آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ کمیٹی: سی ای او کےالیکٹرک کی عدم پیشی پر چیئرمین برہم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا فدا محمد کی زیرصدارت اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ قائمہ کمیٹی میں کےالیکٹرک میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ پر بحث ہوئی۔

 چیئرمین کمیٹی نے اس موقع پر کہا کہ آج تیسری مرتبہ سی ای او کےالیکٹرک اجلاس میں نہیں آئے، ہم کراچی کے عوام سے زیادتی نہیں ہونے دیں گے، چیئرمین کمیٹی نے خصوصی سیکرٹری برائے توانائی سے سوال کیا کہ بتائیں کیا کیا جائے؟ 

خصوصی سیکرٹری برائے توانائی نے کہا کہ کے الیکٹرک ایک نجی کمپنی ہے، جس پر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ نجی ہو یا سرکاری کوئی پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کےالیکٹرک نیشنل گرڈ سے 800 میگاواٹ بجلی لے رہی ہے۔

 ڈاکٹر غوث خان نیازی نے کہا کہ اگروہ نہیں آئیں گے تو حکومت سے کہیں گے بجلی روک دے۔

مشاہداللّٰہ خان نے کہا کہ کےالیکٹرک سے لوگ بہت تنگ ہیں۔ کے الیکٹرک کی مثال وہ ہے کہ ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری ہے، انہوں نے چیئرمین کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ سی ای او کےالیکٹرک کے وارنٹ گرفتاری جاری کرائیں، جب سے کےالیکٹرک کی نجکاری ہوئی انہوں نے کراچی کے عوام کو مار دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی ای او کےالیکٹرک کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے۔

ڈائریکٹر کےالیکٹرک سجاد اصغر شاہانی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کمیٹی کا احترام کیا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  ہم سی ای او کےالیکٹرک کو صرف ایک اور موقع دیں گے، ڈائریکٹر کےالیکٹرک نے کہا کہ مجھے ایک مرتبہ سن لیا جائے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ڈائریکٹر کےالیکٹرک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ  ہم آپ کو نہیں سنیں گے۔

مشاہداللّٰہ خان نے کہا کہ کےالیکٹرک تانبے کی تاریں بھی بیچ کر کھا گئی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایس ڈی جیز فنڈز سے ٹیسکو دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔

مولا بخش چانڈیو نے کمیٹی چیئرمین کو آگاہ کیا کہ حیسکو کے تین انجینئرز کو افسر سے تلخ کلامی پر ٹرانسفر کر دیا گیا، یہ کونسا ظلم ہے کہ ایک سال سے ان کی تنخواہ بھی بند ہے، مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سارے قانون سندھ کے لیے ہیں کونسا قتل ہو گیا تھا۔ 

خصوصی سیکریٹری پاور منیر اعظم نے کہا کہ انجینئرز نے اپنے افسر سے بدتمیزی کی، جس کی انکوائری ہوئی۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ان تنیوں انجینئرز کو واپس وہاں نہ لگائیں مگر صوبے میں واپس لائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان انجینئرز کو پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید