آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشن گٹھ جوڑ: حکومت کو پھر بھی کوئی خطرہ نہیں

وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ طلب کرنے کے بعد اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں میں رابطوں سے حکومت کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی بننے کا امکان پیدا ہو گیا ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کو عمران خان حکومت کے خلاف عوامی احتجاج شروع کرنے سے قبل سوچنا ہو گا کہ سڑکوں کی لڑائی کے نتجہ میں سندھ میں گورنر راج بھی لگ سکتا ہے۔ 

پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی بڑی تبدیلی کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اس کے نتیجہ میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پہلے سے لئے گئے قرضے خود بخود بڑھ جاتے ہیں اور ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے قرضے لینے پڑتے ہیں، گزشتہ پچاس برسوں کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات کے نتیجے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملک دولخت ہو گیا، مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلا دیش وجود میں آگیا، مغربی پاکستان میں اکثریتی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے صدر یحییٰ خان سے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار لیا۔

1973ء کا آئین مرتب ہوا، جسے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے متفقہ طور پر تسلیم کیا، ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں نئے انتخابات کروائے ان کے مخالفین نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کرکے تحریک شروع کر دی اور آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کی تحریک شروع کر دی، حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کو روکنے کے لئے فوج کو طلب کیا گیا لاہور اور کراچی میں امن وامان قابو میں رکھنے کے لئے فوج کو گولی بھی چلانا پڑی مگر پھر حالات ہاتھ سے نکل گئے اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا جس کے نتیجہ میں برطرف وزیر اعظم دو برس تک جیل میں رہا اور قتل کے الزام میں اسے پھانسی دے کر بندوقوں کے پہرے میں اسے لاڑکانہ آبائی گائوں رتو ڈیرو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

1993 ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہو گئیں،محمد خاں جونیجو کا گروپ نواز شریف کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کے اقتدار میں شریک ہو گیااور پنجاب میں میاں منظور احمد وٹو کی حکومت بنی۔ شوکت عزیز کے دور حکومت میں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی تھی نواز شریف نے وطن واپسی کا پروگرام بنایا پہلے چھوٹا بھائی شہباز شریف جدہ سے لندن گیا اور خصوصی پرواز کے ذریعے آنے کی کوشش کی جسے اترنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ 

اس کے بعد نواز شریف نے لندن سے ہی آنے کی کوشش کی مگر اسے بھی اسلام آباد ایئر پورٹ سے باہر ہی نہیں نکلنے دیا گیا دونوں کو واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا ۔ پنجاب میں ن لیگ اکثریت میں رہی دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کیا، وفاق میں ن لیگ کو جبکہ پنجاب میں پی پی پی کے ارکان کو کابینہ میں رکھا گیا، دونوں مل کر بھی بہت اچھے نتائج نہ دے سکے اور ن لیگ نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے ان کے لوگوں کو بھی کابینہ سے نکال دیا۔ 

جس پر پنجاب میں گورنر راج نافذ کرکے ن لیگ کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا، اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی کال کی قیادت سنبھال لی، لانگ مارچ ابھی گوجرانوالہ بھی نہ پہنچا تھا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے معطل ججز کی بحالی کا اعلان کر دیا، باقی کا دورانیہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے لڑتے جھگڑتے گزار دیا اس دوران یہ تاثر بھی قائم ہو گیا کہ دونوں جماعتیں باری لیتی ہیں عوام کو کچھ نہیں ملتا۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ 2018 ء کے انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی عمران خان کی حکومت کو انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ’’سلیکٹڈ ‘‘ کہا جا رہا ہے مگر دونوں بڑی جماعتیں ان کے اقتدار کو تسلیم کرنے کے باوجود کرپشن کے الزامات بھگت رہی ہیں اور یہی عمران خان کی اب تک کی کامیابی ہے پی ٹی آئی پہلی سیاسی جماعت ہے جس کی قیادت ماروثی نہیں چونکہ نئی سیاسی جماعت ہے تبدیلی کا عزم لے کر آئی تھی، عمران خان پر بھی کرپشن کے الزام لگائے جا رہے ہیں مگر عدالت عظمیٰ انہیں صادق اور امین قرار دے چکی ہے، غیر منتخب اور اسٹیبلشمنٹ کے چہتے لوگوں کی بھرمار کی وجہ سے بھی کئی خرابیاں جنم لے رہی ہیں مگر اقتدار کے منظر نامے سے عمران خان ابھی کہیں جاتا نظر نہیں آتا یہ بات تو طے ہے کہ کسی نے اسے جانے کے لئے نہیں کہنا اگر وہ خود چھوڑ جائے تو الگ بات ہے اور تبدیلی کے خواہاں تو یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید عمران خان بہتری کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو جائے اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے اندر جمہوریت کو مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کر لیں کیونکہ جمہوریت ہماری ضرورت ہے اور اس کے بغیر ہم اکٹھے بھی نہیں رہ سکتے، ہمارے بہت سے مسائل ہیں۔

کورونا اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ہماری معیشت اس کے لئے ضروری لاک ڈائؤن کو طویل کرنے کی معاشی ہمت نہیں رکھتی، ٹڈی دل ہماری فصلوں کی تباہی پر تلی ہوئی ہے، غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ہم ڈیم بنانے کی بجائے پٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس پر چلنے والے جنٹریٹروں سے بجلی پیدا کر رہے ہیں جو ہمیں ڈیم کی بجلی سے کئی سو فیصد مہنگی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بدنیت سرمایہ کاروں کا بھی سامنا ہے جو ہمارے سیاستدانوں اور بیورو کریسی کو کک بیکس دے کر قوم کو لوٹنا اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں ،قوم کو متحد اور ایماندار بنانے کی ضرورت ہے اس کے لئے عمران خان جو بھاشن دیا کرتا تھا وہ بہت اچھے لگتے تھے مگر عملی زندگی میں ابھی بہتری کی امید نظر نہیں آرہی، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہر الیکشن پر عوام توقع کرتے ہیں کہ آنے والے حکمران ان کے لئے بہتری لائیں گے مگر نتیجہ الٹ ہی نکلتا ہے پچھلے دور میں بجلی کی قلت تو ختم کر دی گئی مگر وہ بجلی مہنگی ہے اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیم بنانے کی بھی ضرورت تھی جس پر توجہ نہیں دی گئی، اب کورونا کے اختتام پر مقابلہ کرنا ہے دنیا سے ،قرضہ کام کرکے ہی اترے گا، ایکسپورٹ بڑھانا ہو گی، سیاحت کو فروغ دینا ہو گا، ڈالر تبھی آئیں گے، قرضہ اتار کر ہی باعزت قوم بن سکتے ہیں، بھارت سے کشیدگی کی وجہ سے دفاع ہماری ضرورت ہے، مقروض قومیں دفاع کے قابل نہیں رہتی اور اس بات کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے کہیں ہمیں ایٹمی ہتھیار چلانے کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ 

پچاس برسوں کی تاریخ پر توجہ دی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1977ء سے 1988ء تک گیارہ برس اور 1999ء سے 2008 تک نو برس ملک میں عسکری حکومت تھی لیکن اگر حقیقت پسندی کا برملا اظہار کیا جائے تو آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں 50 برسوں سے آمریت چل رہی ہے اس کی شکل بدلتی رہتی ہے غیر ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ ملک میں جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے 50 فیصد لوگ غربت سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے علاقائی، نسلی، صوبائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات بھی موجود ہیں اور ایسا کوئی بھی گروپ تخریب کار یا دہشت گرد غریبوں کو دانہ ڈال کر خرید سکتا ہے، اصل حکمرانوں کے لئے یہ بات توجہ طلب ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید