، اچھے لہجے میں خوش الحانی سے قرآن کریم پڑھنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اس سلسلہ میں مفتی صاحب مسلسل توجہ رکھتے تھے۔ اچھے پڑھنے والے طلبہ کو دفتر میں بلا کر قرآن کریم سنتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، ان میں انعامات تقسیم کرتے، ہر سال حسن قرأت کے مقابلے کرواتے تا کہ طلبہ میں قرآن کریم پڑھنے کا ذوق پیدا ہو۔ کئی سال اسی لیے محافل حسن قرأت منعقد کرواتے رہے ، جس میں ، مصر، انڈونیشیا اور پاکستان کے جید قراء کو بلواتے تھے اسی سلسلہ میں ایک خاص شعبہ دارالتربیت کے نام سے قائم کیا۔ بنات میں بھی شعبۂ حفظ معیاری درجے کا ہے۔

ابھی ملک میں بنات کے مدارس کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا کہ مفتی صاحب نے اپنے یہاں بنات کا شعبہ قائم کیا ۔ الحمدللہ جامعہ بنوریہ کا بنات کا شعبہ بھی معیاری درجہ کا ہے۔ مفتی صاحبؒ نے اپنے یہاں تحقیق و تصنیف کا شعبہ بھی قائم کیا۔ مولانا حسین احمد صدیقی اور مولانا محمد صادق کو اس کا نگران بنایا اور متعدد علماء کو اس سے وابستہ کیا، اسی شعبہ کے تحت تفسیر روح القرآن اپنی نگرانی میں مرتب کروائی جس کی سات جلدیں آچکی ہیں۔

’’ادیان باطلہ و صراط مستقیم‘‘ کے نام سے فرق باطلہ پر کتاب مرتب کروائی، مفتی زین العابدین ، مفتی عتیق الرحمن ، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار پر وقیع نمبر شائع کرواتے۔بیسیوں چھوٹی بڑی کتابیں اس شعبہ کے تحت زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں۔

حضرت مفتی محمد نعیم صاحبؒ اگر چہ بہت سادہ مزاج تھے، لیکن مفتی صاحب کی سوچ وسیع تھی، مفتی صاحب اشاعت علم، تبلیغ دین، باطل نظریات کی تردید اور لوگوں کی دینی راہنمائی کے لیے تمام تر جدید وسائل اور ذرائع کو استعمال کرنے کے قائل تھے، اسی لیے مفتی صاحب نے اپنے جامعہ میں فتاوی آن لائن کا سلسلہ شروع کیا تاکہ پوری دنیا سے لوگ اپنے مسائل میں رہنمائی حاصل کریں۔ غالباً مفتی صاحب اس سلسلہ میں دوسرے اداروں پر سبقت کا شرف رکھتے ہیں، اسی طرح جب دیگر دینی ادارے اپنی ویب سائٹ بنانے کی سوچ رہے تھے، مفتی صاحب اپنے جامعہ کی ویب سائٹ تیار کرکے جاری کرچکے تھے، مفتی صاحب کی کوششوں سے آج سے کئی سال قبل امریکہ میں ریڈیو چینل کے ذریعہ اصلاحی بیانات اور سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ آج اس نے جدید ترقی یافتہ شکل اختیار کرلی ہے اور باقاعدہ بنوریہ میڈیا کے نام سے چینل قائم ہے جو لوگوں کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

مفتی صاحب کا ایک عظیم کارنامہ نو مسلم افراد کی راہنمائی، ان کی اعانت ، ان کا تحفظ ، ان کی رہائش اور تعلیم کا بندو بست کرنا ، انکو قانونی معاونت فراہم کرنا بھی ہے۔ اس میں بھی مفتی صاحب اپنی انفرادی اور امتیازی شان رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مفتی صاحب کو بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرناپڑا، آپ کو بہت زیادہ دبائو اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مرتبہ آپ اور آپ کے ادارے کے لیے خطرات پیدا ہوئے مگر مفتی صاحب ثابت قدم رہے اور سینکڑوں افراد نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔

مفتی صاحب کا صحافت سے بھی تعلق رہا، حضرت مفتی صاحب کی طرف تقریباً روزانہ پابندی سے بیان جاری ہوتا جس میں آپ نئے پیدا شدہ حالات پر خصوصاً مدارس و مساجد اور دینی اقدار کے حوالے سے بیان جاری کرتے، جو مختلف اخبارات کی زینت بنتا اور اس طرح مفتی صاحب احقاق حق کا فریضہ انجام دیتے، اسی طرح مفتی صاحبؒ مختلف چینلوں پر آپ حالات حاضرہ اور نئے ایشوز پر اپنی جچی تلی رائے کا اظہار کرتے اور مسلک حق کی ترجمانی کرتے۔آپ کے ادارے سے ایک عرصہ تک ماہنامہ البنوریہ کے نام سے رسالہ شائع ہوتا رہابعد میں اخبار المدارس کے نام سے ہفت روزہ شائع ہونے لگا، اس طرح آپ نے یہ میدان بھی باطل کے لیے خالی نہیں چھوڑا۔

مفتی صاحب نے مستحقین کی امداد اور ضرورت مند افراد کی اعانت کے لیے بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا جس نے ضرورت کے وقت گراں قدر خدمات انجام دیں۔ مفتی صاحب کی حسنات اور خدمات جلیلہ کی فہرست بہت طویل ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مفتی صاحب کا ایک بڑا اورعظیم کارنامہ جس میں مفتی صاحب کو اپنے اقران پر سبقت حاصل ہے ، وہ ہے غیر ملکی شعبہ کا قیام۔

مفتی نعیم صاحب کئی سال تک امریکہ کی ریاستوں میں رمضان المبارک میں تشریف لے جاتے اور وہاں قرآن کریم سناتے ، اسی دوران مفتی ساحب کے کئی شہروں میں سفر ہوتے، مفتی صاحب نے وہاں کے علاقوں میں اشاعت قرآن اور تبلیغ دین کا پروگرام بنایا، وہاں کے لوگوں کو ترغیب دی، ان کا ذہن بنایا۔ اس کے نتیجہ میں اولا ایک والد اپنے بچے کو لے کر آئے، جامعہ بنوریہ میں اس وقت تک کوئی غیر ملکی شعبہ نہیں تھا، مفتی صاحب نے اسے اپنے گھر میں رکھا، اس کے والد کو اپنے یہاں ٹھہرایا، اس بچے کی تعلیم کا بندوبست کیا۔ والد صاحب تو دو ماہ کے بعد واپس چلے گئے مگربچے کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ اگلے سال اس بچے کو دیکھ کر مزید چار بچے آگئے، اس طرح یہ سلسلہ شروع ہوا۔ مفتی صاحب نے ان کے لیے علیحدہ رہنے کے لیے کمرے تعمیر کروائے، ان کی درس گاہیں علیحدہ سے قائم کیں، ان کی تعلیم کا مستقل بندوبست کیا، ان کے کھانے پینے، رہائش کا عمدہ انتظام کیا اور اس طرح یہ ایک مستقل شعبہ وجود میں آگیا، یقینا مفتی صاحب نے اس کے لیے بہت محنت کی۔

نائن الیون کے بعد جب پرویز مشرف کے دور میں دینی طلبہ کے ویزوں پر پابندی لگادی گئی تو اس وقت ان غیر ملکی طلبہ کے حق میں سب سے مضبوط اور توانا آواز مفتی نعیم صاحب کی ہی تھی۔ مفتی صاحب نے اس کے لیے میڈیا کا بھی استعمال کیا، وزارت خارجہ کے لوگوں سے بھی مسلسل رابطے رکھے، ہر ذرائع سے اور ہر سطح پر آواز اٹھائی، اسی کا نتیجہ تھا کہ بڑے برے جامعات میں غیر ملکی طلبہ کا داخلہ بند ہوگیا، مگر جامعہ بنوریہ میں آخر وقت تک غیر ملکی طلباء تعلیم حاصل کرتے رہے اور آج بھی ایک بڑی تعداد غیر ملکی طلباء کی جامعہ بنوریہ میں زیر تعلیم ہے۔

آج جامعہ بنوریہ کے فضلاء مختلف ملکوں میں تبلیغ دین، اشاعت قرآن اور دینی تعلیم کی ترویج میں مصروف ِ عمل ہیں۔ بہت سے فضلاء نے اپنے اپنے علاقوں مٰں اسلامی سینٹر اور دینی مراکز قائم کیے ہیں۔مثلاً کیلیفورنیا میں مولانا نعمان بیگ، مولانا رضوان، مولانا عمران وغیرہ نے اسلامک سینٹر قائم کیا، نیو یارک میں مولانا سہیل اور ان کے رفقاء کی نگرانی میں اسلامک سینٹر قائم ہے، ٹیکساس میں مولانا ناصر جھانگڑا کی نگرانی میں کام ہورہا ہے۔

لندن میں بنوریہ کے فضلاء مولانا عبد الاول ، مولانا عبد الاحد اور مولانا عبد الرقیب مصروف عمل ہیں۔ افریقہ کے ملک کمپوڈیا میں بنوریہ کے فضلاء بڑی محنت سے دین کا کام کررہے ہیں۔فلپائن، تھائی لینڈ، بینکاک، جرمنی، فرانس اور ترکی میں جامعہ بنوریہ کے فضلاء کی کثیر تعداد مصروف عمل ہے۔ اور ملائیشیا، انڈونیشیا میں جامعہ بنوریہ کے فضلاء کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ تاجکستان، ایران ، روس اور سری لنکا میں بھی جامعہ بنوریہ کے فضلاء اپنی اپنی جگہوں میں علم دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یقینا یہ مفتی نعیم صاحبؒ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے، پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔ ان کی اولاد کو ان کا صیح جانشین بنائے اور ان کے گلشن کو ہمیشہ سر سبز و شاداب رکھے۔آمین