آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسکولوں میں جنسی ہراساں کرنے کے واقعات ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ، یہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں مضبوط معاشرتی اور انصاف کے نظام کی وجہ سے یہ چیزیں ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارے ملک میں ، خواہ وہ نجی اسکول ہوں یا سرکاری اسکول ، جنسی ہراسانی کے واقعات بہت زیادہ پائےجاتے ہیں، مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ واقعات بلخصوص نجی اسکولوں میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

میری نظر میں اس کی خاص وجہ اسکول انتظامیہ کی تعلیم و تربیت کی سرگرمیوں میںکمی اور منافع خوری (بھاری بھرکم فیسوں) میں زیادہ ہونا لگتی ہے ۔ ہم نے ہمیشہ سے سنا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی لہذا اس معاملے میں استاد اور شاگرد دونوں ہی قابل تعزیرہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں استاد کا وہ مقم نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا، البتہ کچھ تعلیمی اداروں میں اب بھی صورتحال بہتر ہے۔ 

اس کی وجہ ا سکول انتظامیہ کی کاوشوں میں کارفرما ہے، جو وقتاً فوقتاً تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ بچوں ، اساتذہ اور انتظامیہ کے آپس میں نظم و ضبط، احترام، رواداری ، سزا و جزا اور باوقار خلوص کو پروان چڑھانے میں سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں۔ جنسی حراسانی کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ جس طرح تعلیمی ادارے اچھے نمبر لانے والے طلباء کو بہترین طلباء قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ ہر جائز اور نا جائز چیز کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اچھے نمبر لانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے دماغی طور پر تیار ہوتا ہے، ایسے میں بچے کو استاد ہی وہ واحد ذریعہ نظر آتا ہے جو اس کو ممکن بنا سکتا ہے اور اگر استاد منفرد شخصیت کا مالک ہے تو یہ اور بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ 

اس کا مطلب یہ ہےکہ بچہ سخت محنت کے بجائے استاد سے دوستی پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے بچے کے رویئے میں تبدیلی، جیسے استاد سے اکیلے میں بات کرنے کی کوشش کرنا ، استاد کے جانے تک کلاس میں بیٹھنا یا کوریڈور میں استاد کا انتظار کرنا یا پھر سر ، آج کی کلاس بہت اچھی تھی ، مجھے بہت مزہ آیا ، اگر مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ہے تو کیا میں آپ کو میسج بھیج سکتا ہوں ؟ سر آپ اچھے لگ رہے ہو آج یامجھے پڑھائی سے پریشانی ہوتی ہے ، زندگی مجھے پریشان کرتی ہے، دوسرے اساتذہ بہت سخت ہیں ، آپ اچھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ میٹھے الفاظ ہیں جنہیں استاد کو ذرابھی نظرانداز نہیں کرناچاہئے کیونکہ یہ استاد کے لیے دوستی کی علامات ہوسکتی ہیں ، ایسے میں اگر استاد کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیتا ہے اور اس کو نظرانداز کرتا ہے ،تب طالب علم منفی رویہ اختیار کرتا ہے، استاد کی مخالفت میں کھڑ ا ہو جاتا ہے اور بے بنیاد الزامات لگانا جیسے سر اچھا نہیں پڑھاتے، سر بہت سخت ہیں ، سر نمبر نہیں دیتے اور یا استاد کے سوال کا جواب نہ دینا، جیسی حرکتیں شروع کرتے ہیں ۔ 

اس دوران کارروائی نہ کرنے کی صورت میں بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے ،جن کی کہانیاں ہم اکثر سوشل میڈیا پر نظرآتی ہیں۔ ان حالات میں استاد کے کردار کا امتحان شروع ہو تا ہے اور یہیں سے استاد کے لیے دو راستے نکل آتے ہیں، ایک یہ کہ جس پر استاد اپنا پیشہ، ہنر اور وقار کی بلندیوں پر جاتا ہے اور دوسرا شرمناک نتائج کی طرف۔ ایسے میں بیشک استاد بچے کی بات ضرور سنے بلکہ حوصلہ افزائی بھی کرے مگر اکیلے میں نہیں بلکہ سب کے سامنے تا کہ بچے کے اندر محنت کرنے کا شوق اور احترام کرنے کا جذبہ اجاگر ہو اور ساتھ ساتھ یہاں ایک اور بات ذہن نشین کرنے کے ضرورت ہے کہ بہتر تعلیم اسکول میں اور بہتر تربیت گھر میں دی جاتی ہے۔

ایک تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ بچے زیادہ قابل، اصول پسند اور نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں جن کے والدین ان پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ یہاں سختی سے مراد بچوں کو ڈانٹنا، مارنا یا تشدد کرنا نہیں بلکہ بچوں کو سمجھانا ہے جیسے کہ سیٹ بیلٹ باندھنا کیوں ضروری ہے؟ یا موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہننا کیوں ضروری ہے ؟ کچرے کو گاڑی سے باہر کیوں نہیں پھینکنا چاہئے ؟ ٹریفک کے لال بتی پر کیوں روکنا چاہئے ؟

اسی طرح بچوں کو قانون کا احترم کرنا ، بڑوں کا ادب کرنا اور ان کے سوالوں کا جواب دینا اساتذہ اور والدین دونوں کی ذمےداری ہے۔ اگر بچے کو ہم’ گڈ ٹچ‘ اور ’بیڈ ٹچ‘ سمجھا سکتے ہیں تو کیا زندگی کے بنیادی اصول سمجھا نہیں سکتے ؟ ایسا بالکل نہیں ہے ، بس باشعور نسل پیدا کرنے کی نیت ہونی چاہیے۔ یہ درست بات ہے کہ آج کل کے بچے ان باتوں کو آسانی سے نہیں سمجھتے اس کے لیے با ہمت ہونا ضروری ہے۔ 

بلکہ میرے حساب سے سب سے پہلے خود والدین کو بھی متوازن زندگی گزارنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کیونکہ آج کل کی نفسا نفسی کے دور میں انسان مادی وسائل کے شکار زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آرام طلبی کو متوازن زندگی کے اصول پر ترجیح دیتا ہے۔جان لیں کہ ہم نہ ختم ہونے والی اور نہ روکنے والی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں اور ان سے نمٹنے کےلیے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہوگا، خصوصاً والدین کو پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہوگی اور بچوں کو مناسب وقت دینے کے ساتھ ساتھ ان پر ہروقت نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ بچے کی کارکردگی اور تربیت کو اور اچھا کرنے کےلیے اسکول کے اساتذہ اور کیرئیرکونسلر کے ساتھ وقتاً فوقتاً ملاقاتیں کرنا بھی بہت ضروری ہیں ۔