آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سیانے کہتے ہیں کہ ہر سوراخ میں انگلی نہیں ڈالنی چاہئے کبھی کبھی کسی سوراخ میں سانپ بچھو بھی ہوتا ہے۔ بھارت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ لداخ میں مثالی اور تاریخی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ چین نے بھارت کا وہ حشر کیا کہ نریندر مودی کو لینے کے دینے پڑ گئے لیکن یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ چینی فوج اور فضائیہ کی تیاریوں سے لگتا ہے کہ یہ تو شروعات تھی، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ مودی لداخ میں ذلت و رسوائی کی خفت مٹانے اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے اب مزید غلطیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کی انتہا کر دی ہے۔ اسی ہفتے سوپور میں بھارتی درندوں نے ایک 65سالہ کشمیری مسلمان کو گاڑی سے اتار کر گولیوں کا اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے 3سالہ ننھے نواسے کے ساتھ سودا سلف خریدنے جا رہا تھا۔ ظالم بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے بشیر احمد کی گاڑی روکی، اس کو زبردستی گاڑی سے اتارا اور اس معصوم بچے کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔بربریت کی انتہا دیکھیں کہ پھر یہ درندے اس کی لاش پر کھڑے ہو کر تصاویر بھی بنواتے رہے۔ اس دلدوز واقعے کی وڈیو نے ہر اس انسان کو ہلا کر دکھ دیا جس کے سینے میں دھڑکتا دل اور تھوڑی سی بھی انسانیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی برادری نے بھی اس دل دہلا دینے والے واقعے کو محسوس کر لیا ہے یا وہ مزید کشمیریوں کے قتل عام کا نظارہ دیکھنے کے منتظر ہیں؟ انسانیت کا پرچار کرنیوالوں، اقوام متحدہ، دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور او آئی سی کے مذمتی بیانات ان لاچار اور مظلوم و مجبور کشمیریوں کے درد اور زخموں کا مداوا ہرگز نہیں ہیں۔کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ مودی سرکار کے جبر کا ایک اور رخ بھی دیکھیں کہ کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ان کی نسل کشی بھی کی جا رہی ہے اور ایک کالے قانون کے ذریعے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ وادی میں بسانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اب بھارتی ہندو مقبوضہ کشمیر میں ملازمت اور کاروبار کے علاوہ جائیدادیں بھی خرید رہے ہیں اور ڈھائی ہزار سے زائد بھارتی ہندو مقبوضہ کشمیر میں جائیدادوں کی ملکیت حاصل کر چکے ہیں۔مسلم دشمنی اور تعصب پر مبنی ویشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی ہندوتوا ایجنڈے کی تکمیل میں اندھے ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انسانیت کے جھوٹے علمبرداروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی تذلیل اور ظلم و بربریت کیوں نظر نہیں آتی؟ مسلم حکمرانوں کا جذبہ ایمانی اور حمیت کہاں دفن ہو گئی ہے۔ مودی سرکار کو مار تو لداخ میں چین کے ہاتھوں پڑی ہے لیکن وہ اس بےعزتی کی خفت مٹانے کیلئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنا چاہتی ہے۔ جنگ کرنے کی تو شاید اب بھارت میں ہمت نہیں ہے اس لئے وہ پاکستان کی سرحد پر آزاد کشمیر کے شہریوں پر بزدلانہ حملے کرتا ہے۔ سال رواں میں اب تک بھارت نے 1500سے زائد مرتبہ سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ تا دم تحریر نو جاسوسی ڈرون بھی بھیجے گئے جو آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فوج نے مار گرائے۔ اسرائیل اور امریکہ کی اشیرباد سے بھارت کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پاکستان کے خلاف کوئی مذموم حرکت کر سکتا ہے جس کیلئے پاکستان ہر لمحہ تیار اور چوکس ہے۔کہتے ہیں کہ دشمن گھٹیا، بےشرم اور ڈھیٹ نہ ہو ورنہ بار بار ذلیل ہوتا رہے گا لیکن اپنی گھٹیا حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔ پاکستان سے کئی بار مار کھانے کے باوجود بھارت کی ایک اور کوشش یہ ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کیا جائے اور دہشت گردی کے واقعات سے پاکستان میں غیر یقینی کی فضا قائم کی جائے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے بعض واقعات کے بعد گزشتہ دنوں کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک بڑی مذموم کارروائی کی کوشش کی گئی۔ اس واقعہ میں آٹھ منٹ کے اندر دہشت گردوں کا جو حشر ہوا وہ بلاشبہ پاکستانی سیکورٹی اداروں، پولیس اور مقامی سیکورٹی گارڈز کا تاریخی کارنامہ ہے۔ خداوند تعالیٰ اس واقعہ میں شہید ہونے والوں کو جنت الفردوس عطا کرے اور اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو واصل جہنم کرے۔ واقفانِ حال کے مطابق حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں کچھ غدار وطن بھی شامل ہیں جو بھارت کے اشاروں پر اپنے ہی ملک کے اندر حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں بعض کا تعلق کراچی، اندرونِ سندھ اور بعض کا بلوچستان سے ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے جائیں۔ بھارتی سفارتی اہلکار کو وزارتِ خارجہ بلا کر مذمتی بیان کا کاغذ تھمانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور بھارت کو سبق سکھایا جائے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے پوری قوم کو پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہئے کہ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ اور ہر پاکستانی کا فرض ہے۔