آپ آف لائن ہیں
جمعہ23؍ذی الحج 1441ھ14؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لندن: چینی سفارت خانہ کے باہر انڈین حکومت کی آشیرباد سے ہونے والا مظاہرہ ناکام

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) لداخ میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان تصادم کے بعد لندن میں چینی سفارت خانہ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ، جس کی بھارتی حکومت نے بھی حوصلہ افزائی کی تھی، گزشتہ روز اس وقت ناکام ہوگیا جب چین کے بائیکاٹ کیلئے منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی اپیل پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صرف 20 سپورٹرز نے کان دھرے۔ ٹرن آئوٹ سے منتظمین کو انتہائی مایوسی ہوئی، جنہوں نے آکسفورڈ سٹریٹ کے نزدیک چینی سفارت خانہ کے باہر ڈائسپرا کمیونٹیز کی مظاہرہ میں شرکت یقینی بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر چلائی گئی مہم پر ہزاروں پونڈز خرچ کئے تھے جبکہ مظاہرہ کے عروج پر وہاں صرف دو درجن افراد، جن کا تعلق بی جے پی یوکے سے ہے، وہ موجود تھے۔منتظمین کا کہنا تھا کہ مظاہرہ کا انعقاد لندن میں ان کے ہائی کمیشن کے ذریعے انڈین حکومت کی براہ راست درخواست پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد لداخ کی گلوان ویلی میں گزشتہ ماہ چینی فوج سے تصادم میں درجنوں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج کرنا تھا۔ حقیقی لائن آف کنٹرول پر بائونڈری کی بھارتی خلاف ورزی کے بعد چین کے مضبوط ردعمل کا جواب دینے میں ناکامی پر بھارتی حکومت کو شدید دبائو کا سامنا ہے۔ ریٹائرڈ بھارتی جنرلوں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں چین پر جوابی وار کر کے تقریباً 35 کلومیٹر طویل سٹراٹیجک اہمیت کے حامل علاقے پر قبضہ کر لیا جائے۔ تاہم مودی حکومت نے خاموشی اختیار کر لی ہے اور ملک و بیرون ملک احتجاجی مظاہروں پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرہ کے منتظمین نے یہ تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے لئے انہیں انڈین ہائی کمیشن کے حکام نے سپورٹ کیا تھا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ مظاہرہ چین کی توسیع پسند پالیسی کی مذمت کے لئے کیا گیا تھا۔ مظاہرین، جو پلے کارڈز لئے ہوئے تھے، ان پر ’’چائنا بیک آف‘‘، ’’بائیکاٹ چائنا‘‘ اور ’’بائیکاٹ چائنیز گڈز‘‘ لکھا ہوا تھا۔ مظاہرین نے جس سائونڈ سسٹم پر اکتفا کیا وہ ایرانی مظاہرین کا تھا جوکہ ایرانی حکومت کے خلاف نعرے بازی اور شاہ ایران کی فیملی کو واپس اقتدار میں لانے کے مطالبات کر رہے تھے۔

دنیا بھر سے سے مزید