آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قارئینِ کرام! ماہِ آزادی میں پاکستان کی بنی تاریخ اور حال کی صورتحال کا مختصر ترین جائزہ ’’آئینِ نو‘‘ کی روایت بن گئی ہے۔ مقصد نئی نسل کو پاکستان مخالف مہلک پروپیگنڈے کے اثرات سے بچانا اور حالاتِ حاضرہ کی روشنی میں موجود اور ظہور پذیر قومی ضروریات کی نشاندہی ہے۔ یہ ہماری بطور قوم مطلوب و مسلسل کیپسٹی بلڈنگ کا مستقل تقاضا ہے۔

آج کی واضح صورتحال یہ ہے کہ کتنے ہی حوالوں سے گھمبیر ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال میں بھی مستقبل قریب میں پاکستان کے تابناک بننے کی دھیرے دھیرے سنائی دیتی نوید بلند ہو رہی ہے، اس میں یکدم تیزی رواں ماہِ آزادی شروع ہوتے ہی آئی۔ اس سے قبل کہ اس کا جائزہ لیا جائے، لازم ہے کہ ہم اب تک بنی 73سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے ساتھ کیا ہوا؟ ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والا آئینی بحران، حتیٰ کہ متفقہ آئین 1973بنتے اور نافذ ہوتے ہی سول حکومت کے اس پر عملدرآمد سے مکمل اور مسلسل گریز نے، مستقل نوعیت کے آئینی بحران اور اس کے بڑے حصے کو مفلوج رکھنے کے ارتکاب نے پاکستان کی پہچان ’’مستقل بحران میں رہنے والے ملک‘‘ کے طور پر قائم کردی۔ اس سے قبل پاکستان کے اڑھائی عشرے کی تاریخ میں دو مکمل اور ایک جزوی مارشل لا لگا۔ پہلا عشرہ تو مکمل سیاسی عدم استحکام میں مبتلا رہا۔ پہلے ہی عام انتخاب (1970)کا نتیجہ قومی اسمبلی کے ڈھاکہ میں بلائے گئے اجلاس کی مغربی پاکستانی پارلیمانی طاقت کی مارشل لا حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ سے سخت مزاحمت اور مشرقی پاکستان کے شدید ردعمل کو ملٹری آپریشن سے کنٹرول کے نتیجے میں پاکستان کو دو لخت کرنے والا سقوط ڈھاکہ کا المیہ ہماری تاریخ کو داغدار کر گیا۔ باقیماندہ پاکستان نے یہ سبق لیا کہ متفقہ آئین تو بنا دیا لیکن تادمِ اختتام حکومت (1972-77)اسے لپیٹ کر پھر سیاسی عمل کا آغاز فسطائی طرز کی سول حکومت سے ہوا۔ نتیجہ ملک کی تقدیر میں پھر دو، عشرے عشرے بھر کے اور ایک جزوی مار شل لا، چار کرپٹ نیم جمہوری منتخب حکومتیں اور ایک موجود پیچیدہ تبدیلی حکومت لکھی گئی۔ 73سال کی اس تاریخ میں بھارت سے دو بڑی فل اسکیل کی دو محدود جنگیں اور درجنوں سرحدی جھڑپیں، یہ سلسلہ ہنو ز جاری ہے۔ پاکستان دو بڑی عالمی طاقتوں کی جنگ میں فرنٹ لائن پارٹنر اور 3عشرے تک امریکہ کے دفاعی معاہدوں کا فریق رہا۔ قوم ترقی کے عشروں کی بینی فشری بھی بنی اور تنزلی کے عشروں میں بنی بنائی قومی معیشت ریورس کے ساتھ برباد بھی ہوئے۔عوامی خدمت کے واپڈا، پی آئی اے، اسٹیل مل جیسے مثالی ادارے بنے بھی اور اجڑے بھی۔ اسی المیے کے فقط دو سال بعد متفقہ آئین بھی بن گیا لیکن مارشل لائوں اور برائلر جمہوری ادوار کی مجموعی ذہنیت اور مفادات کے باعث قومی سیاست و حکومت پر دو نمایاں اور چند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی، جو ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹی الٹی تیسری قومی پارلیمانی قوت جو موجود وزیراعظم کی 22سالہ جہد مسلسل سے قائم ہوئی وہ خود اقتدار میں آتے ہی اسٹیٹس کو کی ابتری میں جکڑی گئی۔ کورونا وبا کے عالمی بحران کو کم سے کم انسانی و معاشی نقصان کے لئے اسمارٹ مینجمنٹ کرنے والے پانچ کامیاب ترین ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے، جو عمران حکومت کی پہلی اور نتیجہ خیز کامیابی ہے۔ بلاشبہ یہ ایسی کامیابی ہے جس نے گندم، چینی، پٹرول اور نہ جانے کون کون سے مافیا کو قابو کرنے میں مکمل ناکامی پر اس کامیابی کو حاوی کر دیا ہے۔ اگر عمران نے اپنی حکومتی اپروچ سے کوئی شفاف اور اہل کابینہ اور صوبائی سیٹ اپ تشکیل دے لیا تو یقیناً ملک اور عوام کا بھلا ہوگا۔

حکومت کو ہر حال میں اشیائے خورونوش کے دس بارہ بنیادی استعمال کے آئٹمز کی قیمتوں اور آسان دستیابی میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ سستی ٹرانسپورٹ عام کر دی اور بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں پر قابو پالیا اور پبلک اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں میں وسعت پیدا کر دی تو پھر وہ بڑے دور رس نتائج کے حامل ترقیاتی اہداف حاصل کرنے پر فوکس کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ باقی دوست اور قریبی ممالک کے باہمی مفاد اور اشتراک میں ہم آہنگی کی برکات سے یکدم خوشحالی کے گراف میں تیزی تو یقینی ہو گئی۔خارجہ پالیسی کی روایتی سوچ میں بڑی حیران کن تبدیلی بھی بڑے نتائج دے گی۔ مملکت خدا داد پر یہ اللہ کا خاص فضل وکرم ہےکہ بھارت جو اپنی بڑھتی غربت اور برباد ہوتی معیشت پر ہمیں تنہا اور کمزور کرنے پر 6سال سے فوکس کئے ہوئے ہے، اس کا فاشسٹ وزیر اعظم اس جنوبی ایشیا میں شعر کی تصویر بن گیا ہے ۔

میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں

خود اپنی چاپ سن کر لرزہ براندام ہو جائے

رہا بحرانی پاکستان، بڑی تیزی سے پوری دنیا میں پرامن اور اہم عسکری طاقت، عالمی اقتصادی استحکام کی جدوجہد اور نئی اتحادی صف بندی کا بڑا کردار بن کر ابھر ا ہے۔ آئی پی پیز کا حکمران دوست اور عوام دشمن استحصالی بزنس زد میں آ چکا، پن بجلی (ہائیڈل پاور) کے گیارہ ہزار میگاواٹ کے آٹھ منصوبے پائپ لائن میں آ گئے۔ کوہاٹ کے قریب تیل کے محدود ذخائر میں وسعت کے امکانات حوصلہ افزا تک بڑھ گئے۔ کنٹرکشن اور بیمار ٹیکسٹائل انڈسٹری بحال ہو گئی ،پنجاب میں ری پروڈکٹیو ہیلتھ (زچہ بچہ صحت) کے سات بڑے اسپتال بن رہے ہیں شجرکاری کے حکومتی ایجنڈے کی برکات تو بہت زیادہ ہوں گی قومی انفراسٹرکچر میں انقلابی تبدیلیوں کا عمل شروع ہوچکا۔ ای گورننس کی طرف آنا پڑےگا یقین ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان تابناک ہونے کو ہے خان اعظم درست کہتا تھا گھبرانا نہیں۔

مشکل نیست کہ آساں نا شود

مرد باید کہ ہراساں نہ شود