آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستانی تاجر سخت قوانین سے مشکلات کا شکار، رپورٹ

اسلام آباد(مہتاب حیدر) آئی ٹی سی/عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی تاجر سخت قوانین کیوجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر 7 ارب ڈالرز کی برآمدات خطرات سے دوچار ہے۔ تفصیلات کے مطابق، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (آئی ٹی سی) اور عالمی بینک کی نئی شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی برآمدکنندگان کی پچاس فیصد تعداد بیرون ممالک میں تجارت سے متعلقہ قوانین اور طریقہ کار پر عمل درآمد کرنے سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آسٹریلیا کی امداد سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کا عنوان، تجارت میں غیر مرئی رکاوٹیں: پاکستان کا کاروباری تناظر، ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر سے رکھ رکھائو اور برآمدات میں اضافہ پاکستان کی اقتصادی ترقی خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے روزگار کے مواقع کے لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔

2024 تک پاکستان کی برآمدات بڑھ کر 12 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، ممکنہ طور پر 7 ارب ڈالرز کی برآمدات خطرات سے دوچار ہے، جس کی وجہ عدم شفافیت اور نان ٹیرف اقدامات جیسا کہ چھوٹے کاروبار کے لیے جو کہ بیرون ممالک تجارت کے خواہاں ہیں۔

لہٰذا برآمدات کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات حکومت کو کرنا ہوں گےاور بہترین تجارتی پالیسی بنانا ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ٹیسٹنگ، سرٹیفکیٹس اور لائسنس کا اجرا، صارفین کا تحفظ اور قدرتی وسائل کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کے تاجروں کو خصوصاً نان ٹیرف اقدامات (این ٹی ایمز) کا سامنا ہوتا ہے۔

پاکستان میں این ٹی ایم بزنس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 49 فیصد چھوٹی کمپنیاں اور 57 فیصد متوسط درجے کی کمپنیاں نان ٹیرف اقدامات کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں، جب کہ 54 فیصد بڑی کمپنیاں اسے بوجھ سمجھتی ہیں۔ ان میں آدھے سے زیادہ مسائل جیسا کہ برآمدی انسپکشنز، ٹیکس ریفنڈز اور برآمدی سرٹیفکیشن سے متعلق ہیں۔ یہ رکاوٹیں برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان کو مختلف طریقے سے متاثر کرتی ہیں اور ان کے اثرات بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔

51 فیصد پاکستانی برآمدکنندگان اور 46 فیصد درآمد کنندگان کے لیے قواعد و ضوابط کے ان طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہوتا ہے۔ 60 فیصد زرعی برآمدکنندگان ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں 47 فیصد پاکستانی کمپنیاں جو مینوفیکچرڈ اشیا برآمد کرتی ہیں مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔

تکنیکی اقدامات برآمدکنندگان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ 43 فیصد مسائل ایشیائی ممالک میں قواعد وضوابط سے متعلق ہیں(جس میں سارک شامل نہیں ہے) اور خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل کے ارکان شامل ہیں۔ 36 فیصد غیرملکی قواعد وضوابط یورپی ہیں۔ پاکستانی برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ یورپی قوانین پر پورا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ جب کہ اس میں سارک ممالک صرف 5 فیصد مسائل کا سبب ہے۔

انفرادی ملکی سطح پر متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے قواعد وضوابط میں شامل ہے، ان کا حصہ 8 فیصد ہے۔ جرمن اقدامات 6 فیصد، اومان اور امریکا کا حصہ پانچ پانچ فیصد ہے۔ کوالٹی انفراسٹرکچر اور کوالٹی عمل درآمد برآمدی نمو کے لیے ضروری ہے۔

آخر میں پاکستانی تجارت کے قواعد وضوابط میں برآمدکنندگان کو سہولت فراہم کی جانی چاہیئے۔ اس حوالے سے پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ جب کہ کسٹمز میں برآمدی انسپکشن کے عمل میں بھی بہتری لانی چاہیئے۔ چھوٹے کاروبار کی معاونت کے ذریعے برآمدی کامیابی کے لیے بھی ان کی مشکلات کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

اس سروے کا بنیادی مقصد بھی کاروبار کے ساتھ براہ راست روابط کے ذریعے اہم مسائل کی شناخت ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کے سابق کنٹری ڈائریکٹر الانگو پچھاموتو کا کہنا تھا کہ نان ٹیرف اقدامات عام طور پر انسانوں، جانوروں اور پودوں کی صحت کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ کوالٹی کا معیار اور صارفین کو پیداواری طریقہ کار سے آگاہ کیا جاسکے۔

جو کہ کبھی کبھار تجارت کی راہ میں مسائل کا سبب بن جاتا ہے۔ نان ٹیرف اقدامات پر عمل درآمد کمپنیوں کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے اور درست معلومات کے حصول کے لیے سخت طریقہ کار مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید